شہناز شورو کی کہانی "تیسری بیٹی”: تیسری نسل کا استعارہ
"تیسری بیٹی” شہناز شورو کی تازہ کہانی بھی ہے اور Changing from ME to WE کا فلسفیانہ نکتہ نظر بھی۔ میں سے ہم میں تبدیل ہونے کی سوچ فلسفیوں کی نزدیک مساوات کی کلید ہے لہذا اپنے ایک مضمون میں شہناز ”میں“ کی خونخواریت کر رد کرتے ہوئے اس کا منطقی جواز یوں پیش کرتی ہیں کہ ”میں کیا لکھوں، کیا کہوں کہ میں ہوں کیا؟ میں کے بارے میں تو اسی وقت لکھا جاتا ہے جب یہ اعتماد ہو
Read more
