ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت مجھے کچھ شبہ ہوا۔ نیلے لباس والے لڑکی سے پوچھا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا، جب ہم جہاز سے اترے تو مجھے یقین ہو گیا اور میں نے پائپ پیتے آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے پائیلٹ کو دبوچ لیا۔ ہم مدتوں کے بعد ملے تھے۔ کالج میں دیر تک اکٹھے رہے۔ کچھ عرصے تک خط و کتابت بھی رہی۔ پھر ایک دوسرے کے لئے معدوم ہو گئے۔ اتنے دنوں کے بعد اور اتنی دور اچانک ملاقات بڑی عجیب سی معلوم ہو رہی تھی۔
طے ہوا کہ یہ شام کسی اچھی جگہ گزاری جائے اور بیتے دنوں کی یاد میں جشن منایا جائے۔ میں نے اپنا سفر ایک روز کے لئے ملتوی کر دیا۔
جب باتیں ہو رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ وہ کافی حد تک بدل چکا تھا۔ مٹاپے نے اس کے تیکھے خد و خال کو بدل دیا تھا۔ اس کی آنکھوں کا وہ تجسس، نگاہوں کی وہ بے چینی، وہ ذہین گفتگو سب مفقود ہو چکے تھے۔ وہ عامیانہ سی گفتگو کر رہا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی اور ماحول سے اس قدر مطمئن ہے کہ اس نے سوچنا بالکل ترک کر دیا ہے۔ دیر تک ہم پرانی باتیں دوہراتے رہے۔ سہ پہر کو وہ مجھے ایک اینگلو انڈین لڑکی کے ہاں لے گیا جسے وہ شام کو مدعو کرنا چاہتا تھا۔
لڑکی نے بتایا کہ شام کا وقت وہ گرجے کے لئے وقف کر چکی ہے۔ ہم ایک اور لڑکی کے ہاں گئے۔ اس نے بھی معذرت چاہی کیوں کہ اس کی طبیعت نا ساز تھی۔ پھر تیسری کے گھر پہنچے۔ اگرچہ دوسرے کمرے سے خوشبوئیں بھی آ رہی تھیں اور کبھی کبھار آہٹ بھی سنائی دے جاتی تھی لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ وہ ایک اور شناسا لڑکی کے ہاں جانا چاہتا تھا لیکن میں نے منع کر دیا تھا کہ کوئی ضرورت نہیں اور پھر اگر کوئی اور ساتھ ہوا تو اچھی طرح باتیں نہ کر سکیں گے۔ واپس آ کر اس نے ٹیلی فون پر کوشش کی۔ چوتھی لڑکی گھر پہنچ چکی تھی لیکن شام کو اس کی امی اسے نانی جان کے ہاں لے جا رہی تھی۔
Read more