ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی اور خفیہ سعودی اسرائیلی تعلقات


ٹرمپ انتظامیہ نے نئی ایران پالیسی کا اعلان کر دیا گیا۔ کہنے کو یہ نئی پالیسی ہے مگر ذرا باریک بینی سےاس پالیسی کا جائزہ لیا جا ئے اور ایک نگاہ ان دونوں ممالک کے معاملات کی تاریخ پر ڈالی جائے تو نہایت آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پالیسی میں نیا کچھ نہیں۔ الفاظ کا چناؤ، جملوں کی ادئیگی اور لہجے کی سختی سب پرانا ہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی تقریر کے دوران یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بش اور اوبامہ کی ایران پالیسی سے متعلق تقاریر کو دہرایا جا رہا ہے۔ اس نام نہاد نئی ایران پالیسی کے صرف دو نکات ہی ایسے ہیں جن کو نیا کہا جا سکتا۔ اول پاسداران انقلاب فورس پر پابندیاں۔ دوئم ایرانی جوہری معاہدہ کی تنسیخ۔ یہا ں یہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ پاسداران انقلاب پر پہلے ہی امریکہ اور یورپ کی طرف سے بہت کڑی پابندیاں عائد ہیں۔ جوہری معاہدے کی تنسیخ کا معاملہ ٹیکنیکل اور قانونی ہے۔ اس پر دیکھنا پڑے گا کہ کیا ان حالات میں امریکہ قانونی طور پر اس معاہدے کی تنسیخ کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔

۔ ’’ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر ایران کے عزائم کوناکام بنادیں گے‘‘ بظاہر تو ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ جملہ کئی دہائیوں سے امریکی صدور کی تقاریرکا فالو اپ ہی تھا مگر اس بار اس جملے نے سر زمین عرب کے بہت سارے پراسرار معاملات کی گتھی کو آسان کر دیا۔ اسرائیل کی طرف سے فلفور امریکی پالیسی کا خیر مقدم کیا گیا۔ ایک روز بعد سرزمین عرب پر امریکہ کے دوسرے بڑے اتحادی سعودی عرب نے بھی اس نئی امریکی پالیسی کی حمایت کر دی۔

سرزمین عرب کی سیاست دن بدن ایک نیا رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ شام کی جنگ اپنی تمام تر تباہیوں اور بربادیوں کے ساتھ ایک نئے فیز میں داخل ہو رہی ہے۔ گزشتہ ماہ روسی وزیر دفاع کے سخت ترین بیان جس میں کہا گیاتھا کہ شام میں دہشتگردوں کی شکست دیکھ کر ممکن ہے اسرائیل اور سعودی عرب براہ راست اس جنگ میں کود پڑیں کہ بعد چشم فلک نے اس ماہ سعودی فرمانروا کو روس کا دورہ کرتے اور اس دورے میں 3 بلین کے دفاعی معاہدوں پر دستخظ کرتے بھی دیکھا۔ اس دورے کو دیکھ کر بلاشبہ یہ کہاجا سکتا ہے اپنے مقاصد کی تکمیل اور ایران کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنے کے لیے سعودی عرب کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

کہاں ایک وہ زمانہ بھی تھا جب یہ بات سوچی بھی نہیں جا سکتی تھی کہ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات بھی ہیں یا کبھی ہو سکتے ہیں۔ اپریل 2016 پانامہ پیپرز کی اشاعت نے دنیابھر کی سیاست میں ایک بھونچال بھرپا کر دیاوہیں پہلی بار اس راز پر سے بھی پردہ اٹھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے نہ صرف تعلقات ہیں بلکہ یہ تعلقات ہر دور میں رہے ہیں۔ اخبار مڈل ایسٹ آبزرور میں شائع شدہ 8 مئی 2016کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شامی نژاد ہسپانوی مڈل مین کے ذریعے اسرائیلی جنرل الیکشن میں موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے دوران 8 ملین ڈالر کی ایک خطیر رقم سے ان امداد کی۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق رقم کی منتقلی کے لیے برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایک کمپنی کا اکاوٗنٹ استعمال کیا گیا جس کا مالک ایک اسرائیلی بزنس مین ٹیڈی سیگی ہے۔ گو کہ سعودی حکومت نے اس دعویٰ کی سختی سے تردید کی مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

22 جولائی 2016 کو ”دی ٹائم آف اسرائیل“ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا کے مشیر خاص سابق ریٹائرڈ جنرل انور ایشکی نے یروشلم کا دورہ کیا اور اسرئیلی آفیشلز سے ملاقتیں کی۔ پہلے تو سعودی عرب نے اس خبر کی تردید کی مگر بعد میں جب سوشل میڈیا کی توسط سے اس انتہائی اہم خفیہ دورے کی تصاویر دنیا کے سامنے آئیں تو اس ملاقات کی تصدیق کر دی گئی۔

9 ستمبر2017 ” دی یروشلم پوسٹ ” کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ہائی آفیشل عرب شخصیت نے ستمبر 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا اور ا س دورہ میں اسرائیلی وزیراعظم سمیت کئی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق یہ شخصیت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان روابط کی خبروں میں تیزی رواں برس سعودی عرب اور قطر کشیدگی کے بعد آئی۔ جولائی 2017 اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویومیں اسرائیلی وزیر اعظم نے بڑے فخر سے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کیا۔ اس سال اسرائیلی وزیراعظم کا یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کا برملا اظہار، مصر کے صدر جنرل سیسی کا جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران عرب ممالک پر زور دینا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں اور بحرین کا نہ صرف اسرائیل کا بائیکاٹ ختم کرنا بلکہ اپنے شہریوں کی اسرائیل میں سفر پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جو بھی ہو رہا ہے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کی مرضی سے ہو رہا ہے۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ عرب ممالک با لخصوص سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اسرائیل فلسطین میں اپنی غیر قانونی سرگرمیوں میں تیزی لا رہا ہے۔ غزہ پر اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو دس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس وقت بھی جب میں یہ بلاگ لکھ رہاہوں بریکینگ نیوز یہ ہے کہ اسرائیلی جیٹ طیارے غزہ پر نیچی پروازیں کر رہے ہیں۔ مغر بی کنارے میں اسرائیل کی غیر قانونی کالونیاں اور مسجد اقصیٰ کی فلسطینیوں کے لیے بندش تو معمول کی بات ہے۔ ماہ اگست میں شائع ہونے والی ” دی اسرائیل؛ انفارمیشن سنٹر فار ہیومن رائٹس ”کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ماہ اگست میں 133 فلسطینی بچوں کو غیرقانونی طریقے سے اسرائیلی فوج نے اغوا کیا۔ 9 اگست2016 کو الجزیرہ نیوز چینل پرنشر کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ماہ جولائی اور اگست میں 1268 فلسطینیوں کو اغوا کیا گیا۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات کا مقصد ایران کے خلاف ایک مضبوط اتحاد بنانا ہے۔ شاید اسرائیل کی ان تمام تر بدمعاشیوں کے باوجود اس سے تعلقات قائم کرنے سے سعودی عرب کو ایران پر برتری حاصل ہو جائے مگر اس کے بعد جو برتری اسرائیل کو حاصل ہو گی اس سے اسرائیل کوعرب میں روکنا ناممکن ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS