نور جہاں کے فن کو احرام پہنانے کی ضرورت نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حافظ شفیق الرحمان ایک باکمال کالم نگار ہوا کرتے تھے۔ اب لکھتے ہیں یا نہیں معلوم نہیں مگر اپنا بچپن ’دن‘ اخبار میں ان کے کالموں کو پڑھتے گزرا ہے۔ حالات پر خوردبینی نگاہ رکھتے تھے۔ معاملہ عرب و عجم کا ہو یا دینی یا دنیاوی مسئلہ، اس میں سے قادیانی سازش نکالنے میں انہیں یدطولی حاصل تھا۔ گویا پاکستان کے تمام مسائل یہاں سے شروع ہوتے تھے اور یہیں ختم۔

حافظ صاحب نے ایک کالم میں شاعری اور فنون پر روشنی بکھیرتے ہوئے مجھے ایک عمدہ نکتہ سمجھایا تھا۔ اقبال اور فیض کے فن شاعری کا موازنہ کرتے ہوئے حافظ صاحب نے لکھا کہ اقبال بہت عظیم شاعر تھے، انہوں نے اسلام کی بہت خدمت کی اور ان کی شاعری اسلامی نظام کی خوبیوں سے بھری پڑی ہے۔ فیض صاحب بہت ہی برے شاعر تھے، وہ تو ملحد تھے، ملحد کیسے اچھا شاعر ہوسکتا ہے۔ حافظ صاحب کے اس کالم کے بعد ایک بات میں نے پلے سے باندھ لی کہ شاعر اور فنکار کے فن کو اس کے ذاتی خیالات اور اس کی ذاتی زندگی میں اپنائے ہوئے طرز عمل سے کبھی نہیں جانچنا چاہئے۔ اس کے بعد نہ فیض صاحب برے شاعر لگے اور نہ ہی اقبال کی شاعری کو ان کے اسلامسٹ خیالات کی عینک سے دیکھا۔

موسیقی کا بھی یہی حال ہے۔ جنید جمشید نے موسیقی چھوڑی اور تبلیغی جماعت اختیار کی۔ اس سے میرے دل میں ان کے گائے ہوئے گانوں کی پسندیدگی میں کبھی فرق نہ آیا۔ بعد میں ان کے عورت مخالف خیالات پر میں ایک جارحانہ مضمون لکھ چکا ہوں۔ اگرچہ جنید جمشید کی دردناک موت پر میں خوش نہ تھا۔

کتنے ہی کرکٹر ہیں جو اچھے خاصے کرکٹ کھیلتے کھیلتے تبلیغی بن گئے اور اس سے ان کے کھیل کو توجہ کے بٹنے سے نقصان پہنچا۔ کیا ان کی لمبی داڑھیوں کی وجہ سے انہیں ٹیم میں شامل کئے رکھا گیا؟ اچھی کرکٹ کا عبادت سے تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے ہی اچھے کردار کے 62-63 ٹکسالی سانچوں یا سماج کے بنائے ہوئے جعلی ذات پات کے نظام، طبقات کی اونچ نیچ اور پیشوں کی من گھڑت تقدیس یا رذالت سے فن اور فن کار کی عزت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ فن کار کی عزت اس کے ہنر کی بدولت ہوتی ہے۔ نور جہاں کے فن کو عزت پانے کے لئے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لتا کی میٹھی تان کو گنگا اشنان کی حاجت نہیں۔

کیا اگر نورجہاں جیسی تھیں، ویسی نہ ہوتیں، پانچ وقت کی نمازی ہوتیں، صوم و صلوۃ کی پابند، تبلیغی جماعت کی ممبر، حجاب لینے والی اور کسی مرد کے زیر نگیں اور گھر کی چار دیواری میں قید اور اس قید کی زنجیروں پہ نازاں ہوتیں تو مولوی ان کی گائیکی سے خوش ہوجاتا؟ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی نورجہاں مولوی کے لئے ’کنجری‘ ہی ہوتیں۔ بات یہ ہے کہ اختلاف تو موسیقی کی حرمت پہ ہے۔ یہ طبقہ اپنی مذہبی تشریحات کی بدولت موسیقی کو حرام تصور کرتا ہے۔ موسیقی سے نفرت دلانے کے لئے اس فن سے وابستہ افراد کی ذاتی زندگی کے قصے اچھالے جاتے ہیں۔ ان پر چٹ پٹا مسالہ لگا کر دین بیچا جاتا ہے۔ بھلا دین کو، فرد کے خدا سے رابطے کو کسی کے ذاتی افعال سے کیا تعلق۔

پھر وہ لوگ ہیں جو موسیقی کی حلت مذہب کی نت نئی تشریحات سے ڈھونڈتے ہیں۔ یہ لوگ مولوی طبقے کو جواب دینے کے لئے فن کار کو احرام پہناتے ہیں۔ حیرت ہے کہ انسان، جس نے الفاظ کی ایجاد سے بھی قبل موسیقی ایجاد  کی، جس کے سماج کی بنیاد پڑنے کی وجوہات میں سے ایک موسیقی ہو وہ چند ہزار برس پہلے کے مذاہب سے موسیقی کی حلت ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ موسیقی کسی مذہب، ثقافت، زبان، نوع حتیٰ کہ تخلیق کار کے وجود میں زندگی کی بھی محتاج نہیں۔ نورجہاں کا گانا، ایس ڈی برمن کی دھن، دحمان الحراشی کے نغمے، کوئل کی کوک یا جھرنے کی آواز، ان سب میں کیا چیز مشترک ہے۔ یہ سب مختلف مذاہب، ثقافت، زبان، نوع سے تعلق رکھتے ہیں اور جھرنا تو کسی زندگی کا محتاج بھی نہیں۔ موسیقیت ہی ان سب میں نکتہ اشتراک ہے۔

ایسے ہی سننے والے کان بھی کسی مذہب کے محتاج نہیں۔ کیا ایک دوسرے کو متوجہ کرنے کے لئے گاتا ہوا سانگ برڈز کا جوڑا مولوی کے فتوی کا محتاج ہے؟ کیا پہاڑوں میں گنگناتا جھرنا اپنے سروں کی سرگم کے لئے عمامہ پوشوں کے اشارہ ابرو کا محتاج ہے؟ کیا ایس ڈی برمن کی دھن سے حظ  کے اٹھانے کے لئے ہمیں اکوڑہ خٹک کے ملاؤں سے اجازت لینی پڑے گی؟ ام کلثوم کا نغمہ اپنی تابانی کے لئے جامعہ الازہر کے مفتی کا مرہون منت نہیں ہے۔ گانے والا گلا اور سننے والے کان کسی پیشوا کے اجازت نامے  کے محتاج نہیں۔

تو پھر کیوں ہم نورجہاں کے ترنم کو احرام باندھیں اور لتا کی تان کو گنگا اشنان کروائیں۔ ہمیں فنکار کی عزت اس کے فن سے کرنے دیجئے۔۔۔۔ نور جہاں سرور جہاں اس لئے ہے کہ اس کے سر سے اوکاڑہ کی وین کی اگلی سیٹ پر بیٹھا ڈیڑھ سال کا بچہ بھی سرور حاصل کرتا ہے۔ نورجہاں کے فن کو کسی کٹ ملا کے کاسہ فتنہ گر سے چھلکتے بخشش نامے کی ضرورت نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •