بھٹائی کی ایک بیت بے نظیر کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہ عبدالطيف بھٹائی کے ایک بیت کا ترجمہ آج میری طرف سے بینظیر بھٹو کے نام.
بیت کا کردار عشق کے دریا میں اتری ہوئی “سوہنی(سھڻي)” ہے.

(ترجمہ: نورالہدیٰ شاہ)

شوقِ سفرِ عشق میں
جاں کچے گھڑے پر دھرے
معاملہِ دل، رب پے رکھے
بپھرے دریا میں اترے گی لڑکی
گرجتی، لپکتی موجوں کے ہنگامہ و غوغا میں
کوئی نہ ہوگا جو سنے اس کی آہ و بکا

دریا میں چھپ بیٹھا مگر مچھ
منہ پھاڑے منتظر ہو گا
کہ عشق کی ماری لڑکی
اترے دریا کے سینے میں
وہ نوچ دے رہِ عشق کی طرف اٹھتے پیر اس کے
گردن سے توڑ دے اسے
کلائیوں سے مروڑ دے اسے
چوڑیاں و کنگن دلدل میں دھنس دے
چنبیلی گندھے بال اس کے
میلے پانیوں پر ڈولتے پھریں یہاں سے وہاں

مگر مچھ کی تابعدار
خونِ عشاق کی پیاسی مچھلیاں
لڑکی پر ٹوٹ پڑیں
اور بیچ رہ عشق میں لیر لیر ہو دھجیاں لڑکی
کہ پھر کوئی عشق کی ماری
رہِ عشق کا شوق نہ کرے

————-
گِھڙِي گَھڙو هَٿِ ڪري، اِلاهِي تُهارَ!
ڄَنگَھ ڄَرڪي واتَ ۾ سِسِيءَ کي سيسارَ؛
چُوڙا ٻِيڙا چِڪَ ۾، لُڙَ ۾ لُڙِهيَس وارَ؛
لَکين چُهٽيسِ لوهِڻـيُون، ٿيلهيُون ٿَـرَنِئُون ڌارَ؛
مِڙيا مَڇَ هزارَ، ڀاڱا ٿِيندِي سُھڻِي ( لطیف)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 96 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah