نور مقدم کیس: آؤ جنونیت کا شکریہ ادا کریں

میرے خیال میں ہمیں نور مقدم کے قاتل کا ہی شکریہ ادا کر کہ اسی کی منت سماجت کر لینی چاہیے کہ وہ خود کو اپنی مرضی سے خوشی سے گولی مار لے۔ حوالات میں اپنا ”ناڑا“ نکال کر پھندا بنا کر جھول جائے اور ساتھ میں ایک رقعہ لکھ جائے کہ تم سب مل کر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میں ذہنی پاگل بھی بن کر بچ جاؤں گا میں اثر و رسوخ والا بزنس مین بن کر بھی بچ جاؤں گا۔ میں کچھ بھی نہیں کروں تب بھی یہ گلا سڑا سسٹم مجھے تختہ دار تک لاتے لاتے خود اوندھے منہ پڑا ہو گا۔

ہمیں عثمان مرزا کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے یہ بتا دیا کہ نا تو انسانیت نام کی کوئی چیز اس معاشرے میں رہی ہے اور نا ہی ڈر اور خوف کسی قانون کا موجود ہے۔ کیونکہ سسٹم کا فیل ہونا ہر ایک کو کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ نہتے دو لڑکا لڑکی کو ڈھائی گھنٹے انسانی تذلیل کا نشانہ بنائے۔

Read more

بھارتی میزائل پلان ایک اور عادل ڈار کے انتظار میں

1971 کے بعد پہلی دفعہ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کی کوشش کی۔ یہ جملہ سنتے ہی سنسنی جنم لیتی ہے۔ پھر اس کارروائی پر مشتعل لوگ ایک سرپرائز کارروائی کی نوید بارے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں سنتے ہیں۔اگلی صبح دس بجے ایک ایٹمی طاقت دوسری ایٹمی طاقت کے دو جہاز گراتی ہے ایک پائلٹ کو زخمی حالت میں گرفتار کرتی ہے اور پھر چائے کے کپ پر گپ شپ چلتی ہے۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑنے میں چند لمحوں کی دیری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انٹیلیجنس رپورٹ پر انڈیا کے پاکستان پر میزائل داغے جانے کے پلان بارے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ وہ پلان تھا جس کو شاید انٹرنیشنل پریشر اور ممکنہ ایٹمی ردعمل پر عملی جامہ نہی پہنایا جا سکا۔مگر یہ میزائل داغے جانے کی نوبت آئی کیوں۔ ؟

Read more