بورڈ میں ٹاپ کرنے والی لڑکی گولی کھا کر مر کیوں نہیں گئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جھنگ کی ہیر کا قصہ آپ نے سنا ہو گا۔ رانجھا نامی ایک نوجوان سے عشق کر بیٹھی تھی۔ اس کے غیرت مند چچا کیدو نے ہیر کو پکڑ لیا تو اس کی ایک معزز خاندان میں زبردستی شادی کر دی گئی۔ رانجھا جوگی ہو گیا اور زمین کا گز بن گیا۔ پھرتے پھرتے ہیر کے سسرالی گاؤں پہنچ گیا اور بے غیرت عشق دوبارہ جاری ہو گیا۔ ہیر کے ابا چوچک نے دونوں کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر شکر ہے کہ غیرت مند کیدو وہاں موجود تھا۔ اس نے ہیر کو زہریلے لڈو کھلا کر مار دیا۔ رانجھے کو پتہ چلا تو اس نے وہی لڈو کھا کر جان دے دی۔ وارث شاہ نے دونوں کا قصہ لکھ کر بے غیرت ہیر رانجھا کو امر کر دیا اور غیرت مند کیدو کو بدنام۔

اب جھنگ سے خبر آئی ہے کہ بورڈ میں وردہ نامی ایک لڑکی نے ٹاپ کیا۔ اس کا ارادہ بنا کہ ڈاکٹر بنے گی۔ حالانکہ علامہ اقبال اپنی ڈائری میں لکھ بھی گئے ہیں کہ معاشرہ عورت بناتی ہے اور ایک مسلمان عورت کے لئے دینی تعلیم ہی بہت ہے اور اسے ایسے مضامین نہیں پڑھانے چاہئیں جن سے وہ گمراہ ہو۔

اب میڈیکل کی تعلیم سے بڑھ کر بھلا اور کیا شے گمراہ کرے گی۔ میڈیکل کالج میں نہ صرف یہ کہ نامحرم استاد ان انسانی اعضا کے بارے میں بے شرمی سے پڑھاتے ہیں جن کا نام لینا بھی بے غیرتی ہے، بلکہ کئی رانجھا نما لڑکے بھی پانچ برس لڑکیوں کے ساتھ اکٹھے پڑھتے ہیں۔ اس پر غضب یہ کہ تعلیم کا جزو یہ بنا دیا گیا ہے کہ اجنبی مردوں کی لاشوں کا مطالعہ بھی کیا جائے۔ یعنی کلاس روم سے لے کر آپریشن ٹیبل تک ہر جگہ بے غیرتی سی بے غیرتی ہے۔ اور یہ سوچا ہے کہ خدانخواستہ یہ لڑکیاں ڈاکٹر بن بھی گئیں تو کیا ہو گا؟ ان سے زبردستی نامحرم مردوں کا علاج کروایا جائے گا جن میں رانجھے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

لیکن شکر ہے کہ جھنگ میں آج بھی کیدو پیدا ہو رہے ہیں۔ وردہ کے بھائی صابر نے اس ممکنہ بے غیرتی پر صبر نہ کیا۔ اس نے پہلے تو وردہ کو سمجھایا بجھایا کہ ڈاکٹر بننا صرف لڑکوں کا حق ہے، اگر حکومت میں حمیت ہوتی تو مجھے ڈاکٹر بناتی، یہ تو کوئی بہانہ نہیں ہے کہ میں نالائق ہوں تو مجھے ڈاکٹر نہ بننے دیا جائے مگر بورڈ میں ٹاپ کرنے والی میری بہن کو میڈیکل کالج میں داخلہ دے دیا جائے۔ لیکن تمہیں اتنا ہی شوق ہے تو پہلے شادی کر لو۔ اس کے بعد اگر تمہارے غیرت مند شوہر اور سسرالیوں نے اجازت دے دی تو پڑھ لینا، گو کہ اس کا امکان کم ہے۔

مگر وردہ تو ہیر بنی بیٹھی تھی۔ اپنی مرضی چلانے پر تلی ہوئی تھی۔ کہنے لگی کہ میری زندگی کا مقصد ہی ڈاکٹر بننا ہے۔ پریشان لوگوں کا علاج کروں گی، ان کی دعائیں لیا کروں گی۔

تنگ آ کر کیدو نے پہلے تو اس کے بازو پر گولی ماری، مگر تریا ہٹ تو مشہور ہے۔ وردہ اپنے بھائی کیدو کی محبت سے گھائل نہ ہوئی۔ پیٹ میں گولی کھا کر بھی اس نے بے غیرتی نہ چھوڑی۔ نہایت تنگ آ کر کیدو نے اس کے چہرے پر گولی مار دی۔ بازو، پیٹ اور منہ پر گولی کھا کر بھی وہ بے غیرت زندہ رہی۔ کیدو ٹھیک ہی سوچتا تھا۔ وہ ڈھیٹ لڑکی کالج میں جا کر ضرور نامحرم لڑکوں کے ساتھ پڑھتی اور خاندان کا نام ہیر کی طرح بدنام کرتی پھرتی۔

اب اس لڑکی کی بے جا ضد کی وجہ سے ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔ بچارہ صابر مفرور ہے۔ محلے میں بدنامی ہوئی تو ہیر کے باپ چوچک کو مجبوراً ایف آئی آر درج کروانی پڑی کہ شادی کے جھگڑے کی وجہ سے ہیر کو گولی مار دی گئی ہے۔ پولیس بھی غیرت والی تھی۔ حتی الامکان کوشش کی مگر مجبور ہو کر بارہ دن بعد ایف آئی آر درج کرنی پڑی گئی۔ غالباً اس موم بتی والے دجالی میڈیا نے ہی یہ کام کروایا ہو گا۔

لیکن یہ لڑکی بالکل ہیر جیسی ہے۔ اپنی ضد چھوڑنے سے انکاری ہے۔ بورڈ میں ٹاپ کرنے کی وجہ سے وہ کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکتی تھی۔ مگر پہلے جھنگ ڈسٹرکٹ ہسپتال اور اب الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں داخل ہونے کی وجہ سے شاید تاریخ نکل گئی۔ اب وہ ہسپتال میں پڑے پڑے وزیر اعلی پنجاب سے اپیلیں کرتی پھر رہی ہے کہ اسے کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلہ دے دیا جائے۔ یعنی انتہا ہے بے شرمی کی۔

سارا میڈیا اسی لڑکی کا ساتھ دے رہا ہے جیسے اس پر بڑا بھاری ظلم ہو گیا ہے۔ کسی نے بچارے کیدو کے بارے میں سوچا ہے جو پتہ نہیں کہاں بھگوڑے کی زندگی گزار رہا ہو گا اور یہ سوچ سوچ کر تڑپ رہا ہو گا کہ اس کی بہن کا علاج نامحرم مرد ڈاکٹر کر رہے ہیں۔ وہ یہی سوچ رہا ہو گا کہ یہ ڈھیٹ ہیر مر کیوں نہیں گئی؟ اس کی تمنا تو یہی ہو گی کہ کوئی خاتون ڈاکٹر ہوتی تو اس کی لاڈلی عفت مآب بہن کا علاج کرتی۔ مگر وائے افسوس۔ پتہ نہیں خواتین کا علاج کرنے کو یہ لائق لڑکیاں ڈاکٹر کیوں نہیں بنتیں؟

وردہ کو گولی لگے بیس دن اور اخباروں میں خبر آئے چار دن ہو گئے ہیں۔ شکر ہے کہ ابھی تک یہ خبر نہیں آئی کہ وزیراعلی پنجاب نے وردہ کی اپیل کا مثبت جواب دیا ہے۔ انہوں نے یہ حکم نہیں دیا کہ اسے میرٹ پر میڈیکل کالج میں داخلہ دے دیا جائے۔ شکر ہے کہ وزیراعلی پنجاب کیدو کے ساتھ ہیں، ہیر کے ساتھ نہیں۔

نوٹ: مضمون میں استعمال کی گئی تصویر وردہ کی نہیں ہے۔ یہ ایک طنزیہ تحریر ہے۔


اسی بارے میں

ایسی بے غیرتی کی سزا موت نہیں تو اور کیا ہے؟

دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی

اقبال اور روئے زمین پر سب سے زیادہ دلکش عورت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1205 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar