ملالہ کی ڈائری کیسے شروع ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 2008 کے آخری دن تھے۔ سوات میں طالبان تھانوں اور سکولوں کو تباہ کر رہے تھے۔ بی بی سی اردو سروس کے عامر احمد خان اور ان کی ٹیم کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ سوات میں سکولوں سے تعلق رکھنے والی کوئی خاتون تلاش کی جائے اور اس کی زبانی سوات کے حالات دنیا کے سامنے لائے جائیں۔

بی بی سی کے عبدالحئی کاکڑ اس وقت سوات کے ایک مقامی استاد ضیا الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ضیا الدین سوات کے سکولوں کی تنظیم کے سربراہ تھے۔ دونوں نے مل کر کئی خاتون اساتذہ کو ڈائری لکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی استانی تیار نہ ہوئی۔

ضیا الدین یوسفزئی نے اپنے سکول کی ایک ساتویں جماعت کی بچی سے بات کی۔ یہ بچی سنگوٹا کے پریزینٹیشن کانوینٹ میں پڑھتی تھی۔ طالبان نے جب اس سکول کو تباہ کر دیا تو وہ ضیا الدین یوسفزئی کے خوشحال سکول میں آ گئی۔ یہ بچی لکھنے اور تقریر کرنے میں بہت تیز تھی۔ لڑکی ڈائری لکھنے پر تیار ہو گئی لیکن اگلے دن جب وہ واپس آئی تو پتہ چلا کہ اس کے والد نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

گھر میں یہ بات ڈسکس ہو رہی تھی تو گیارہ برس کی ملالہ نے اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ ضیا الدین یوسفزئی اپنے زمانہ طالب علمی سے سکول اور کالج میں تقریری مقابلوں میں شرکت کرتے رہے تھے اور انہوں نے بے شمار مقابلے جیت رکھے تھے۔ جب انہوں نے اپنا سکول بنایا تو ادھر انہوں نے خاص طور پر تقاریر، ڈسکشن اور اس طرح کی ایکٹی ویٹیز پر توجہ دی۔ ان دنوں بورڈ کے تحت تقاریر، ڈسکسش اور مضامین وغیرہ کے مختلف النوع مقابلوں کا انعقاد ہوا تو خوشحال پبلک سکول نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 80 فیصد مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ملالہ نے سکول کے اس ماحول کا خوب فائدہ اٹھایا تھا اور وہ ایک اچھی مقرر بن کر ابھری تھی۔ اس کم عمری میں ہی ملالہ کے مضامین سوات کے مقامی اخبار میں شائع ہوتے رہتے تھے۔

ضیا الدین یوسفزئی اور ملالہ اسے بھی ایک ویسی ہی ایکٹویٹی سمجھ رہے تھے جیسی ان کے سکول میں عام طور پر طلبا کے مابین ہوتی رہتی تھیں۔ لیکن بی بی سی نے احتیاط کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا کہ طالبہ کے اصل نام کی بجائے گل مکئی کا نام استعمال کیا جائے۔

ہر ہفتے یہ ڈائری شائع ہونے لگی۔ طریقہ یہ تھا کہ فون پر ملالہ ہفتے بھر کے چھوٹے چھوٹے واقعات فون پر عبدالحئی کاکڑ کو لکھاتی جاتی۔ سکول میں تقریری مقابلوں اور گروپ ڈسکشن کی مشق ملالہ کے بہت کام آئی۔ اس کی فی البدیہہ کی گئی تقریر میں بہت ہلکی پھلکی سی ایڈیٹنگ کی ضرورت پیش آتی تھی اور وہ کم و بیش بغیر کسی تبدیلی کے شائع ہوتی۔

ملالہ عام سے واقعات بیان کرتی۔ بازار میں چوڑیاں خریدنے جانا، سوات جیسی خوبصورت جگہ میں رہنا، یونیفارم پر پابندی، سکول بند ہونے پر مایوسی جیسے موضوعات پر وہ عام سے انداز میں بات کرتی مگر یہ ڈائری بی بی سی اردو پر بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ ”وہ ایک اچھی خاصی مدت کا مقبول ترین بلاگ ثابت ہوا۔ اس کو بے شمار مقامی اور غیر مقامی لوگ پڑھتے تھے“ عامر خان بتاتے ہیں۔ اس ڈائری کا بی بی سی انگریزی میں ترجمہ نشر کیا گیا اور وہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی بہت زیادہ چلا۔

”ہم اس کے لکھنے کے انداز سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ میں اسے بہت زیادہ منجھا ہوا نہیں کہوں گا۔ میں اسے روزمرہ زندگی پر ایک بہت بہت زیادہ تازہ، معصومانہ اور دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی صدا کہوں گا۔ وہ چھوٹے چھوٹے سے قصوں کے ذریعے خوف کے اس ماحول کو اجاگر کرتی تھی جو سکولوں اور خاص طور پر بچوں پر طاری تھا۔ بلاشبہ وہ ایک بہت بہت ذہین اور باریک بین لڑکی تھی“۔ عامر احمد خان بتاتے ہیں۔

بی بی سی نے گل مکئی کی شناخت کو چھپائے رکھا اور اس کو لاحق خطرات کے بارے میں باہم اور ملالہ کے خاندان سے بات کرتے رہے۔ لیکن اس دوران ملالہ اپنی اصل شناخت سے بھی ایکٹو رہی تھی۔ اس نے ڈائری شائع ہونے سے کچھ عرصہ قبل پشاور پریس کلب میں 2008 میں تقریر کی جس کا موضوع تھا ”طالبان کو میرا تعلیم کا بنیادی حق چھیننے کی جرات کیسے ہوئی؟ “ یہ تقریر پاکستانی میڈیا پر بہت مشہور ہوئی۔

ضیا الدین یوسفزئی کی بہنیں تعلیم حاصل نہ کر پائی تھیں۔ ان کا خواب تھا کہ ان کی بیٹی تعلیم کے زور پر بہت آگے جائے۔ جب طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی تو ان کا یہ خواب چکناچور ہو گیا۔ پشاور پریس کلب کی تقریر کے بعد جب لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے ملالہ کو یہ کرنے کی اجازت کیسے تھی تو ضیا الدین یوسفزئی نے جواب دیا کہ ”ہمیں کھڑا ہونا ہی تھا“۔

ضیا الدین اور ملالہ یوسفزئی بلاشبہ بہت دلیری سے کھڑے ہوئے۔ طالبان کے خلاف ملالہ مزاحمت کا ایک بڑا نشان بنی۔ حتی کہ طالبان کو صلاح مشورہ کرنے کے بعد ایک بچی کو قتل کرنے کا اتنا بڑا فیصلہ کرنا پڑا جس کا پختون روایات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور جو ملک بھر کے علاوہ خود ان کی صفوں میں بھی شدید بے چینی کا باعث بنا۔

لیکن خدا نے ملالہ کو ایک نئی زندگی دی۔ سر میں گولی کھا کر بھی وہ زندہ رہی اور آج بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کا سب سے زیادہ روشن چہرہ اور مقبول ترین شخصیت بن کر ابھری ہے۔ لڑکیوں کو جس تعلیم سے انتہاپسند روکنا چاہتے تھے، اس کے لئے کام کرنے والوں میں ملالہ یوسفزئی سرفہرست ہے۔

دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیاں ملالہ اور ضیا الدین یوسفزئی کو اعزازی ڈگریاں دینے کے لئے بلاتی ہیں۔ وہ ایک شرط کے ساتھ اس ڈگری کو قبول کرنے کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ متعلقہ یونیورسٹی پاکستانی طلبا و طالبات کو میرٹ پر داخلہ دے کر سکالر شپ دے گی۔


اسی بارے میں

ملالہ کی ڈائری: سکول جانا ہے۔ ۔ ۔

ملالہ اور میں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1431 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar