فیض آباد میں 22 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا گیا


ملک بھر میں تمام دھرنے فوری ختم کر دیئے جائیں: دھرنا قائدین کی پریس کانرنس

فیض آباد میں 22 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا گیا۔ دھرنا قائدین نے پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ملک بھر میں دھرنے فوری طور پر ختم کر دیئے جائیں۔

واضح رہے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان معاملات طے پائے تھے۔

معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد تحریک لبیک کوئی فتوی جاری نہیں کرے گی۔

دوسری شق میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت الیکشن ایکٹ 2017، 7 بی اور 7 سی کا اردو متن حلف میں شامل کرے۔

راجا ظفر الحق رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے گی، الیکشن ایکٹ ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

تیسری شق کے مطابق 6 نومبر کے بعد سے مذہبی جماعت کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات اور نظربندیاں بھی ختم کی جائیں گی۔

چوتھی شق میں مطالبہ کیا گیا 25 نومبر کو حکومتی ایکشن سے متعلق انکوائری بورڈ قائم کیا جائے گا اور ذمہ داروں کا تعین کر کے 30 دنوں میں کارروائی کی جائے گی۔

پانچویں شق کے مطابق جو سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان ہوا ان کا تعین کر کے ازلہ وفاقی اور صوبائی حکومت کرے گی۔

چھٹی شق میں اس بات کی تصدیق کی گئی حکومت سے جن نکات پر اتفاق ہوا اس پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

معاہدے پر وزیر داخلہ احسن اقبال، سیکرٹری داخلہ اور علامہ خادم حسین رضوی نے دستخط کئے۔ معاہدے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے رضا کارانہ طور پر اپنا استعفیٰ دیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک میں کشیدہ صورتحال کے باعث وفاقی وزیر نے استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کیا۔

 بشکریہ دنیا نیوز

Facebook Comments HS