اقبال حسین کی عورتیں اداس کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال یہ ہے کہ جب قائد اعظم، علامہ اقبال، سرسید احمد خان یا ماضی قریب سے جنرل ایوب خان، بھٹو اور ضیا الحق وغیرہ کی تصویریں بنائی جا سکتی ہیں، لوگوں کو اس آرٹ کی سمجھ بھی آتی ہے، وہ پینٹینگز اچھے داموں فروخت بھی ہوتی ہیں تو آرٹسٹ کو دوسرے کسی دھندے میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ چلیے کوئی اور میڈیم ٹرائے کرنا ہے تو خطاطی کر لیجیے، الحمدللہ بہت ڈیمانڈ ہے اس کی، آرٹ لور اسے سمجھتا ہے یہاں، صادقین بھی تصویروں سے زیادہ خطاطی میں آ کے مشہور ہوئے، گل جی کے پورٹریٹ کسے یاد ہیں؟ ہائے وہ لاجوردی پورٹریٹ ۔۔۔ کہیں لگے بھی ہوں گے تو مصور کا نام ہزار میں سے ایک جانتا ہو گا، خطاطی سامنے آئی نہیں کہ ٹھک بولیں گے، ہاؤ امیزنگ، یو نو گل جیز سٹروک؟ یہ پوری طاقت سے ایک ہی سانس میں برش گھما کے انہوں نے لکھا تھا، سو پاور فل جیسچر!


اچھا ٹھیک ہے، تخلیق بہت اچھل کے آ رہی ہو تو بھئی لینڈ سکیپ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک بڑا سا درخت، سامنے پانی، ایک دو بھیڑیں گھاس چرتی ہوئی، مٹی کا بنا سنگل کمرہ مکان، سر پہ لکڑیاں اٹھائے گھر کو جاتا کسان، اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا پالتو کتا، دور کسی اینٹوں کے بھٹے سے نکلتا ہوا دھواں، غروب ہوتا ہوا سورج، کھیلتے ہوئے ادھ ننگے بچے، گھونگھٹ لٹکائے جاتی ہوئی عورت (جس کے خدوخال ہرگز واضح نہ ہوں بس چند ملجگے رنگ ہوں) یا چلو کوئی بیل شیل بیچ میں ڈال دیں، ساتھ اس کے ریڑھا لگا ہوا ہو، کولہو کا بیل بھی چلے گا۔


فگریٹو آرٹ کے لیے مچل رہے ہوں اور ہر صورت طبیعت آمادہ ہو تو گھوڑا بنایا جا سکتا ہے، ایک دم مہنگا بکتا ہے، خوب صورت گھوڑے کی تصویر تو دنیا بھر میں دلکش عورت کی تصویر سے زیادہ مہنگی بکتی ہے، تو بھائی، اداس، منہ بسورے، گم سم، خلاؤں میں گھورتی ہوئی عورتوں کی تصویریں بنانے کی ضرورت کیا ہے؟ ایسی کہ جنہیں گاہک بھی لے جاتے ہوئے پریشان ہو جائیں کہ یار کوئی برا شگن ہی نہ ہو جائے۔ جنہیں بیچنا مشکل ہو، جنہیں بعض اوقات دکھانا بھی پھونک پھونک کے پڑے تو سوال یہ ہے کہ ایسی تصویریں بنائی ہی کیوں جائیں؟


بادشاہی مسجد کا نظارہ جہاں سے ایسا دکھائی دے کہ اناڑی سے اناڑی فوٹوگرافر بھی شاندار تصویریں کھینچ ڈالے، کبھی وہ جگہ، وہ چھت دیکھی ہے؟ چوں کہ ہم دستر خوانی ثقافت کے پروردہ ہیں اور ہمارے لینڈ مارک بھی عموماً کھابہ گیر جگہیں ہوتی ہیں تو یہ بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔ باہر بڑا سا کالا دروازہ ہے، کبھی کبھی ساتھ ایک دو پرانی قسم کی نقاشی والی چوکھٹیں بھی رکھی ہوتی ہیں۔ ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اندر کی ڈیکوریشن مکمل اینٹیک ہو گی، اور وہ بالکل ہے۔ فورٹ روڈ یا شاہی محلے میں داخل ہوتے ہی ذرا آگے جائیں تو سیدھے ہاتھ پہ یہ ریسٹورینٹ ہے۔ اندر داخل ہوں تو گول گول گھومتی سیڑھیوں پہ چڑھتے چڑھتے موت نزدیک اور منزل دور لگے گی لیکن گھبرانا نہیں ہے۔ جہاں بالکل سانس ٹوٹ جائے تو سامنے دیکھیں۔ وہ منزل نہیں ہے! کوئی بارہ پندرہ سیڑھیاں مزید چڑھی جائیں تو بس سامنے پہنچنا ہے۔ پھر ایسی موج ہو گی جو کم از کم اگلے ایک ہفتے تک رہنے والے ٹانگوں کے درد کے ساتھ ساتھ یادوں کا حصہ بن جائے گی۔


اس ریسٹورینٹ کی اندرونی سجاوٹ اگر دیکھی جائے تو ہر طرف پرانے برتن، فانوس، بڑے بڑے تالے، مجسمے، فوارے، پیتل کی گھنٹیاں، منقش ٹائلیں، پرانے فوٹو گرافس، بت اور پتہ نہیں کیا کیا نظر آتا ہے۔ ان سب چیزوں کے ساتھ یہاں ایک چیز ایسی ہے جو ماحول میں شدید اداسی پیدا کر دیتی ہے۔ وہ تصویریں ہیں۔ بہت سی، رنگا رنگ (یا بے رنگ؟) عجیب سی تصویریں۔ ان میں زیادہ تر پینٹینگز عورتوں کی ہیں اور وہ سب کی سب اقبال حسین نے بنائی ہیں۔ ان کا لباس شوخ ہو گا، ان کے چہروں پہ میک اپ ہو گا، ان کے جسم متناسب اور دائروی ہوں گے لیکن آنکھیں، ان سب کی سب آنکھوں میں وہ اداسی ہو گی کہ دو تین سے زیادہ تصویریں بغور دیکھی نہیں جا سکیں گی۔ وہ اداسی فنا کر دیتی ہے، کاٹ ڈالتی ہے۔

یہ آنکھیں اس محلے میں رہنے والیوں کی آنکھیں ہیں۔ یہ چہرے وہاں رہنے والیوں کے چہرے ہیں لیکن ان پر موجود دکھ اقبال حسین کا اور ان سب کا مشترکہ ہے، شناخت کا دکھ! تو ایسی تصویریں اقبال حسین بناتے ہیں، دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں لیکن ادھر بہرحال کوئی خاص قبول عام انہیں حاصل نہیں ہے۔ ہو بھی نہیں سکتا۔ بھئی پردوں صوفوں سے کوئی تصویر میچ ہو گئی تو خرید لی جائے گی اور وہ بھی پھولوں کی، پہاڑوں کی یا بہت چھلانگ ماری تو ایبسٹریکٹ سی کوئی ہو گی، احمد پرویز ٹائپ۔ یہ تصویریں کون خریدے اور کیوں خریدے اور کہاں لگائے گھر میں؟ اپنی فیملی جینا حرام کر دے گی ۔۔۔ اقبال حسین کا جینا حرام نہیں ہوتا، وہ انہیں میں سے ہیں، وہ وہیں رہتے ہیں، انہیں اپنے لوگ کہتے ہیں اور ان کی تصویریں بناتے رہتے ہیں۔ چونکہ انہیں معلوم ہے کہ آرٹ گیلری سے زیادہ بلب ایک جوتوں کی دکان میں لگتے ہیں اور اس دکان سے بھی زیادہ روشنی کسی ریسٹورینٹ میں ہوتی ہے، اور اس روشنی کا خرچہ اٹھانا بھی انہیں آخر والے دونوں کاروباروں کے بس کی بات ہے تو انہوں نے اپنے آبائی مکان کو فوڈ سپاٹ میں تبدیل کر لیا ہے۔ ایک حصے میں فیملی رہتی ہے، باقی تمام حصوں میں جا بجا اپنی پینٹینگز، اپنے اینٹیکس، اپنے مجسموں اور ایسی دوسری چیزوں کی صورت بکھرے نظر آتے ہیں۔ کھانا کھانے مختلف لوگ وہاں جاتے ہیں، تھوڑا کلچر ولچر کے چکر میں دو تین تصویریں پرانی جالیوں یا دروازوں کے ساتھ کھنچواتے ہیں، بچوں کو مجسموں سے دور رکھتے ہیں، فوٹو گرافی سے فارغ ہو کے ترنت اوپر جاتے ہیں، چرغے پھڑکائے جاتے ہیں، مابعد لحمیات جو گفتگو ہو سکتی ہے، وہ ہوتی ہے، آرٹسٹ تصویریں بناتا رہتا ہے، پیٹ بھرتے رہتے ہیں، ہوٹل چلتا رہتا ہے، سائیں سب کا پالن ہار ہے!

ایک بار ایسا ہوا کہ انہوں نے سوچا تصویریں بہت ہو گئیں اب ان کی نمائش کر لی جائے۔ انہوں نے صوبائی دارالحکومت کی مشہور ترین سرکاری گیلری سے بات کی، ضیا سرکار تھی، منع کر دیا گیا۔ تو اقبال حسین نے پھر اپنی تصویروں کی نمائش اسی گیلری کے باہر مال روڈ کے فٹ پاتھ پہ لگائی۔ اس طرح یہ ایک “بڑی خبر” بن گئی اور یوں ان کا فن چھوٹی گیلری کے اندر محدود ہونے کی بجائے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ یہ ویسے غلام عباس کی “آنندی” والا سین تھا!

اقبال حسین نے لینڈ سکیپ بھی بنائے۔ راوی کنارے بیٹھ کے بنائے۔ جیسا تیسا دریا رہ گیا ہے بس بنا لیے۔ لوکل اپر کلاس پبلک وہ بڑے شوق سے لیتی ہے۔ اگر انہیں بتایا جائے کہ ان تصاویر کی فروخت سے ہونے والا منافع اس محلے میں رہنے والی بوڑھی خواتین کی دیکھ بھال کے لیے وقف ہوتا ہے تو شاید وہ یہ لینا بھی چھوڑ دیں۔ نفرت ہے نا بابا، کلنک سے نفرت۔ اقبال حسین کی سوانح بھی دو تین برس پہلے شائع ہوئی، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اسی کارخیر کے لیے مختص کی گئی۔ ویسے وہ اب آؤٹ آف پرنٹ ہے، کسی نے پڑھ لی ہو تو فقیر کو ادھار دی جا سکتی ہے۔


اقبال حسین نیشنل کالج آف آرٹس میں پروفیسر رہے، اب تو پوری دنیا میں مشہور بھی ہیں، تو وہ اپنا علاقہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ کسی “باعزت” جگہ منتقل کیوں نہیں ہو جاتے؟ جن گلیوں میں ککو (ان کا نک نیم) کھیلا، جہاں بھاگتے دوڑتے بڑا ہوا، جہاں کے لوگوں کی تصویریں آخر کار اس کی پہچان بنیں، جس گھر میں اس کے ننھے منے بچے آئے، جو گھر اب اس کی پہچان ہے اور جس گھر کی چھت سے روشنیوں میں جگمگاتا خدا کا پرنور گھر ایسا عمدہ نظر آتا ہے کہ اناڑی سے اناڑی فوٹو گرافر بھی ایک عمدہ تصویر کھینچ ڈالے تو اس نظارے کا مستقل مالک کیا وہ گھر چھوڑ سکتا ہے؟ کیا باہر جا کے اس کا شجرہ بدلا جائے گا یا نیا معاشرہ نئے ڈی این اے کے ساتھ پیش آئے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain