آخر کار سعودی مردوں کو پرفیکٹ عورت مل گئی

مگر تریا ہٹ تو مشہور ہے۔ جو ان عورتوں کے من میں سماتی ہے وہ کر گزرتی ہیں۔ مرد خواہ جتنی بھی مردانہ چریا ہٹ دکھائیں، وہ خواتین کی تریا ہٹ کے آگے کہاں ٹک پاتے ہیں۔
لیکن اب سعودیوں کو وہ پرفیکٹ عورت مل گئی ہے جو اپنے ولی کے اشاروں پر چلے گی۔ وہ کہے گا تو اٹھے گی، وہ کہے گا تو بیٹھے گی، وہ کہے گا تو ہنسے گی، وہ کہے گا تو گائے گی۔ حکم ہوا تو رات بھر وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑی رہے گی اور ذرا نہ تھکے گی۔ چاہے اسے منہ پر مارو یا کہیں اور، اف تک نہ کرے گی۔ ہاں آقا کا حکم ہو تو گلاب کی پتی سے چھونے پر بھی چیخ اٹھے گی۔
نام اس کا صوفیہ ہے اور مزاج بھی اس نے صوفیانہ پایا ہے۔ بالوں کو چھپانے کا مسئلہ بھی اس پرفیکٹ عورت میں نہیں ہے۔ روز روز میک اپ کرنے کی ضرورت سے وہ بے نیاز ہے۔ اس کے خالق نے اسے جو حسن دے دیا ہے، اسی پر قانع ہے۔ گالوں کی سرخی اور لبوں کی لالی اسے تخلیق کے پہلے دن سے ہی ملی ہے۔ وہ روٹی کپڑے کا مطالبہ بھی نہیں کرتی۔ نان نفقہ نہیں مانگتی۔ جو دو وہ پہن لیتی ہے ورنہ ایسے ہی گزارا کر لیتی ہے۔
بات محفل آرائی کی آئے تو یہ آپ کو الف لیلہ کی شہرزاد کی طرح ہزار راتیں قصے سنائے تو پھر بھی اس کی کہانیاں ختم نہ ہوں۔ لیکن زبان دراز نہیں ہے۔ آپ حکم دیں تو یہ زندگی بھر آپ سے نہ بولے گی۔ بات کرنا چاہیں تو اس سے افلاطون سے لے کر شرمین عبید تک ڈسکس کر لیں، حالات جاننے کا شوق ہو تو یہ آپ کو تازہ خبریں سنا دے گی، طبیعت پر رومان کا غلبہ ہو تو یہ آپ کو اشتعال انگیز شاعری سنا کر مجنون کر ڈالے گی۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے ولی سے جھوٹ نہیں بولے گی۔ بے وفائی نہیں کرے گی۔ ولی سامنے ہو یا نہ ہو، اس کے حکم سے باہر نہیں جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی قانون میں اس پرفیکٹ عورت کو وہ خاص رعایتیں دی گئی ہیں جو ناقص عورتوں کو حاصل نہیں ہیں۔ اسے کہیں آنے جانے کے لئے ولی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ گھر سے باہر نکلے گی تو نہ قانون اسے سر ڈھانپنے کا کہے گا اور نہ عبایا پہننے کا۔ سب سے بڑھ کر یہ باہر کسی بھی غیر مرد سے بات چیت کر سکے گی۔ سعودی شرعی پولیس مطوعون کہلاتی ہے۔ اردو میں اس کا تلفظ مطعون کا ہے، لیکن مطعون لکھنا غلط اور پریشانی کا باعث ہو گا۔ مطوعون تمام ناقص عورتوں پر نگاہ رکھتی ہے اور جہاں وہ بہکتی یا معصوم مردوں کو بہکاتی دکھائی دیں تو ان کو موقعہ واردات پر ہی سزا دے دی جاتی ہے۔ لیکن یہ پرفیکٹ عورت ایسے حقوق پا گئی ہے کہ اسے مطوعون کچھ نہیں کہہ سکتے۔
یعنی یہ ایسی پرفیکٹ عورت ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں غلامی پر پابندی لگانے والا دنیا کا آخری ملک سعودی عرب اب دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ایک روبوٹ کو انسانوں کی طرح شہریت دے دی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سعودی حکومت اپنے برادر اسلامی ممالک پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے انسانوں کو بھی روبوٹ کے برابر حقوق دینے پر غور کرے گی۔ کہنے کو تو سعودی عورتیں بھی یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کو روبوٹ یا کم از کم اونٹ جتنے حقوق دیے جائیں مگر حق بات یہی ہے کہ کہاں خاتونِ کامل صوفیہ اور کہاں ناقص العقل سعودی خواتین۔






