اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ : یہ کلام کس کا ہے

عموماً جب یہ جملہ استعمال کیا جاتا ہے کہ ”یہ کلام کس کا ہے“ تو سننے والوں کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ شاید کسی سو یا دو سو سال پرانے کلام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جس طرح انیسؔ و دبیرؔ کے کلام ان کے خاندان یا شاگردوں کی کتابوں میں چھپ گئے یا پھر وہ قلمی نسخے جو صفحہ شہود پر نہ آ سکے مگر مصرع مشہور ہو گئے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ آج جس کلام پر بات کی جا رہی ہے وہ مشہورِ زمانہ کلام ہے اور تقریباً ہر شیعہ گھرانے میں پڑھا جاتا ہے۔ یعنی

”اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ / کے خالق“

Read more