Author: رضی الدین رضی
ماتم وقت کی گھڑی …. انتظار تو رہے گا
آج انتظار صاحب کی رخصتی کا دن ہے ۔ ایک مکمل شہر ، ایک مکمل تہذیب کے وداع کی گھڑی ہے ۔ یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے ۔یہ وہ گھڑی ہے کہ جس کا ہمیں انتظار ہی نہیں تھا اور اس لئے انتظار نہیںتھا کہ انتظار صاحب ہمارے درمیان تھے ۔ چند ہی تو لوگ ہوتے ہیں جن کے دم سے شہر سانس لیتے ہیں ۔چند لوگوں کی وجہ سے ہی بستی آباد ہوتی ہے ۔ جو بات کرتے
Read more’ہم سب‘ اور ’وہ سب‘
راشد رحمان انسانی حقوق کے لیے سرگرم رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی ان لوگوں کے لیے وقف کررکھی تھی جن کی کہیں کوئی شنوائی نہ ہوتی تھی۔ جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اورانصاف فراہم کرنے والی عدالتیں بے بس ہوجاتی تھیں وہاں سے راشد رحمان کا کام شروع ہوجاتاتھا۔ کسی کو نجی جیل سے برآمد کرواتے،کسی کو قانونی تحفظ فراہم کرتے،کبھی مزدوروں کی بات کرتے ،کبھی صحافیوں کے حقوق کے لیے میدان میں آتے ۔شہر کی سیاسی،سماجی، ثقافتی
Read more