Author: فرنود عالم
فقیہِ شہر کی عورتانہ مردانگی
افسوس کہ امرتا پریتم نہیں ہیں۔ ہوتیں تو طویل بیان پر مفتی نعیم صاحب سے صرف اتنا کہہ دیتیں کہ یہ ہرزہ سرائی اس لیئے بھی ممکن ہوئی کہ تم نے ابھی عورت کے ساتھ سونا سیکھا ہے، جب عورت کے ساتھ جاگنا بھی سیکھ لوگے تو فکری پسماندگیوں پہ یوں اترانا بھی چھوڑ دو گے۔ مارکس ہوتے تو سگار کا ایک طنز آور کش لے کر کرسی پہ دراز ہوجاتے۔ اول مسکراتے پھر یک لخت سنجیدہ ہوکر کہتے کہ
Read moreتبلیغی جماعت پر پابندی اور جماعت اسلامی کا احتجاج
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پہ پابندی عائد ہوئی تو احباب ہماری طرف متوجہ ہوگئے۔ نذرانہِ تبریک پیش کرتے رہے کہ ’مبارک ہو! ملک میں سیکولرازم کا آغاز ہوگیا‘ اس سے بھی زیادہ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے جماعت اسلامی کے دوستوں کو تبلیغی جماعت کے پرانے حساب بے باق کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا ہے۔ ہمیں مبارک باد دینے سے جب فرصت ملتی ہے تو تبلیغی جماعت کی طرف رخ کر کے
Read moreبرطانیہ کی غلامی اور سعودی عرب سے عقیدت
افغانستان میں بیسیوں ٹی وی چینلز اور سیکڑوں اخبارات ہیں جو غیر ملکی تنظیموں کے تعاون سے چل رہے ہیں۔ ترقی وفلاح کی بے شمار تنظیمیں ہیں جن کے پیچوان کو تمباکو باہر سے میسر آتا ہے۔ ان ٹی وی چینلز اور اخبارات کا اجرا ایک خوشحال افغانستان کیلئے ہوا اور یہ فلاحی ادارے بھی افغانستان کی تقدیر بدلنے کے لئے قائم ہوئے۔ جنہوں نے قائم کئے انہیں ایک ہی سوال لاحق ہے کہ صاحب بدحال افغانستان کا مسئلہ کیا
Read moreپاک چین اقتصادی راہداری
آسودگیوں اور محرومیوں کے پیچھے معیشت کا اتار چڑھاﺅ ہی کارفرما رہتا ہے۔ احتجاج کی صدائیں جس منہ سے اٹھ رہی ہوں، وہاں نوالہ رکھ دیجئے آواز دب جاتی ہے۔ اکثر لکھا، مکرر لکھنے دیجئے کہ سماج کے دل کو جانے والا راستہ پیٹ سے ہوکر گزرتا ہے۔ اجتماعی زندگیاں پیٹ ہی سے سوچتی ہیں۔ پیٹ مطمئن نہ ہو تو دماغ کا ہر خلیہ انحراف پہ کمربستہ رہتا ہے۔ یہ خالی پیٹ ہی ہوتا ہے جس میں نظریات پلتے ہیں۔
Read moreاسامہ بن لادن کا ڈرائیور، عافیہ صدیقی کا بیٹا اور اللہ نذر کے بال بچے
اسامہ بن لادن کا ایک سایہ تھا۔ اس کو سلیم ہمدان کہتے ہیں۔ اسامہ بن لادن نے کیا کھایا ہے، کیا کھائیں گے، کیا پہنا تھا، کیا پہنیں گے، کہاں سے آ رہے ہیں، کہاں جانا ہے، اگلا ٹھکانہ کہاں ہے، پچھلا ٹھکانہ کون سا تھا، کس نے ملنے آنا ہے، کون مل کے گیا ہے، کس کو ملنے نہیں دیا گیا؟ یہ سب ہمدان جانتا ہے۔ ہمدان کو پکڑ لیجیے، گویا اسامہ بن لادن کو گدی سے پکڑ لیا۔
ہمدان کا تعلق یمن سے ہے۔ نوے کے اوائل میں مٹکتے بھٹکتے افغانستان پہنچ گیا تھا۔ 1994 میں القاعدہ کے یمنی لڑاکوں سے رابطے میں آیا۔ تیزی سے ہر منزل عبور کرتا ہوا اسامہ بن لادن تک پہنچ گیا۔ ہمدان کی ذہانت، دیانت اور کام سے کام رکھنے کی عادت نے اسامہ بن لادن کی توجہ کو کھینچ لیا۔ 1996 کے اواخرمیں اسامہ بن لادن نے اسے اپنا ڈرائیور رکھ لیا۔ انسان کے فرشتے جو نہیں جانتے وہ کوچوان جانتا ہے۔ کوچوانی اور دربانی اعتماد کا عہد و پیمان ہیں۔ دربان بگڑجائے تو لنکا ڈھا سکتا ہے۔ مطمئن رہے تو مصیبت پر نہیں مارسکتی۔ ہمدان کوچوان بھی تھا اور دربان بھی۔
Read more

