کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا

قطر والے چاچو کا بیاہ تھا۔ ہر طرف رونق ہی رونق۔ سب اتنے خوش تھے کہ دن بھر ڈانٹ ڈپٹ کھانے والے نگوڑے پرویز کی بھی موجیں تھیں۔ موجیں کیوں نہ ہوں گھر کا سب سے لاڈلا بیٹا پورے سات سال بعد پردیس سے لوٹا تھا۔ بیاہ ہونا تھا نا۔  ویسے بیٹے کے لئے دلہن…

Read more

اہل ایمان کی ہمراہی میں زندگی کرنا اور سفر کرنا۔۔۔

زندگی اک سفر ہے۔ اس نہایت ہی مقبول قول کو مجھ ناچیز نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سیریس لے لیا ہے، جبھی ہر دوسرے روز چھوٹی سی گھٹڑی لئے ملک کے اس سرے سے اُس سرے جناب کی دوڑیں لگتی رہتی ہیں۔ دیکھنے اور سننے والوں کو ہماری یہ مہم جوئی کافی پر لطف…

Read more

آئی لو یو!

“دیکھ رخسی اپنی مس کو یاد سے دے دینا اور ہاں نہ تو تُو نے خود کھول کر دیکھنا ہے اور نہ اپنی سڑی ہوئی سہیلی رمشہ کو ہی کھول کر دکھانا ہے۔” بھیا کے احکامات سن کر اس نے خط جھٹ سے اپنی گندی کاپی میں دبایا اور سکول کیلئے روانہ ہوئی۔ مِس زہرہ…

Read more

ٹھنڈا جسم!

میں کہہ رہی ہوں نا باجی بس گھر چلیں۔۔ آپ کے شوہر کا بس اتنا ہی پیار کافی تھا۔۔ ”باجی کے کھلتے چہرے پہ نیل دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے انہیں مجازی خدا کا گھر چھوڑنے کی ایک گنہگار آفر کی۔۔ کیا کروں بقول عام و خاص دو چار جماعیتں…

Read more