پنجاب پولیس اور بدمعاشیہ
میرؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب / اُسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
ہم میں سے کسی نے بھی اپنے اللہ کو تو نہیں دیکھا لیکن اس رب ذوالجلال کی قدرت کو دیکھ کر اس کے ہونے کی شہادت دیتے ہیں گزشتہ سال وسط ستمبر میں خان صاحب نے ملک کی انتہائی اعلی، بددیانت، اور پڑھی لکھی بے حس ایلیٹ کلاس (بیوروکریسی) سے خطاب کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا بال بال کرپشن میں جکڑا ہوا ہے۔ جو سیاستدانوں کو کرپشن کے گُر بتاتے ہیں۔
لیکن ”کارروائی“ ہمیشہ سیاستدانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ خان صاحب کا ان بیوروکریٹس سے خطاب بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔ جب احتساب کا شکنجہ ان کے گرد کسا جانے لگا تو ارباب شہزاد ایسے لوگوں کو بھی یاد آ گیا کہ ہماری یہ احتساب اور قانون سے بالاتر ایلیٹ کلاس ”عالمِ پریشانی“ میں ہے اور ٹھیک طرح سے ”پرفارم“ نہیں کر پا رہی میں حیران ہوں کہ گذشتہ کئی دھائیوں سے یہ لوگ قوم کا ناطقہ بند کیے ہوے تھے تب ارباب شہزاد جیسے لوگ کہاں تھے؟
Read more

