ممتاز قادری کا چہلم اور جنید جمشید پر حملہ


مورخہ 27 مارچ 2016– آج ممتاز قادری کا چہلم ہے۔ اور کل رات جنید جمشید پر ائیرپورٹ پر حملہ ہوا ہے۔ اطلاع ہے کہ حملہ کرنے والے کراچی سے جنید جمشید کے ساتھ ہی جہاز پر اسلام آباد آئے تھے اور ان کی آمد کا مقصد ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کرنا تھا۔ حملہ کرنے والے افراد، جنید جمشید کو گندی گالیاں دیتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جنید جمشید کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے وہ یہ کر رہے ہیں۔ ریکارڈنگ میں یہ کلمات سنے جا سکتے ہیں کہ ’ہم تو ڈھونڈ رہے ہیں۔ گستاخ صحابہ ہے۔ گستاخ رسول ہے۔ مارووووووو، مارو اس کو ****۔ گستاخ نبی کی ایک سزا، سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘۔ اس پر بات کرتے ہیں لیکن پہلے ممتاز قادری اور سلمان تاثیر کے معاملے پر مفتی تقی عثمانی صاحب کا موقف دیکھتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی سے سوال کیا گیا کہ ’سر اگر جو یہ قانون بنا ہے تحفظ ناموس رسالت، اگر اس قانون کو جیسا کہ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے، کوئی کالا قانون، نعوذ باللہ، کہہ دے، جیسا کہ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں (سلمان تاثیر) نے اس طرح کے الفاظ کہے تھے، تو کیا یہ گستاخی میں آتا ہے؟‘۔

اس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ ’یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ اب وہ موقوف اس بات پر ہے کہ اس نے کالا قانون کہا یا اس قانون کے خلاف بات کہی تو اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ معاذ اللہ رسول کریمؐ کی گستاخی کرنا کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ یہ تو گستاخی کے حکم میں آتا ہے‘۔

’ایک مطلب یہ آتا ہے کہ ہے تو جرم لیکن اس کی سزا قتل نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ گستاخی کے جرم میں نہیں آتا ہے کیونکہ حنفی فقہا خود کہتے ہیں کہ یہ قتل نہیں ہے‘۔

’تیسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے قتل میں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن جس انداز میں یہ قانون بنا ہے تو بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال لوگ کر سکتے ہیں جو اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے کسی پر الزام لگا دیں اور اسے قتل کروا دیں، تو اس وجہ سے اس کی مخالفت کی ہو‘۔

’تو مختلف احتمالات ہیں کہ کس وجہ سے کیا۔ تو جب تک ان میں سے کوئی ایک احتمال متعین نہ ہو مثلاً یہ کہ یہ بات واضح نہ ہو کہ اس نے جو مخالفت کی وہ اس وجہ سے کی کہ اس کی نظر میں معاذ اللہ رسولؐ اللہ کی گستاخی کوئی جرم ہی نہیں ہے تو پھر بے شک یہ گستاخی کے ذیل میں آتا ہے اور اس کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے‘۔

دیکھتے ہیں کہ سلمان تاثیر پر مفتی تقی عثمانی کا کون سا حکم لگتا ہے۔ سلمان تاثیر سے سوال کیا گیا کہ ’یہ بتائیں آپ کس وجہ سے کہتے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے؟ کیا وجہ ہے‘؟

جواب: ’اس قانون کے جو اثرات ہیں وہ تو ہمارے آگے ہیں۔ اس سے بڑی ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ کسی پر بھی یہ الزام لگا کر اپنے ذاتی مفاد، یعنی اپنے ذاتی مفاد کی وجہ سے لوگوں پر یہ الزام لگاتے ہیں‘۔

کچھ دوسرے ویڈیو کلپوں میں سلمان تاثیر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’جس ملک میں آپ سوچیں کہ چھیانوے فیصد آبادی مسلمان ہے، کوئی بندہ اس طرح ہے جو رسول پاکؐ کے خلاف بات کرے گا؟ میرا خیال ہے کہ کوئی صحیح دماغ والا بندہ تو بات نہیں کرے گا۔ نعوذ باللہ کوئی ایسا سوچ بھی سکتا ہے؟ ہم تو ایک قانون کے بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اگر اس کے اثرات غلط ہیں یا اس کو استعمال کیا جا رہا ہے تو اس پر نظرثانی کی جائے۔ سارے مسلمان ہیں اگر مسلمان کوئی ایسی بات کرے تو وہ تو پاگل ہو گا، وہ تو مینٹل کیس ہو گا۔ آپ کیوں مجھے کیوں کوئی اس طرح (پوچھتے ہیں ) جیسے میں توہین رسالت کے حق میں ہوں، میں بالکل نہیں ہوں۔ پہلے تو واضح طور پر کہا ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور کوئی اس کو برداشت نہیں کر سکتا، میں ایک ضیا الحق کے قانون کے بارے میں بات کر رہا ہوں، اس کے اثرات ایسے ہیں کہ اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے‘۔

یعنی بظاہر سلمان تاثیر پر مفتی تقی عثمانی صاحب کا پہلا نہیں بلکہ تیسرا حکم لگتا ہے، اور مفتی تقی عثمانی کے حکم کے مطابق سلمان تاثیر کو گستاخ رسول نہیں کہا جا سکتا ہے۔

لیکن اسی بیان میں مفتی صاحب آگے چل کر مزید باتیں بھی بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حکم یہ ہے شرعاً کہ اگر کسی شخص نے نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کی تو واجب القتل تو ہو جاتا ہے اگر مسلمان ہے تو، مرتد واجب القتل ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کوئی شخص خود اس پر سزا جاری کرے قتل کی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ جائز نہیں ہے کسی کے لیے کہ وہ اسے قتل کرے‘۔

’یہاں صورت حال جو تھی وہ ذرا مشکوک تھی، جیسا بیان کیا کہ آیا واقعتاً اس کی بات گستاخی رسول تک پہنچتی تھی یا نہیں پہنچتی تھی یہ بات واضح نہیں تھی اس حالت میں اس نے اس کو قتل کیا۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جذبہ اس کا بڑا نیک تھا۔ جذبہ یہی تھا کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لہذا میں اس کا بدلہ لوں گا۔ جذبہ نیک تھا۔ اس نیک جذبے کی وجہ سے اس شخص کے حق میں بھی نیک گمان رکھنا چاہیے۔ اور اس نے جو کچھ کیا وہ نبی کریمؐ کی تعظیم اور تکریم کی نیت سے کیا اس واسطے اللہ تعالی کے ہاں امید ہے کہ وہ [محظوظ ؟] ہی ہو گا اللہ کی رحمت سے‘۔

ممتاز قادری کے بارے میں جس طرح مفتی تقی عثمانی صاحب نے جذبے کی تعریف کی ہے، اور قانون ہاتھ میں لینے کے معاملے میں نرمی کی ہے، تو پھر جنید جمشید کو مستقل بنیاد پر کفار کے ملک میں منتقل ہونے پر غور کرنا پڑے گا۔ مفتی تقی عثمانی کے موقف سے ہمیں تو یہی سمجھ آیا ہے کہ سلمان تاثیر نے گستاخی نہیں کی تھی۔ لیکن دوسری طرف جنید جمشید کے معاملے میں جس طرح جنید جمشید نے خود ہاتھ جوڑ کر اپنی غلطی کی معافی مانگی ہے، اور مولانا طارق جمیل نے بھی یہی کہا ہے کہ جنید جمشید عالم نہیں ہے اور اس سے غلطی ہو گئی ہے، اور اس کو معاف کر دینے کی اپیل کی ہے، اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ جنید جمشید گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔

اب دو صورتیں ہیں۔ یا تو ملکی قانونِ توہین رسالت کے تحت جنید جمشید کو سزائے موت یا عمر قید دی جائے، یا پھر حنفی اکثریتی ملک کے اس قانون کو فقہہ حنفی کے مطابق کیا جائے۔ موجودہ قانون کے برعکس فقہ حنفی میں گستاخ رسول پر مرتد کا حکم لگتا ہے اور اس کے معافی مانگ لینے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

ورنہ پھر ملکی قانون کو جنید جمشید کے معاملے میں کچھ نہ کرتے دیکھ کر کسی ائیر پورٹ پر، کسی گلی کوچے میں، کسی فیشن شو میں، کوئی شخص حب رسولؐ میں دیوانہ ہو کر اٹھے گا اور جنید جمشید کو سلمان تاثیر ہی کی مانند قتل کر دے گا۔

اس کے پانچ سال بعد کوئی بلند پایہ عالم اٹھے گا اور بتائے گا کہ ’یہ معاملہ غلط ہوا ہے، کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، لیکن بہرحال قتل کرنے والے کا جذبہ نیک تھا اور وہ پھانسی پا کر اللہ کی رحمت سے مستفید ہو گا‘۔

مفتی تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ ’کیونکہ جس طرح گستاخی کرنا نبیؐ کی شان اقدس میں، یہ بہت بڑا جرم ہے، تو اس جرم کے ثبوت کے لیے بھی، احتیاط کی ضرورت ہے کہ واقعی کسی نے یہ جرم کا ارتکاب کیا یا نہیں کیا‘۔

مفتی صاحب، کیا اس بہت بڑے جرم کے ثبوت کے لیے احتیاط کا تقاضا پورا کیا جا رہا ہے؟ یہاں تو کوئی جج ملزم کو بری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے، اور کوئی وکیل اگر ملزم کے وکالت نامے پر دستخط کر دے تو وہ بھی قتل کیا جانے لگا ہے۔

علما سے یہی درخواست ہے کہ دو عملی چھوڑ کر اس قانون کے باب میں یکساں موقف اپنائیں۔ جو موقف بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے استاد جنید حفیظ کے بارے میں ہے، وہی جنید جمشید کے باب میں اختیار کیا جائے۔ بہت بڑا جرم ہے تو بہت بڑا ثبوت بھی دونوں کے خلاف لائیں اور مجرم ٹھہریں تو دونوں کو ٹانگ دیں، ورنہ دونوں کو قانون اور عوام کی نظروں میں بری کردیں۔ عوام کو یہ سمجھایا جائے کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار ان کو نہیں ہے۔ اگر حکومت کسی قانون پر عمل نہیں کر رہی ہے، تو حکومت کے خلاف دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ قانون پر عمل درآمد کرے، یہ نہ کیا جائے کہ علم دین، علم قانون، اور متعلقہ معاملے سے یکسر ناواقف کوئی بھی شخص اٹھے اور کسی کو بھی قتل کر دے۔

ایک دوسرے کو گستاخی کے الزام میں قتل کرنے کو وجوہات کیا کوئی کم ہیں؟ بریلوی حضرات کو دیوبندی حضرات گستاخ رسول دکھائی دیتے ہیں اور دیوبندی حضرات کے بھی ان کے بات میں یہی جذبات ہیں۔ دونوں ملک کر اہل تشیع کو گستاخی صحابہ کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔ اور یہ سب مل کر سید مودودی کی خلافت و ملوکیت کو دیکھتے ہوئے ان پر گستاخی صحابہ کی فرد جرم عائد کرتے ہیں اور جماعت اسلامی کے صالحین واجب القتل ٹھہرتے ہیں۔ ان سب کو ‘لائسنس ٹو کل’ دے دیا، ان سب کو محبت کے نام پر مارنے کی آزادی دے دی، تو باقی کون بچے گا، چار فیصد غیر مسلم؟

کل سلمان تاثیر اور جنید حفیظ کی باری تھی تو آج جنید جمشید کی باری بھی آ گئی ہے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر ملک کی محفوظ ترین فضاؤں میں جنید جمشید کے گرد نعرے گونج رہے ہیں کہ ’ہم تو ڈھونڈ رہے ہیں۔ گستاخ صحابہ ہے۔ گستاخ رسول ہے۔ مارووووووو، مارو اس کو ****۔ گستاخ نبی کی ایک سزا، سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘۔

تاریخ اشاعت: 27 مارچ 2016


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1521 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
39 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments