آپ کے پاس ایک سگریٹ ہے؟
لمبا رستہ اور سگریٹ کے ایک کش کی طلب, جیب میں تیس روپے، سگریٹ خریدے یا بس پکڑے، قدم اسٹاپ کی جانب بڑھتے ہیں، سامنے سگریٹ پان کا کھوکھا ہے، بس آکر رکی، قدم بس کی طرف بڑھے، بہت تھکان ہے، گھر پہنچ کر آرام کیا جائے، مگر اچانک منظر بدل جاتا ہے اس کے قدم بس کے پائدان پر ہیں نا اس کے ہاتھوں میں دروازے کا ہینڈل، روزانہ کی طرح آج بھی اس کے قدم سڑک پر اور ہاتھوں میں سگریٹ کا پیکٹ اور طویل سفر۔ گھر پہنچنے تک خیالات کا جمع غفیر ایک غزل، نظم یا افسانے کی صورت میں کاغذ پر آچکا ہے۔ ایسے میں کبھی کوئی متمول دوست شراب کے نشے میں پیشکش کر دے کہ لو یار، ان پیسوں سے بائیک خرید لو، تو وہ کتاب چھپوانے کے لیے مارکیٹ ریٹ پتہ کرنے کے لیے دوڑ لگا دے گا اور پھر سڑک گردی۔۔۔۔۔
ادب کی ترقی وترویج کے نام پر جو سرکاری اور نیم سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں ان کا حال بھی دور دراز گاؤں میں قائم کسی اجڑے مزار سے کم نہیں۔ جن پر بے حساب چادریں ڈالی جا تی ہیں اور روزانہ زائرین ایک امید پر یہاں آتے ہیں لیکن تنِ مردہ میں جان کہاں ہے جو ان کی امیدوں کو آس دلائے ہاں اس پر جھاڑو پھیرنے والے مجاوروں کو اس خدمت کے عوض خوب نوازا جاتا ہے۔ ادبی فضا پر ان مجاوروں کی اجارہ داری، فنِ بادشاہ گری سے قائم ہوتی ہے، تاکہ زندگی کی آخری سانسوں تک مسندِ بادشاہ گری پر قائم رہ کر کسی وڈیرے کی طرح شاعر و ادیب پر اپنی حاکمیت کا رعب جھا ڑ سکیں، اگر یہ ادیب اور شاعر پیسے سے مضبوط ہو گئے تو ان کے بھرم کے غبارے کی ہوا جلد ختم ہو کر انہیں دو کوڑی کا کر دے گی، شاعر زندہ ہو تو لاکھ کا اور مر جا ئے تو سوا لاکھ کا ہو جا تا ہے، مگر انہیں کون پو چھے گا، اس لیے یہ مجاور، تخلیق نگار کنگلوں کے لیے میں سو سو کے نوٹ جیب میں رکھتے ہیں جس کی امید پر یہ انہیں سلام کرتے ہیں اور ان کی انا کو توانائی بخشتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے ان کا مسئلہ صرف ایک سگریٹ ہے اور وہ حاتم طائی تو انہیں سگریٹ کا پیکٹ اور واپسی کا کرایہ بھی دیتے ہیں۔ ان اداروں کے جمے ہوئے عہدے داروں نے جو کچھ کیا وہ اپنے عہدوں پر جمے رہنے کے لیے کیا، اور اسی لیے شاعر اور ادیب بھی اپنے حال پر جما ہوا ہو ا ہے۔
عورت ان کی تخلیقی مہمیز کے لیے اشد ضرورت، مگر وہ ان کے قریب نہیں پھٹکتی، سب ایک ایک کر کے دور ہو گئے رشتے ناطے خوشیاں، دکھ درد دھوپ چھاؤں کچھ بھی پاس نہیں انہیں تو شراب کا نشہ بھی پورا نہیں چڑھتا، ایک بے تابی بےکلی جان نکالے رکھتی ہے، ان کے دماغ میں رینگتی چیونٹیاں کسی شیریں خیال کی آس میں بھوکی مرتی ہیں، شاعر کی حس جمالیات، کے ساتھ دیگر حسیّات بھی دم توڑ دیتی ہیں، مگر آنکھوں اور ہاتھوں میں دم رہنے تک قلم کے لیے روشنائی اور ایک کاغذ درکار ہے اور تصورِ جاناں کو فرصت، یہ کسی چیز کے طالب نہیں۔ انہیں تو اصلی نقلی کی پہچان نہیں ہر داد کو دل سے نکلی ہو ئی سمجھ کر اسی در پر داد لینے کو بار بار پہنچ جاتے ہیں، اور جو کبھی دروازے سے کہلوا دیا جا ئے کہ صاحب گھر پر نہیں تو کسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر صاحب کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں، اور صاحب کو گھر سے نکلتا دیکھ کر داد کی اوقات سمجھ آ جاتی ہے اور کتاب لانے کی خواہش پھر بڑھ جاتی ہے، ایسے خستہ حالوں سے تو اکثر بانجھ کتاب لکھوا لیا کرتے ہیں اور عوض میں بیس تیس ہزار دے کر شاعری کی کتاب لے آتے ہیں۔ کتاب لانے کی خواہش پوری تو ہوئی پر کتاب پر نام کسی اور کا، جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ کتنے ہی شاعر اپنے ہاتھوں میں کتاب لیے شہروں شہروں ملکوں ملکوں اس کی رونمایاں کروا رہے ہیں تو اس کے دل میں بھی کتاب لانے کی خواہش شدت پکڑ لیتی ہے اور اکثر ایک حسرت بن کر اس کے ساتھ ہی دفن ہو جا تی ہے۔
اور کبھی کبھی تو دوستوں کی مہربانیوں اور گھر والوں کی قربانیوں کے سائے تلے اپنی کتاب بھی لے ہی آتا ہے جو اس کی حالت کی طرح پتلی ہوتی ہے لیکن مسئلہ برقرار ہے۔
دس کتابوں کا میں مصنف ہوں
آپ کے پاس ایک سگریٹ ہے
کار پوریٹ پاکستان گروپ نے Reviving Karachi مہم کا آغاز ایک شاندار مشاعرے کے انعقاد سے کر دیا ہے۔ یہ مشاعرہ کلفٹن میں موہٹہ پیلس کے لان میں کیا گیا، حاضرین کی بڑی تعداد ڈیفنس اور کلفٹن کے ہر عمر کے مکینوں کی تھی، ہمارا خیال تھا کہ مشاعرہ بڑا سپاٹ جائے گا، اردو زبان اور وہ بھی مشاعرہ! مگر حیرت ہے کہ حاضرین سے سب سے زیادہ داد انہیں اشعار پر ملی جو مفہوم کے اعتبار سے زرا مشکل تھے۔ شہر کے پوش علاقے اور خاص طور پر ڈیفنس، کلفٹن اور امراء کا ذکر کرتے ہوئے نجا نے کیوں ہم اتنے تعصبی ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وسیع گھروں کے مکین پانی کے بدلے پھلوں کے جوس پینے والے موت کی تفہیم اور اگہی کا سبق کہاں سمجھیں گے۔ اس کی وجہ شاید شاہوں کے درباری شعراء کے وہ قصے بھی ہیں جن کے سخن میں کوئی کلام نہیں لیکن اپنا باورچی خانہ چلانے کے لیے انہیں شاہ کے قصیدے لکھنے پڑے، یوں سب اچھا تو چلا لیکن جہاں شاہوں کے خلاف بغض اور کینہ بڑھا وہیں شاعر اور اس کے مدح کی چھاتی پر ایک سل بھی دھری رہی۔
حساس دل میں چھپے زخم گنگناتے ہیں تو شعر کا روپ دھار لیتے ہیں، کبھی ان زخموں سے لہو رستا ہے تو کبھی یہ آنچ دیتے ہیں تو کبھی شبنمی احساس، کبھی امید تو کبھی حوصلہ، کبھی مسکان دیتے ہیں تو کبھی آنسو یہ دکھی دلوں کی آواز ہوتے ہیں۔
یہ زخم کہیں ناسور نہ بن جائیں۔ اس سوچ کے تحت کارپوریٹ سیکٹر نے ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا ہے۔ نیت بھی اچھی ہے اور سوچ بھی کہ شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں چھپیں گی بھی اور پاکستان کی لائبریریوں میں تقسیم بھی کی جائیں گی۔ یہ انتہائی احسن قدم ہے۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ یہ پیسہ گنوانے کو لوگ کہاں چلے آئے،ادباء اور شعرا کے نام پر تو پیسہ نام اور تعلق بنایا جاتا ہے ارے بھا ئی آپ کے پاس تو سب کچھ ہے۔ یہ کام تو ادب کے نام لیوا سیا سی لوگوں کا ہے۔ جنہوں نے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور آرٹ سے وابستہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔ سوچنے والوں کے باورچی خانے ڈبوں سے خالی رہیں مگر دکانوں اور لائبریریوں کے شیلف پر کتابیں دھری ہوں تو پڑھنے والوں کے دماغ پر دستک ضرور ہوتی ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر شوقین سست وکاہل کام چور اور شعری ساخت اور کیفیات سے نابلد یا غیر معیاری تحریر کے حامل لکھاری کو پروموٹ کیا جائے لیکن ایسا شاعر و ادیب جسے اس دشت کی سیاحی میں پندرہ بیس سال ہو چکے ہوں بھلے وہ پی آر کے شعبے میں نا پختہ ہو لیکن فنی اور تخلیقی سطح پر پورا اترتا ہو ایسے تخلیق کار کی کاوشوں کو منظرِ عام پر لانے کی سعی ہی کار پوریٹ سینٹر کی عزائم کو آشکار کرے گی۔
تاریخ شاہد ہے کہ سوچنے والوں نے ہی کائنات میں انقلاب برپا کیے۔ ان کے دم سے ہی اجالے نمو ہو ئے۔ اور بقول میراحمد نویدؔ کے ’’ سوچو گے نہیں تو بھوکے ہی رہو گے ‘‘۔ جہاں فکر رکھنے والوں کی فکر کی جاتی ہے وہاں وہ حالات نہیں ہوتے، نہ بے یقینی کی وہ کیفیت ہوتی ہے جس سے ہمارا ملک دو چار ہے۔
نوٹ: اپنی ٹیم کو سکہ بند باد شاہ گروں کی پہنچ سے دور رکھیں۔




