ملکہ گوہر شاد کا مدرسہ
صدیوں پہلے مدرسے اس قسم کے نہیں تھے جیسا کے آج ہیں، مدرسے حقیقت میں اسکول جیسے ہی ہوتے ہیں جس میں دنیاوی مذاہب، اخلاقیات، لٹریچر، فزکس کے بارے میں تعلیمات دی جاتی تھیں۔
اسپین فتح کرنے کے بعد مسلمانوں کے پاس ایک ذرخیز خطہ ہاتھ میں آگیا تھا اس خطے کی آب ہوا، جغرافیے، تہذیب و تمدن کا بڑا اثر پڑا وہاں کے مسلم حکمرانوں پر اسی بات کو نظر میں رکھ کر انہوں نے وہاں تعلیم کو فروغ دیا تاکہ لوگ باقی دنیا کو بھی سمجھ سکیں اس دور کا مدرسہ اور آج کی یونیورسٹی آف کورڈوا (قرطبہ) ایک مسلم بادشاہ کے حکم پر بنی تھی جس میں آرٹ، سائنس، اور ادب پڑھایا جاتا تھا یہاں تک کہ موسیقی بھی اس مدرسے میں سکھائی جاتی تھی اسکالرز جو ان مدرسوں میں پڑھاتے تھے انہوں نے اپنی ذاتی کتابوں سے بڑی لائبرریاں قائم کردیں۔ مذہبی ہم آہنگی کافی حد تک مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں میں تھی اس کی مثال اس طرح دے سکتے ہیں ایک مسجد کے تعمیراتی کام میں ایک یہودی سنگتراش نے مسجد کی تعمیر میں مسلمانوں کے ساتھ حصہ لیا۔
حلافت عثمانیہ کا ماضی میں شاندار کردار رہا ہے اس خلافت کے دور کو مسلم دنیا کا بہتریں دور بھی کہا جاتا ہے۔ آزاد مدرسے جو صرف انسان کو نئی سوچ دینے کی تعلیمات دیتے تھے اس سے کافی حد تک ترکی کے اپنے معاشرے پر بھی بڑا فرق پڑا۔ خلافت کے مدرسوں کا نصاب ماضی کی خلافت سے مختلف تھا ان میں سیکولر سائنسس، منطق اور فلسفے کے بارے میں تعلیم دی جاتی تھی۔ سات صدیاں مسلم دنیا پر حکومت کرنے والی خلافت عثمانیہ عرب قوم پرستی کی وجہ سے بیسویں صدی میں دم توڑ گئی۔

8 سے 31 صدی دنیا کی تاریخ میں مسلمانوں کا سنہرا دور تھا، برداشت کافی حد تک پائی جاتی تھی، سندھ مدرستہ السلام جیسے مدرسے بھی ہمارے پاس موجود تھے جس سے بانی پاکستان سے لے کر علامہ آئی آئی قاضی، رسول بخش پلیجو جن کا پاکستان کی سیاست اور ادب میں بڑا کردار رہا ہے جیسی شخصیات پڑھ کر نکلی ہیں۔ ہزاروں مدرسوں کی تاریخ رکھنے والا ایک شہر ٹھٹہ ہے جو کہ علم و دانش کا مرکز رہہ چکا ہے، دنیا بھر سے لوگ اسی شہر میں علم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔
شاندار تاریخ ہونے کے باوجود ایمرسن نے کہا ہے ’پیسوں کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے‘ ہماری تاریخ کو باہر سے کوئی یہودی، عیسائی یا ہندو مٹانے نہیں آئے بلکہ ہم نے خود اپنی تاریخ مٹائی ہے ہرات، ٹھٹہ اور بغداد کی لائبرریاں ہمارے مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ ہوئیں مدرسوں کا ہم نے غلط استعمال کیا یہاں تک کہ افغان جنگ میں حصہ لینے والے تمام طالبان دارالعلوم حقانیہ سے تھے ان کی مدد کون کر رہا تھا وہ بھی سب کو معلوم ہے مزید یہ کہ دارالعلوم حقانیہ میں مولانا فضل الرحمان اور اسامہ بن لادن کی کلاشنکوف کے ساتھ تصویریں کھلے عام لگی ہوئی ہوتی تھیں اس کے باوجود عمران خان جیسے لیڈر ان مدرسوں کی فنڈنگ کریں پھر تو اس قوم کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔


