چنگیزی سے بچئے: سیاست کو دین سے جُدا کیجئے

‘جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جُدا ہو دین سیاست سے، تو رہ جاتی ہے چنگیزی!’ احتمال ہے کہ بالِ جبریل کے اس شعر کو یورپ میں لکھتے ہوئے علامہ مرحوم کی ماضی پرستانہ حِس بہت زور سے پھڑکی ہوگی۔ انہوں نے یورپ کی ترقی میں سیاست سے مذہب کی علیحدگی کے تصور کو یکسر نظرانداز ہی کر دیا۔ شاید ہی کوئی ایسا محقق ہو جو اس بات کو رد کرے کہ خواہ جزوی طور پر ہی سہی سیاست

Read more

اصول بحث اور عقیدہ ’عمرانی‘

ایک بار میرے ایک عزیز دوست اور استاد مؤقر عامر حبیب نے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سابقہ بیوروکریٹ، جو غالباً بی بی شہید کے ایڈیشنل سیکرٹری (پرسنل) بھی رہے، اقبال جعفر سے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے اولین سالوں کے دوران ایم کیو ایم کی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کیا؛ ’الطاف حسین کی بات کی سمجھ کچھ آتی نہیں تو کیسے اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس کے سیاسی پیروکار بنے ہوئے ہیں؟‘ جعفر

Read more

عمران خان، شہباز شریف اور تصویری پروپیگنڈا

جب نشانہ عوام نہیں، ان کی فکر اور جذبات ہوں تو بندوق بے کار ہتھیار ہی تصور ہو سکتا ہے۔ عوام کی جذباتی و فکری حمایت بہم کے لئے بہت سی سماجی تدابیر بروئے کا رلائی جاتی ہیں جن کا اصل حاصل سیاسی ہی ہوتا ہے۔ خاص کر جب عوام آپ کے ریاستی و فلاحی اقدامات کے بارے میں شکوک اور خدشات میں مبتلا ہوں۔ اگر آپ اپنی یاداشت کے گھوڑے 2018 سے ایک دہائی پیچھے کے میدان میں دوڑائیں

Read more