دو پیمانے اور نا انصافی نہیں چلے گی: نواز شریف
سلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مخالفین کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 2013 میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کروں گا اور دن رات کام کر کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا۔
نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے بے حساب کارخانے لگا دیے، آج جتنے منصوبے ہم نے لگائے اتنے گزشتہ 20 سالوں میں نہیں بنے اور پاکستان کے پاس اضافی بجلی موجود ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے خلاف جو فیصلہ آیا اس کے بعد بدقسمتی سے ملک میں ترقی پھر بند ہوگئی، زرمبادلہ کے ذخائر نیچے آنا شروع ہوگئے، جی ڈی پی کا اب پتہ نہیں کیا ہوگا جو 6 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب فیصلہ آیا اس وقت اسٹاک ایکسچینج 54 ہزار پر تھا اور آج 38 ہزار تک پہنچ چکا ہے، ملک میں سڑکیں اور موٹرویز بن رہی تھیں، مسلم لیگ ن نے پشاور سے لاہور تک موٹروے بنائی، اب لاہور سے ملتان موٹروے بن رہی ہے جو آئندہ سال مکمل ہوجائے گی جب کہ اسلام آباد سے مانسہرہ موٹروے مکمل ہونے کو ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ایسا ملک ہو جہاں انصاف کا ترازو سب کے لئے ایک جیسا ہونا چاہیے، جہاں ایک وزیراعظم کو اس گناہ میں عمر بھر کے لئے نا اہل نہ کردیا جائے کہ وزیراعظم نے اپنے بیٹے سے خیالی تنخواہ وصول کیوں نہیں کی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ دو پیمانے اور نا انصافی نہیں چلے گی، میرا حساب کتاب اس وقت سے مانگا جارہا ہے جب گورنمنٹ کالج میں زیرتعلیم تھا اور ایک لاڈلے کو اقرار جرم کے باوجود چھوڑ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ 5 سال سے پیچھے کا کھاتہ نہیں کھولا جاسکتا۔
نواز شریف نے کہا کہ دنیا کا اصول ہے کہ انسان اس وقت تک معصوم جانا جاتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے، لیکن پاکستان میں نہیں، دنیا بھر میں سزا پانے والے کو اپیل کا حق ہے لیکن پاکستان میں نہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ یہ میرے اثاثے ہیں لیکن جج کہتے ہیں کہ یہ آپ کے اثاثے نہیں ہیں، آپ صادق اور امین ہیں، شکر ہے آگے یہ نہیں کہہ دیا کہ عمران خان یہ آپ کے نہیں نواز شریف کے اثاثے ہیں۔ چند ہفتے پہلے کہا تھا عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس کے فیصلے میں بھی نواز شریف ہی نا اہل ہوگا، جنہیں نا اہل ہونا چاہیے تھا وہ بچ گئے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ جب تک اس ملک کے اندر عدل کی تحریک کامیاب نہیں ہوتی کارکناں کو اس پر ڈٹے رہنا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ایک خاندان پر بے بنیاد الزامات پر کئی کئی ریفرنس دائر ہوجاتے ہیں لیکن کسی کو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے باوجود کچھ نہیں کہا جاتا، وہ خود کہہ رہا ہے کہ نواز شریف کو سزا پاناما پر دینا چاہیے اقامہ پر کیوں دے دی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ میری نا اہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین اور قانون کی بے حرمتی اور عوام کے ووٹ کے تقدس کا ہے، میری اہلیت اور نا اہلیت کا فیصلہ پاکستان کے عوام نے کرنا ہے اور عوام وہ فیصلہ کریں گے جو انصاف اور میرٹ پر مبنی ہوگا۔
نواز شریف نے عمران خان کا نام لیے بغیر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو بزدل کہنے والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں، الیکشن ہارتا ہے تو دھاندلی کا رونا روتا ہے، راستے تلاش کرتا ہے کہ نواز شریف کو کس طرح نا اہل کرادیا جائے، کبھی امپائر کی انگلی کو دیکھتے ہو اور کبھی اداروں کی طرف جاتے ہو، 2018 کے انتخابات میں کلین بولڈ ہوجاؤ گے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے تمام ڈکٹیٹروں کو عدالتوں نے خوش آمدید کہا، انہیں کئی کئی برس کی حکمرانی کی اجازت دی، انہیں آئین سے کھیلنے کے فرمان جاری کیے۔
بشکریہ جیو نیوز

