دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی

نرگس ماول والا نامی اس بے حیا عورت نے ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جس اخبار کو دیکھیں، اسی کی تصویر منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ جس نیوز یا سائنس ویب سائٹ کو کھولیں، اس کی شکل ہماری غیرت کا تمسخر اڑا رہی ہوتی ہے۔ یا خدا ہم پر یہ دن بھی آنا تھا کہ اقوام عالم میں ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ میم اور لام کی تکرار والے ناموں کی لڑکیاں ہم غیرت مند پاکستانیوں کو کیسے کیسے شرمسار کرتی ہیں۔ پہلے ملالہ ہی کم نہ تھی کہ اب ماول والا نے غضب ڈھا دیا ہے۔

اس گمراہ آتش پرست پارسی لڑکی کی رسی دراز ہو رہی ہے ورنہ اپنے لڑکپن میں یہ اپنے پاکستان سے فرار ہو کر امریکہ نہ چلی جاتی۔ پھر بھی جب تک یہ پاکستان کے مشرقی ماحول میں رہی، سیدھی ہی رہی۔ گل تو اس نے امریکہ میں جا کر کھلائے۔

اول تو لڑکیوں کو تعلیم دینی ہی نہیں چاہیے، لیکن یہ گمراہ لڑکی تو یہاں ایک مشنری سکول میں  پڑھتی رہی جس کی وجہ سے اس کی اخلاقی حالت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ بچپن سے ہی اس کی بے راہ روی کے شواہد سامنے آ رہے تھے۔ یہ چھوٹی سی بچی تھی جب یہ گلی میں سائیکل والے کی دکان سے اوزار لا لا کر اپنی سائیکل کی خود مرمت کر لیتی تھی۔ اس کے والدین نے بھی اسے روکنے کی بجائے الٹا اس برے کام کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر یہ امریکہ چلی گئی تو سائنس پڑھنے لگی۔ یہ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی تو اس کا ایڈوائز تبدیل ہو کر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سمیت دوسرے شہر چلا گیا۔ اس نے ایک دوسرے پروفیسر رینر وائس کی ٹیم میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

رینر وائس نے اسے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا آتا ہے۔ اس نے بتانا شروع کیا کہ میں نے فلاں فلاں کورس پڑھا ہے۔ وائس کہنے لگا کہ مجھے یہ کتابی باتیں مت بتاؤ، یہ بتاؤ کہ تم کچھ عملی کام بھی کرنا جانتی ہو؟ اس پر اس گمراہ لڑکی نے بتایا کہ وہ سرکٹ ڈیزائننگ، مشین بلڈنگ اور لیزر بلڈنگ وغیرہ بھی کر لیتی ہے۔ ہم شرط لگاتے ہیں کہ گھر گرہستی سے ناواقف اس لڑکی کو انڈا ابالنا تک نہیں آتا ہو گا اور نہ ہی تکیے پر پھول کاڑھ سکتی ہو گی اور بناتی یہ مشینیں ہے۔ بہرحال، مغرب میں تو گمراہی کی قدر ہے، وائس نے اسے فوراً اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ اسی ٹیم میں اس نے گریوی ٹیشنل ویو کو پکڑنے کے لئے آئینہ سازی کی اور انجام کار گریوی ٹیشنل ویو کو دریافت کر گئی۔ اسی جگہ کام کرتے ہوئے اس نے ہم جنس پرستی شروع کی اور اب ایک اور گمراہ نام نہاد مسلمان بھارتی لڑکی کے ساتھ گناہ کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ پاکستان میں ہوتی تو یہ گناہ نہ کرتی۔ اور وہ سب سفید جھوٹ ہے جو راجہ انور نے اپنی کتاب ‘جھوٹے روپ کے جھوٹے درشن’ میں پنجاب یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل کی کچھ مکینوں کے بارے میں لکھا ہے۔

اگر یہ پاکستان میں ہوتی تو نہ تو یہ اتنی تعلیم پاتی کہ اس طرح مادر پدر آزاد ہو جاتی، اور نہ ہی یہ اس طرح کھلے عام گناہ کرتی پھرتی۔ بہرحال اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ابھی چند ماہ میں لگ جائے گی۔ ملالہ کے بعد یہ دوسری پاکستانی نژاد لڑکی بننے جا رہی ہے جسے نوبل انعام ملے گا۔ اور یہ پہلی پاکستانی لڑکی بنے گی جسے سائنس کا نوبل انعام ملے گا۔ ابھی تو یہ دنیا کی اول درجے کی تکنیکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے آسٹرو فزکس (فلکیاتی طبیعات) کے شعبے کی شریک سربراہ ہے اور سائنس کی اس نئی ابھرنے والی شاخ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

اس سے بری خبر یہ ہے کہ پاکستان کو لبرل بنانے کے دعوے دار وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم اس کے کارناموں پر فخر محسوس کرتی ہے اور یہ (نابکار گناہ گار) عورت ہمارے سائنسدانوں اور طلبا کے لئے ایک مرجع تقلید ہستی ہے۔ پتہ نہیں میاں صاحب کس قوم کا ذکر کر رہے ہیں جو اس پر فخر کرتی ہے۔ مزید افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جو کہ پاکستانی سائنسدانوں کو ان کے سائنسی اہداف کی منزل تک پہنچانے میں مددگار ہو۔

کاش یہ گمراہ لڑکی پاکستان میں ہوتی تو گریوی ٹیشنل جہالت دریافت کرنے اور گناہ کی زندگی بسر کرنے کا اسے موقع ہی نہ ملتا اور اب تک کوئی غیرت مند شخص اسے قتل کر چکا ہوتا، یا یہ خودکشی کر چکی ہوتی۔

بہرحال قوم ابھی بہت زیادہ گناہ گار اور فاسق نہیں ہوئی ہے۔ قوم کی بچیوں کو ایسی گمراہی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف قبائلی علاقوں میں ہی پانچ سو سے زائد سکول تباہ کئے جا چکے ہیں۔ اور ملک کے باقی علاقوں سے بھی ایسی خبریں آ رہی ہیں جن سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہمارے غیرت مند لوگ اس گمراہی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

ابھی کل ہی بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ سے خبر موصول ہوئی ہے کہ ایک دوسری پاکستانی گمراہ لڑکی اس نابکار نرگس ملال والا کے نقش قدم پر چل کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مسلم باغ کی غیرت مند پرنسپل عابدہ غوث صاحبہ نے بروقت اسے روک دیا۔ ثاقبہ کاکڑ اور درجنوں دوسری طالبات کو امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا، کیونکہ وہ اپنی کلاسوں کی بحالی کے لئے پچھلے سال مظاہرے کرتی تھیں کہ ان کو پڑھایا جائے لیکن پرنسپل صاحبہ نے کہا کہ کیونکہ بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں کوئی خاتون استاد نہیں ہے اس لئے پڑھائی نہیں ہو گی، اور اس غیرت مند خاتون نے کسی مرد استاد کی تعیناتی سے انکار کر دیا جبکہ یہ گمراہ لڑکیاں یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ ان کو کسی نامحرم مرد سے پڑھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ چھے مہینے تک احتجاج کرتی رہیں اور کالے کوسوں دور کوئٹہ تک گئیں، لیکن حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

وہ لڑکی تو اتنی مغرب پرست تھی کہ ایک مقامی نیوز چینل پر بھی آ گئی اور کہنے لگی کہ سو سے زائد لڑکیوں کا مستقبل اس پرنسپل کی وجہ سے داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بخدا ہم تو کہیں گے کہ اس نیک پرنسپل عابدہ غوث نے ان سو لڑکیوں کو اس قعر معزلت میں گرنے سے بچا لیا جس میں نرگس ماول والا گر چکی ہے۔ دس فروری کو امتحان کے کاغذات جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ بارہ فروری کو جمعے کے مبارک دن یہ گمراہ لڑکی خودکشی کر کے جہنم واصل ہوئی۔

اور حوصلہ تو دیکھیں اس کا کہ آخری خط میں کیا لکھتی ہے۔ ’بنام پرنسپل۔ اب خوش ہو جا میں نہیں آؤں گی تیرے امتحان میں اے دشمن جان۔ ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں تیرا مقابلہ مجھ سے ہے۔‘ کہاں یہ خودکشی کر کے جہنم میں جانے والی گمراہ لڑکی، اور کہاں وہ جنتی پرنسپل، لیکن دعوی ہے میدان حشر
میں مقابلہ کرنے کا۔ استغراللہ۔

میاں نواز شریف صاحب، آپ غور سے سن لیں۔ ہماری لڑکیوں کی رول ماڈل نرگس ماول والا یا ملالہ نہیں ہے۔ ہماری ماڈل تو وہ باعصمت نیک لڑکی ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتی ہے۔

چلیں اداس خبریں بہت ہو گئیں، اب ایک لطیفہ سنیے۔ چھے ماہ تک قلعہ سیف اللہ سے لے کر کوئٹہ تک سڑکوں اور ٹی وی چینل پر احتجاج کرنے والی ان لڑکیوں کے مسئلے کا نوٹس نہ لینے والی بلوچستان حکومت کے سربراہ جناب ثنا اللہ زہری نے کمشنر ژوب کو حکم دیا ہے کہ اس المناک واقعے کی انکوائری کی جائے۔
Feb 16, 2016


فوٹوکریڈٹ:  آخری خط بشکریہ اے آر وائی ٹی وی

Comments - User is solely responsible for his/her words