عالمی اردو کانفرنس اور کراچی کے انور مقصود

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا‘۔ عالمی اردو کانفرنس کی فقید المثال کامیابی کا جو سہرا احمد علی شاہ کے سر سجتا ہے، اس سے میں صد فی صد متفق ہوں۔ وہاں کس نے کیا کہا اس کا ذمے دار وہ خود ہے اور اس پراختلاف رائے کا حق ہزاروں شرکا کی طرح مجھے بھی حاصل ہے۔

اس سال پہلی بار اردو کانفرنس میں مجھے کہیں کہیں ملک کی سیاسی فضا کی آلودگی کو ادب اورثقافت میں یوں شامل ہوتا دیکھا، جیسے لاہور کے موسم سرما میں دھند کے بعد اسموگ، جس کا 1965ء تک، یعنی جب تک میں لاہور میں تھا؛ کوئی تصور نہ تھا۔ میں صرف دو حوالے دوں گا۔

پاکستان میں اسٹیج تھیٹر کے ارتقائی عمل کا جائزہ لینے والوں میں دو اہم نام طلعت حسین اور خالد احمد غیر حاضر رہے اور ان کی جگہ دو نوعمر نوجوان نظر آئے، جن کی عمر سے ان کی صلاحیت کا تعین کرنا یقیناً غلط ہوگا۔ تقاریر کے دوران یہ تاثر دیا گیا کہ تھیٹر کی نشونما اور ترقی میں تمام تر یا زیادہ تر دخل کراچی کا ہے۔ میں منتظر رہا کہ کوئی مقرر”اجوکا تھیٹر“ کا نام تو لے، جس کے ڈرامے ”انھی مائی دا سفنا“ ( اندھی بڑھیا کا خواب) پاکستان کے ہر شہر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد، سرحد پار اور دیگر ممالک میں مقبولیت کے رِکارڈ قائم کر چکا ہے اور ان کا ناٹک ”دارا شکوہ“ ایک کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے، جس کے بارے میں ایک بہت بڑے مغربی نقاد نے کہا، کہ یہ نصاب میں شامل کیے جانے کے لائق ہے۔

سیشن کے آخر میں نعیم طاہر نے یہ فریضہ تو پورا کیا لیکن اس اختصار سے کہ اس کا تاثر قائم ہی نہ ہوسکا۔ لاہور کی ثمینہ احمد ’میں چپ رہوں گی‘ کی تصویر بنی رہیں۔

کسی نے اسٹیج ڈرامے کے پچاس سال پرانے تاریخی دور کا حوالہ تک نہ دیا، جب آرٹس کونسل مال روڈ لاہور کی ایک قدیم عمارت میں تھا۔ جہاں صرف ایک سو پچاس نشستوں والا آڈیٹوریم تھا اور وہاں کمال احمد رضوی (الف نون فیم) نے کئی باکمال ڈرامے لکھے، ڈائریکٹ کیے۔ خود اداکاری کی اور ڈاکٹر انور سجاد نے ان کے ساتھ شب و روز ایک کیے۔ وہ انور سجاد جو کہیں گیا تو مشہور ہوا کہ پاکستان سے فن کاروں کا ایک طائفہ آرہا ہے مگر جہاز سے اترا ایک شخص؛ جو ڈاکٹر، افسانہ نویس، مصور، اداکار، رقاص سب کچھ تھا۔

میں بتا سکتا ہوں کہ جب کمال احمد رضوی کا ڈراما ”خالد کی خالہ“ پیش کیا جارہا تھا اور ہم سب ہنس ہنس کے بے حال تھے، تو خواجہ ناظم الدین کے انتقال کی خبر آئی، اور ڈراما روک دیا گیا۔ اس سے بالکل صحیح تاریخ کا تعین ممکن ہے، جو میرے ذہن میں نہیں۔ (سرکار، اکتوبر کی 22 تاریخ تھی اور 1964 کا برس تھا۔ مدیر)

پی این سی اے اور لوک ورثہ کا کسی کی زبان پر نام تک نہ آیا۔ سیشن کے اختتام پر میں اسٹیج پر چڑھا اور میں نے نعیم طاہر اور ثمینہ احمد سے احتجاج کیا، کہ آپ نے افضال احمد کو کیسے بھلا دیا، جس نے پاکستان کا سب سے خوبصورت اور جدید تھیٹر آڈیٹوریم ”تماثیل“ بنایا؛ جہاں ایک ڈراما ”دُکھاں دی میلی چادر“ پورا ایک سال مسلسل پیش کیا گیا۔ یہ ایک رِکارڈ ہے۔ میں نے اسلام آباد سے دو بار لاہور جا کے ٹکٹ حاصل کرنا چاہے مگر ناکام رہا۔ نعیم طاہر کے ساتھ ثمینہ احمد نے بھی کوتاہی کا اعتراف کیا، لیکن پس پردہ یہ اعتراف لا حاصل تھا۔ یہ تاثر تو بن گیا کہ تھیٹر کا فروغ صرف کراچی میں ہوا۔

اردو کانفرنس کے پانچویں دن پر میرے تاثرات کا نصف ستایشی اور نصف مذمتی ہے۔ ’یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران‘ یہ گانا سرحد کے دونوں طرف گاندھی او جناح کے لیے ایک سی عقیدت مندی کے ساتھ گایا جاتا رہا، اور ہماری تاریخ کی پہلی نصف صدی میں اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔ پھر ایک منفی تجسس اور حیران کرنے کی خواہش رکھنے والوں نے مختلف زاویوں سے جناح کی نجی زندگی پر بھی ایسے سوالات اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا جو میرے نقطہ نظر سے لاحاصل تھے اور اب یہ ایک فیشن ہے۔ میں اس بحث کو اسی انداز میں لاحاصل سمجھتا ہوں، جیسے تیسری نسل کو وراثت میں محل بھی ملے تو وہ خدا کا شکر ادا کرنے اور محل کو بنانے سنوارنے کی بجائے، اس بحث میں پڑ جائے کہ دادا کی ذات اور کردار کے نقائص کیا تھے۔

سہ پہر کا سیشن قائد اعظم سے معنون تھا؛ جس کی صدارت چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کی، اور کمپیئرنگ ڈاکٹر ہما بقائی نے کی؛ اس میں ڈاکٹر جعفر، جاوید جبار، غازی صلاح الدین، حارث خلیق جیسے بڑے نام تھے۔پہلے مقرر ڈاکٹر جعفر نے اس کی ابتدا ”پاکستان کے اغوا کی ایف آئی آر“ سے کی۔ انھوں نے ستر سال کی تاریخ کے حوالوں سے ثابت کیا، کہ جس نظریے پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی، موجودہ پاکستان کی نظریاتی، سیاسی اور ثقافتی ساخت میں اس کو حرف غلط کی طرح مٹادیا گیا ہے۔

کچھ ایسا ہی غازی صلاح الدین نے کہا، کہ پاکستان کو فکری آزادی سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ سیاسی سوچ پر قدغن اور اظہار پر پابندیاں کتنی زیادہ ہیں؛ انھوں نے جاوید جبار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، کہ چالیس سال قبل ہم نے سرکاری ٹی وی پر کیسے آزادانہ بات کی تھی، جو آج انفرادی سطح پر بھی ممکن نہیں۔ جو سوشل میڈیا پر اسی کی ہمت کرتے ہیں غائب کردیے جاتے ہیں۔ بعد میں آنے والے مقررین نے حکومتی نظام کی جابرانہ روش اور مذہبی تشدد کے رجحان میں اضافے پر کھل کے تنقید کی۔

جاوید جبار نے کہا کہ جناح کے پاکستان کا اغوا ابھی ہوا نہیں، لیکن اس کی کوشش جاری ہے۔ حارث خلیق نے کہا کہ وہ ڈاکٹر جعفر کی ایف آئی آر میں چشم دید گواہ ہوں گے۔

یہ سب تقاریر قائد اعظم کے یوم پیدایش کی تقاریب کے روایتی اور سرکاری انداز سے یک سر مختلف تھیں؛ جن کا میرے جیسا کوئی شخص تصور ہی نہیں کرسکتا تھا۔ خیال تھا کی وہی گھسی پٹی باتیں ہوں گی اور پہلے سے تقسیم کردہ جھنڈے لہرائے جائیں گے۔ اس کا صدمہ سب سے زیادہ میرے ساتھ بیٹھے کالم نگار ہارون رشید کو ہوا کہ وہ احتجاج کے انداز میں واک آوٹ کر گئے اور سوا گھنٹے غیر حاضر رہے۔

اب میں سوچ رہا تھا کہ رضا ربانی جو چیئرمین سینیٹ تو ہیں ہی، لیکن پیپلز پارٹی سے وابستگی بھی رکھتے ہیں، اس ماحول میں کیا کہیں گے!؟ اور انھوں نے پھر ثابت کیا کہ وہ ”حق گوئی و بے باکی“ کی تہمت بلا وجہ نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا کہ نظام کو بدلنے کے لیے جرات اظہار کی، اور جہاد کی ضرورت ہے، چناں چہ جب افراد کے لاپتا ہونے کا سلسلہ شروع ہوا، تو اس کے خلاف آواز اٹھائی گئی، جو ایک تحریک بنی تو لاپتا افراد بازیاب ہوئے۔

جب پانچ بلاگرز کو اٹھایا گیا تو عوامی حمایت و احتجاج ہی سے ان کی واپسی ہوئی، اور جب بھی ملک میں آزادی اظہار کی تاریخ لکھی جائے گی، تو یہی لاپتا ہونے والے اس کے ہیرو شمار ہوں گے۔ میں اس انداز فکر کو سلیوٹ کرتا ہوں۔

ایک ادبی میلے کی تقریب کو، میرے خیال میں، انور مقصود کی اختتامی تقریر نے، وہ سیاسی رنگ دے دیا جو قطعی ناموزوں تھا۔ میں ان کی خاندانی نجابت اور ادبی حیثیت کا معترف ہوں اور تین عشروں سے زیادہ عرصے پر محیط، انور مقصود کی طنز و مزاح کا اعلیٰ معیار رکھنے والی ٹی وی اور اسٹیج ڈرامے کی ہر کاٹ دار تحریر کا زبردست مداح ہوں اور ان کی جرات رندانہ کا معترف ہوں۔ ان کی شخصیت اور ان کا طرز فکر ایک پوری جنریشن کے لیے قابل تقلید مثال رہا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس نے مجھے ان کی اردو کانفرنس میں اختتامی تقریر پر متعجب اور مایوس کیا۔

ان کے مزاح کی چاشنی میں سیاسی تعصب کی تلخی کا شدت سے احساس ہوا، جب انھوں نے ’نون‘ کے حوالے سے نواز شریف؛ نون لیگ اور پنجاب سے منسوب ہر کام اور نام کو طنز کے انداز میں تضحیک و تذلیل کا نشانہ بنایا اور اس جوابی وار کا درجہ رکھنے والی حقیقت سے عمداً گریز کیا، کہ ’نون‘ خود ان کے نام میں ہے۔ ’پاکستان‘ میں ہے؛ ’جناح‘ کے نام میں ہے؛ ’جنت‘ اور ’جہنم‘ میں ہے۔ حیوان اور شیطان میں ہی نہیں انسان اور رحمان میں؛ علیٰ ھذالقیاس۔ کہاں نہیں۔ توآپ یہ کیسا ادب عالیہ بول رہے ہیں، جس کی بنیاد صوبائی اور لسانی عصبیت پر ہے؟ صرف اس لیے کہ ہال میں تالیاں پیٹی جارہی ہیں؟ آپ اب مقامی مقبولیت کی سطح پر آ گئے ہیں؟ جس پر نعیم طاہر نے برملا کہا تھا، کہ پنجاب کو برا کہنا، اب یہاں فیشن بنتا جارہا ہے۔

انور مقصود کو ”لائف ٹائم اچیومنٹ“ ایوارڈ دینا، مجھے ناجائز نہیں لگا، لیکن ان کے ماضی کی خدمات کی بنیاد پر۔ شاید مستقبل کے لیے ان کو لسانی عداوت کی بنیاد پر اردو کا نہیں، کراچی کا ادیب کہلانے کا شرف حاصل ہو گا۔ اُردو تو قومی زبان ہے اور قومی ادیب نصف آبادی کی تذلیل اس بنیاد پر کرے، کہ اس کی مادری زبان پنجابی ہے، تو وہ قومی کہاں رہا۔ انور مقصود یقیناً جانتے تو ہوں گے، کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نمایندہ شاعر اقبال اور فیض پنجابی تھے، تو منٹو اور احمد ندیم قاسمی بھی پنجابی تھے۔ اردو فلموں کے سو سال پہلے تین مراکز بمبئی، کلکتہ اور لاہور تھے۔ مغربی پاکستان میں واحد ریڈیو اسٹیشن لاہور تھا۔ پیسا اخبار، ادبی دنیا، ادبِ لطیف، عالمگیر، پھول اور نقوش، سویرا، فنون، سیپ، دور تک سب اردو پنجاب کی ہے۔

لیکن مہاجر کے بعد متحدہ کی جگہ نئی سیاسی پیکنگ پر، اردو اسپیکنگ کا برانڈ لیبل لگانے والے وہی ہیں، ان نے شاید انور مقصود کو سیاسی لیڈری کا نشہ آور انجکشن لگادیا ہو۔ ورنہ تو ہر زبان کا ادیب ساری انسانیت کا نمایندہ اور ترجمان ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 18 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal