ہم سب” کے مدیروں کے لئے کینیڈین سرکار کے پیسے سے ڈنر”
میں اکثر اوقات ’ہم سب‘ کے لیے ادب‘ فلسفہ اور نفسیات جیسے سنجیدہ موضوعات پر کالم لکھتا ہوں لیکن میرا جی چاہ رہا ہے کہ ’ہم سب‘ کے پڑھنے والوں کے لیے ایک ہلکا پھلکا کالم لکھوں۔ آج میرا جی چاہتا ہے کہ میں ’ہم سب‘ کے مدیران کو ڈنر پر مدعو کروں لیکن چونکہ وہ کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں نہیں رہتے، اس لیے صرف وعدہ کر سکتا ہوں کہ جب میں جنوری یا فروری 2018 میں لاہور آئوں گا تو انہیں ڈنر پر لے جائوں گا۔ میں سال میں ایک دن حاتم طائی بن جاتا ہوں اور یہ وہ دن ہوتا ہے جس دن مجھے کینیڈا کی گورنمنٹ سے ایک چیک موصول ہوتا ہے۔ اس سال کا چیک 522.90 ڈالرز کا ہے۔ ویسے تو مجھے اپنے کلینک میں مریض دیکھنے کا چیک ہر مہینے ملتا ہے لیکن کینیڈا کی گورنمنٹ سے یہ چیک صرف سال میں ایک دفعہ ملتا ہے۔ اس چیک کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوتا ہوں۔ اس چیک کی اہمیت سمجھنے کے لیے مجھے آپ کو کچھ بیک گرائونڈ بتانا پڑے گا۔
آج سے کئی سال پیشتر جب میں یورپ کی سیر کرنے گیا تو سعید انجم‘ مسعود منور‘ سائیں سچا ‘ مسعود قمر ‘ اشتیاق احمد اور احمد فقیہہ کے علاوہ ڈنمارک کے ادیب نصر ملک سے بھی ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران نصر ملک نے مجھے بتایا کہ ڈنمارک کے ادیبوں کو حکومت ہر سال ایک چیک بھیجتی ہے ۔یہ چیک ادیبوں کو ان کتابوں کی وجہ سے ملتا ہے جو لائبریریوں میں رکھی جاتی ہیں۔ نصر ملک نے اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے سمجھایا کہ جب کوئی شخص بک سٹال سے کتاب خریدتا ہے تو ادیب کو بیس ڈالر ملتے ہیں لیکن اگر وہی کتاب لائبریری میں پڑی ہو اور اسے دو سو لوگ پڑھیں تو ادیب کو اس کے ڈالر نہیں ملتے۔ اس لیے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر دفعہ جب کوئی شخص لائبریری سے کتاب لیتا ہے تو اس کے دس سینٹ ادیب کو ملتے ہیں۔ اس طرح کسی ادیب کی جتنی زیادہ کتابیں لائبریری میں ہوتی ہیں اور اسے جتنے زیادہ لوگ پڑھتے ہیں ادیب کو اسی حوالے سے رقم ملتی ہے۔ مجھے ڈنمارک کی یہ روایت پسند آئی۔ میرا خیال ہے کہ شاید سکنڈے نیویا کے باقی ممالک میں بھی یہ روایت پائی جاتی ہے۔ اس روایت سے حکومت اپنے ادیبوں کی عزت کرتی ہے اور انہیں ان کی محنت کا مالی معاوضہ دیتی ہے۔ وہ اپنے ادیوں پر فخر کرتی ہے۔ سکنڈی نیویا کے ممالک نہ صرف اپنے ادیبوں کی قدر کرتے ہیں بلکہ ساری دنیا کے ادیبوں کا احترام کرتے ہیں۔ اسی لیے سکنڈے نیویا کے ممالک میں ساری دنیا کے ادیبوں کو ادب کا نوبل انعام بھی دیا جاتا ہے۔
جب میں یورپ کے سفر سے لوٹا تو میں نے WHITE KNIGHT PUBLISHERS کے اپنے کنیڈین پبلشر BILL BELFONTAINE سے ملاقات کی اور سے نصر ملک کی کہانی سنائی۔ بل نے مجھے بتایا کہ کینیڈا کی حکومت نے بھی ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کا نام ACCESS COPYRIGHT ہے۔ یہ ادارہ ہر سال کنیڈین ادیبوں کی اور ان کی کتابوں کی فہرست بناتا ہے اور پھر انہیں سال میں ایک دفعہ ایک چیک بھیجتا ہے جو ان کی لائبریری میں رکھی گئی کتابوں کا معاوضہ ہوتا ہے۔
بل بیل فونٹین نے میرے پبلشر ہونے کے ناطے میری کتابوں کی فہرست انہیں بھیج دی اور مجھے ہر سال کاپی رائٹ کی طرف سے ایک چیک ملنے لگا۔ چونکہ میں ہر سال ایک کتاب لکھتا ہوں اس لیے ہر سال میری کتابوں کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے اور میرے چیک میں بھی۔ پہلے میرا چیک تین سو ڈالر کا ہوتا تھا پھر چار سو ڈالر کا۔ اب چونکہ میری کتابوں کی فہرست بیس تک پہنچ گئی ہے اس لیے اس سال مجھے پانچ سو ڈالر کا چیک ملا ہے۔
ایک اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مجھے ایک دن ٹورانٹو کے ایک سیمینار میں لطیف اویسی صاحب ملے کہنے لگے کہ وہ ٹورانٹو کی لائبریری کو اردو کی کتابوں کے مشورہ دیتے ہیں۔ وہ مجھ پر اتنے مہربان تھے کہ انہوں نے میری اردو کی نئی کتابوں کے نام لیے اور لائبریری کو مشورہ دیا کہ وہ میری کتابیں پاکستان کے سنگ میل پبلشرز لاہور اور CITY BOOK POINT PUBLISHERS KARACHI سے منگوائیں اور لائبریری میں رکھیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ سکیں۔
چنانچہ میرے پبلشر بل بیل فونٹین اور میرے کرم فرما لطیف اویسی کی مہربانیوں کی وجہ سے میری کتابیں ٹورانٹو کی لائبریریوں تک پہنچ گئیں اور مجھے کینیڈا کی حکومت کی طرف سے ایک چیک ملنے لگا۔ چونکہ یہ چیک میرے ماہرِ نفسیات ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے ادیب ہونے کی وجہ سے ملتا ہے اس لیے جس دن مجھے وہ چیک ملتا ہے میں بہت خوش ہوتا ہوں۔ میں ایک دن کے لیے حاتم طائی بن جاتا ہوں اور اپنے دوستوں کو ڈنر کے لیے لا جاتا ہوں۔
پچھلے سال میں امیر حسین جعفری کو ڈنر پر لے گیا تھا۔ چونکہ اس سال وہ لاہور چلے گئے ہیں اس لیے میں نے لاہور کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور فیصلہ کیا کہ ’ہم سب‘ نے ایک سال میں میرے ساٹھ سے زیادہ کالم چھاپے ہیں اس لیے ’ہم سب‘ کے مدیروں کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک ہلکا پھلکا کالم لکھوں اور انہیں ڈنر پر بلائوں۔ یہ علیحدہ بات کہ انہیں اس ڈنر کے لیے چند ماہ انتظار کرنا ہوگا ور مجھے وہ پانچ سو ڈالر کہیں سنبھال کر رکھنے ہوں گے۔ میں چونکہ کئی برسوں سے لاہور نہیں گیا، اس لیے مجھے اس کی مہنگائی کا کوئی اندازہ نہیں۔ مجھے امید ہے کہ پانچ سو ڈالر جو شاید 40,000 روپے بن جائیں ’ہم سب‘ کے مدیروں کے لاہور میں ڈنر کے لیے کافی ہوں گے اور نہ ہوئے تو وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ سے قرض لینا پڑے گا اور غالب کا شعر گنگنانا پڑے گا
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
(بھائی خالد سہیل، ہم سب کے لاہور میں مقیم مدیران کے لئے ڈنر زیادہ مہنگا نہیں پڑے گا۔ حسنین جمال ایک ہفتے میں کل ملا کر دو یا تین دفعہ کھانا کھاتے ہیں۔ عدنان کاکڑ کھانے سے زیادہ کھانے کے برتنوں اور سلاد وغیرہ کی تصویریں کھینچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تنویر جہاں اصل کھانے کی بجائے گول گپے، دہی بڑے، فروٹ چاٹ اور مختلف طرح کے اچار چٹنیاں وغیرہ پسند کرتی ہیں۔ اور یہ درویش پر تقصیر سرے سے ہوٹل میں کھانا پسند نہیں کرتا۔ گھر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا مجھے مرغوب ہے۔ ہمارے گھر میں ایک ان داتا خاتون ہیں عظمیٰ باجی۔ وہ آلو کے پراٹھے، گوبھی کے پراٹھے، چنے کی دال بھرے پراٹھے بنانے میں مہارت رکھتی ہیں۔ میں ایک وقت میں دو یا تین پراٹھے کھا جاتا ہوں۔ لاہور میں ہم سب کے ایک رفیق (اللہ بخشے) عمید ملک تھے۔ ان کے کھانےمیں دہی کا خرچ زیادہ تھا۔ وہ اب خیر سے امریکا پدھار گئے ہیں۔ سنا ہے وہاں دہی میں سرکہ اور دیگر تخمیری محلول ملا کر نوش فرماتے ہیں۔ البتہ خیر منائیے کہ اسلام آباد سے "ہم سب” کے سفارتی اور عسکری امور کے ماہر محترم وسی بابا اگر لاہور آ نکلے تو آپ کو ڈنر کے لئے عدنان کاکڑ اور وجاہت مسعود کے علاوہ بھی آدھے لاہور سے قرض لینا پڑے گا۔ واضح رہے کہ دھان پان سے وسی بابا کا گرمیوں کے لباس میں وزن 130 کلو گرام سے کچھ اوپر رہتا ہے۔ ان کے تن و توش کی کیا پوچھتے ہیں۔ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا۔۔۔ بہتر ہو گا کہ اس اندیشے کے پیش نظر آپ آئندہ فروری تک ایک کتاب مزید لکھ رکھیں۔ ہم سب کے رفقا کی ایک تصویر ملاحظہ ہو۔ کارنیشن کا سب سے بڑا پھول آپ ایک ہی نظر میں پہچان سکتے ہیں۔)



