ساز
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب ایک دلکش ساز پر اس کی آنکھ کھلی۔ یہ ساز کیا تھا۔ کسی ساحر کا منتر تھا جو دھیرے دھیرے اسے اپنے حصار میں لیتا چلا جا رہا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، کمرے میں سوائے پرانی الماری، ایک قدیم گھڑی، چند بوسیدہ کتب اور ایک دھندلے آئینے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ چھت پر کہیں کہیں مکڑی نے جالے بن رکھے تھے، ریشم کی ڈور میں لپٹے نازک پتنگے،
Read more
