شیطان از شفیق الرحمان

اس رات اتفاق سے میں نے شیطان کو خواب میں دیکھ لیا۔ خواہ مخواہ خواب نظر آ گیا۔ رات کو اچھا بھلا سویا تھا، نہ شیطان کے متعلق کچھ سوچا نہ کوئی ذکر ہوا۔ نہ جانے کیوں ساری رات شیطان سے باتیں ہوتی رہیں اور شیطان نے خود اپنا تعارف نہیں کرایا کہ خاکسار کو شیطان کہتے ہیں۔ یہ فقط ذہنی تصویر تھی جس سے شبہ ہوا کہ یہ شیطان ہے۔ چھوٹے چھوٹے نوک دار کان، ذرا ذرا سے سینگ، دبلا پتلا بانس جیسا لمبا قد۔ ایک لمبی دم جس کی نوک تیر کی طرح تیز تھی۔ دم کا سرا شیطان کے ہاتھ میں تھا۔ میں ڈرتا ہی رہا کہ کہیں یہ چبھو نہ دے۔ نرالی بات یہ تھی کہ شیطان نے عینک لگا رکھی تھی۔ رات بھر ہم دونوں نہ جانے کس کس موضوع پر بحث کرتے رہے۔

Read more

جینی – اردو کے شاہکار افسانے

ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت مجھے کچھ شبہ ہوا۔ نیلے لباس والے لڑکی سے پوچھا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا، جب ہم جہاز سے اترے تو مجھے یقین ہو گیا اور میں نے پائپ پیتے آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے پائیلٹ کو دبوچ لیا۔ ہم مدتوں کے بعد ملے تھے۔ کالج میں دیر تک اکٹھے رہے۔ کچھ عرصے تک خط و کتابت بھی رہی۔ پھر ایک دوسرے کے لئے معدوم ہو گئے۔ اتنے دنوں کے بعد اور اتنی دور اچانک ملاقات بڑی عجیب سی معلوم ہو رہی تھی۔

طے ہوا کہ یہ شام کسی اچھی جگہ گزاری جائے اور بیتے دنوں کی یاد میں جشن منایا جائے۔ میں نے اپنا سفر ایک روز کے لئے ملتوی کر دیا۔

جب باتیں ہو رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ وہ کافی حد تک بدل چکا تھا۔ مٹاپے نے اس کے تیکھے خد و خال کو بدل دیا تھا۔ اس کی آنکھوں کا وہ تجسس، نگاہوں کی وہ بے چینی، وہ ذہین گفتگو سب مفقود ہو چکے تھے۔ وہ عامیانہ سی گفتگو کر رہا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی اور ماحول سے اس قدر مطمئن ہے کہ اس نے سوچنا بالکل ترک کر دیا ہے۔ دیر تک ہم پرانی باتیں دوہراتے رہے۔ سہ پہر کو وہ مجھے ایک اینگلو انڈین لڑکی کے ہاں لے گیا جسے وہ شام کو مدعو کرنا چاہتا تھا۔

لڑکی نے بتایا کہ شام کا وقت وہ گرجے کے لئے وقف کر چکی ہے۔ ہم ایک اور لڑکی کے ہاں گئے۔ اس نے بھی معذرت چاہی کیوں کہ اس کی طبیعت نا ساز تھی۔ پھر تیسری کے گھر پہنچے۔ اگرچہ دوسرے کمرے سے خوشبوئیں بھی آ رہی تھیں اور کبھی کبھار آہٹ بھی سنائی دے جاتی تھی لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ وہ ایک اور شناسا لڑکی کے ہاں جانا چاہتا تھا لیکن میں نے منع کر دیا تھا کہ کوئی ضرورت نہیں اور پھر اگر کوئی اور ساتھ ہوا تو اچھی طرح باتیں نہ کر سکیں گے۔ واپس آ کر اس نے ٹیلی فون پر کوشش کی۔ چوتھی لڑکی گھر پہنچ چکی تھی لیکن شام کو اس کی امی اسے نانی جان کے ہاں لے جا رہی تھی۔

Read more

بادشاہ سلامت نے الیکشن جیتا

ہمارا مقامی سیاست میں حصہ لینا۔ ان دنوں الیکشن زوروں پر تھا۔ الو شناس معروض ہوا کہ ہم دلی میں اس قدر مقبول ہو چکے ہیں کہ خواہ کسی ٹکٹ پر کھڑے ہوئے جائیں، انشا اللہ کامیاب ہوں گے۔ بادشاہ گروں سے مشورہ لینا بیکار تھا کیونکہ الیکشن کے معاملے میں وہ بالکل یوں ہی تھے۔ ایک ایک ٹکٹ پر لاتعداد امیدواروں کو نامزد کر دیتے تھے۔ یہاں تکہ کہ بعض اوقات امیدواروں کی تعداد رائے دہندگان سے زیادہ ہو

Read more