بھارت میں علماء نے تنگ برقع اور جھینگا حرام قرار دے دیے


بھارت میں دارالعلوم دیوبند نے کہا ہے کہ تنگ اور فیشن ایبل برقعہ پہننا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ اترپردیش کے سہارنپور ضلع میں واقع اس دینی درسگاہ نے اس سلسلہ میں ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام خواتین کو ایسا کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو غیرضروری ہو اور جس سے مردوں کی توجہ حاصل ہوتی ہو۔ اس فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ تنگ اور فیشن ایبل برقعہ سے خواتین کا جسم عیاں ہوتا ہے اور اس سے مرد راغب ہوتے ہیں اسی لئے خواتین کو ایسے برقعوں سے گریز کرنا چاہئے۔ دارالعلوم کے دارالافتاء نے یہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ خواتین کو غیرضروری طورپر گھروں سے نہیں نکلنا چاہئے ۔

ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں جامعہ نظامیہ نے جھینگے (Prawns) کھانے کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ فتویٰ رواں سال کے آغاز پر یکم جنوری کو جاری کیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ فتویٰ جامعہ نظامیہ کے چیف مفتی محمد عظیم الدین کی جانب سے جاری کیا گیا۔ فتوے میں کہا گیا کہ جھینگے مچھلی کی کسی قسم سے تعلق نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ جھینگا مکروہ تحریم کے زمرے میں آتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کا کھانا حرام کھانے جیسا اور غیر واجب ہے۔ واضح رہے کہ اسلام میں اشیائے خوردونوش سے متعلق تین زمرے ہیں۔ حلال، حرام اور مکروہ۔

دوسری طرف پاکستان میں معروف عالم دین مفتی اکمل قادری کا کہنا ہے کہ جن فقہاء نے اسے مچھلی کہا، ان کے نزدیک تو جائز ہے، لیکن جن کا یہ خیال ہے کہ جھینگا کیڑوں کی قسم کا نام ہے، ان کے نزدیک اس کا کھانا ممنوع ہے۔ تو یہ بہتر ہے کہ جس چیز کے کھانے میں مسئلہ درپیش ہو تو اس سے اجتناب کرنا ہی بہتر عمل ہے۔ مچھلیوں کی ساری اقسام حلال ہیں، مگر بعض چیزیں مچھلی سمجھی جاتی ہیں حالانکہ وہ مچھلی نہیں بلکہ وہ جھینگے ہوتے ہیں۔ اب جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جھینگا مچھلی نہیں ہے، اس لئے امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کھانا جائز نہیں ہوگا، البتہ بطور دوا کھانے میں یا اس کی تجارت میں گنجائش ہوگی کیونکہ مسئلہ اجتہادی ہے۔

Facebook Comments HS