شاہد آفریدی۔ ہوپ ناٹ آؤٹ

میرا سارا بچپن سعودی عرب میں گزرا ہے۔ وہاں تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ کرکٹ میچ دیکھنا ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کیسے ابو سارے کام نبٹا کر میچ دیکھنے کے لیے گھر آ جاتے تھے۔ میچ شروع ہو جاتا اور جب پاکستانی وکٹیں تیزی سے گرنا شروع ہوتیں تو ہماری امیدوں کا محور ایک ہی کھلاڑی ہوتا تھا اور وہ ہے بوم بوم آفریدی۔ ابو ہمیں حوصلہ دیتے کہ دیکھنا ابھی آفریدی آئے گا اور چوکوں چھکوں کے ساتھ تیزی سے سکور پورا ہو جائے گا۔ بھائی شرطیہ بیان جاری کرتے کہ میچ جتوانا ہی آفریدی نے ہے۔ میچ ختم ہونے پر بھی بات ختم نہیں ہوتی تھی بعد میں آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے میچ دوبارہ دیکھتے تھے۔ اس طرح دیار غیر میں وقت کو یادگار بنانے کا موقع ملتا تھا۔

Read more