پنجاب پولیس اور بدمعاشیہ

میرؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب​ / اُسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
ہم میں سے کسی نے بھی اپنے اللہ کو تو نہیں دیکھا لیکن اس رب ذوالجلال کی قدرت کو دیکھ کر اس کے ہونے کی شہادت دیتے ہیں گزشتہ سال وسط ستمبر میں خان صاحب نے ملک کی انتہائی اعلی، بددیانت، اور پڑھی لکھی بے حس ایلیٹ کلاس (بیوروکریسی) سے خطاب کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا بال بال کرپشن میں جکڑا ہوا ہے۔ جو سیاستدانوں کو کرپشن کے گُر بتاتے ہیں۔

لیکن ”کارروائی“ ہمیشہ سیاستدانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ خان صاحب کا ان بیوروکریٹس سے خطاب بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔ جب احتساب کا شکنجہ ان کے گرد کسا جانے لگا تو ارباب شہزاد ایسے لوگوں کو بھی یاد آ گیا کہ ہماری یہ احتساب اور قانون سے بالاتر ایلیٹ کلاس ”عالمِ پریشانی“ میں ہے اور ٹھیک طرح سے ”پرفارم“ نہیں کر پا رہی میں حیران ہوں کہ گذشتہ کئی دھائیوں سے یہ لوگ قوم کا ناطقہ بند کیے ہوے تھے تب ارباب شہزاد جیسے لوگ کہاں تھے؟

Read more

فوجی عدالتوں کی توسیع ناگزیر کیوں

15 دسمبر 2014 ہوا میں خنکی، جیسے دسمبر میں سردیوں کی شامیں ہوتی ہیں یہ بھی ایک ویسی ہی شام تھی۔ معمولات زندگی اپنی رفتار سے چل رہے تھے۔ آج چونکہ ایک دن کے وقفے کے بعد بچے اسکول میں اپنے دوستوں سے مل کر آئے تھے تو اب اگلے دن کی تیاری میں بھی مصروف تھے۔ ہوم ورک اور ٹیوشن سے فارغ ہو کر ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھے کارٹونز اور اپنی اپنی پسند کے چینلز دیکھے جا

Read more

ریاست ہو گی ماں کے جیسی

2007  میں جب مشرف کے زوال کا سبب بننے والی وکلاء تحریک کا آغاز ہوا تو طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے تحریک کے آغاز میں اسے کوئی خاص اھمیت تو نہ دی کیونکہ حکمرانوں کا خیال تھا کہ پاکستان بھر میں نوے ہزار کے لگ بھگ وکلا کبھی بھی اس تحریک کو کامیابی کی بلندی تک نہیں لے کر جا سکیں گے جس سے ان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو سکے۔ ان کی یہ سوچ کافی حد

Read more