عمران خان کی مبینہ شادی کے علاقائی سیاست پہ اثرات


 عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ شادی کے حوالے سے پاکپتن میں سیاسی حوالوں سے بھی کئی نئے پہلو سامنے آرہے ہیں اور ممکنہ طور پر پاکپتن ضلع کی سیاست بدل جائےگی۔ بشری ٰ بی بی کے داماد میاں حیات مانیکا کو نواز شریف نے ملاقات کے دوران پاکپتن میں ن لیگ کاٹکٹ دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ دوسری طرف خاور فرید مانیکا کے چھوٹے بھائی احمد رضا مانیکا اور میاں فاروق مانیکا پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں ۔

موجودہ صورتحال میں خاور فرید مانیکا جو عمران خان کی پاکپتن آمد پرمیزبانی کے فرائض انجام دیتے تھے اور ان کے ہمراہ دربار پربھی حاضری دیتے تھے اپنے بھائیوں کی سیاسی حمایت کرسکیں گے۔ دوسری جانب ان کے داماد میاں حیات مانیکا ن لیگ کے ٹکٹ پرالیکشن لڑ رہے ہونگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں حیات مانیکا میاں احمد رضا مانیکا کو بھی ن لیگ میں شمولیت کی دعوت دے سکتے ہیں تاہم احمد رضامانیکا ن لیگ کی طرف جانے سے گریزاں ہوں گے۔

سیاسی اعتبار سے مانیکا فیملی کو ماضی میں ان کے والد محترم میاں غلام محمد احمد مانیکا کے دور اقتدار میں جو مقام حاصل تھا اس کو بھی پیش نظر رکھا جا رہا ہے۔ 88ء میں جب میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا جس کی وجہ سے بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ بچ گئی تھی جس کا میاں نواز شریف کو رنج تھا اور 90ء کے انتخابات میں میاں غلام محمد احمد مانیکا کے مقابلہ میں میاں محمود احمد خان سجادہ بسی شریف کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کردیا جو الیکشن میں کامیاب ہوگئے۔ میاں محمود احمد خان روحانی خانوادے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے درگاہ بابا فرید ؒ کے سجادہ نشین دیوان فیملی سے قریبی روابط رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی فیملی بھی ان کی دل سے عزت وتکریم کرتی ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف نے ایک بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں محمود خاں جیسے چار ساتھی مل جائیں تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔

وزیر اعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف نے بسی شریف ہاؤس میں بھی بڑی تقریب سے خطاب کیا تھا۔ میاں محمود احمد خان کی فیملی سے تعلق رکھنے والی خاتون میاں غلام محمد مانیکا کی اہلیہ تھیں جبکہ میاں غلام محمد احمد مانیکا خود بھی میاں محمود احمد خان کے نانا حضرت میاں علی محمد خان ؒ کے مرید تھے تاہم سیاسی حوالے سے میاں محمود احمد خاں اور میاں غلام محمد احمد مانیکا کے درمیان کچھ عرصہ دوریاں رہیں۔

میاں عطامانیکا کے والد محترم بھی حضر ت میاں علی محمد خان بسی شریف والے کے پاس حاضری دیتے تھے۔ میاں علی محمد خان ؒ کا مزار درگاہ حضرت بابافرید ؒ کے صحن میں واقع ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ میاں نواز شریف نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پاکپتن کو حضرت بابا فریدؒ کے توسط سے ضلع کادرجہ دیا تھا اور اس بات کااعلان انہوں نے پاکپتن میں درگاہ بابا فریدؒ اورسابق ایم پی اے میاں غلام فرید چشتی مرحوم کے ڈیرہ پر عوامی اجتماع میں کیا تھا جس پر یکم جولائی 90کو عمل درآمد ہوا ۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Facebook Comments HS