شیطان از شفیق الرحمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس رات اتفاق سے میں نے شیطان کو خواب میں دیکھ لیا۔ خواہ مخواہ خواب نظر آ گیا۔ رات کو اچھا بھلا سویا تھا، نہ شیطان کے متعلق کچھ سوچا نہ کوئی ذکر ہوا۔ نہ جانے کیوں ساری رات شیطان سے باتیں ہوتی رہیں اور شیطان نے خود اپنا تعارف نہیں کرایا کہ خاکسار کو شیطان کہتے ہیں۔ یہ فقط ذہنی تصویر تھی جس سے شبہ ہوا کہ یہ شیطان ہے۔ چھوٹے چھوٹے نوک دار کان، ذرا ذرا سے سینگ، دبلا پتلا بانس جیسا لمبا قد۔ ایک لمبی دم جس کی نوک تیر کی طرح تیز تھی۔ دم کا سرا شیطان کے ہاتھ میں تھا۔ میں ڈرتا ہی رہا کہ کہیں یہ چبھو نہ دے۔ نرالی بات یہ تھی کہ شیطان نے عینک لگا رکھی تھی۔ رات بھر ہم دونوں نہ جانے کس کس موضوع پر بحث کرتے رہے۔

اس صبح چائے کی میز پر بیٹھتے ہیں تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ روفی کی شکل بالکل شیطان سے ملتی تھی۔ شکل کیا حرکتیں بھی وہیں تھیں۔ ویسا ہی قد، وہی چھوٹا سا چہرہ، لمبی گردن، ویسی ہی عینک، وہی مکار سی مسکراہٹ۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ چپکے سے رضیہ کے کان میں کہہ دیا کہ روفی شیطان سے ملتے ہیں۔ وہ بولی۔ آپ کو کیا پتہ؟ کہا کہ ابھی ابھی تو میں نے اصلی شیطان کو خواب میں دیکھا ہے۔ حکومت آپا رضیہ کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے جو ہمیں سرگوشی کرتے دیکھا تو بس بے قابو ہو گئیں۔ فوراً پوچھا۔ کیا ہے۔ ؟ رضیہ نے بتا دیا۔ حکومت آپا کو تو ایسا موقع خدا دے۔ بس میز کے گرد جو بیٹھا تھا اسے معلوم ہو گیا کہ روفی کا نیا نام رکھا جا رہا ہے۔ لیکن محض خواب دیکھنے پر تو نام نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ ویسے روفی نے ہمیں تنگ بہت کر رکھا تھا۔ بچوں تک کی خواہش تھی کہ ان کا نام رکھا جائے۔

ہم چاء ختم کرنے والے تھے۔ مجھے دوسرے آملیٹ کا انتظار تھا اور رضیہ کو پتہ نہیں کس چیز کا۔ کالج میں ابھی آدھ گھنٹہ باقی تھا، اس لیے مزے مزے سے ناشتہ کر رہے تھے۔ اتنے میں ننھا حامد بھاگا بھاگا آیا۔ اس کے سکول کا وقت ہو گیا تھا اس لیے جلدی میں تھا۔ وہ روفی کے برابر بیٹھ گیا۔ حامد کو بخار ہو گیا تھا۔ تبھی اس کی حجامت ذرا باریک کروائی گئی تھی۔ روفی نے بڑی للچائی ہوئی نگاہوں سے حامد کے سر کو دیکھا۔ جونہی حامد نے ٹوسٹ کھانا شروع کیا روفی نے ایک ہلکا سا تھپڑ حامد کے سر پر جما دیا، اور میں نے فوراً رضیہ سے کہہ دیا کہ سچ مچ روفی شیطان ہی ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی ننگے سر کھائے تو شیطان دھول مارتا ہے۔ حکومت آپا چونک کر ہماری جانب متوجہ ہوئیں۔ ان کو پتہ چلنا تھا کہ سارے کنبے کو معلوم ہو گیا کہ آج سے روفی شیطان کہلائے جائیں گے۔

یہ تھا وہ واقعہ جس کے بعد روفی شیطان مشہور ہو گئے۔ چند ہی دنوں میں ہر ایک کی زبان پر یہ نام چڑھ گیا۔ یہاں تک کہ خود روفی نے اس نام کو بہت پسند کیا۔ روفی اور میں بچپن کے دوست تھے اور مجھے ان کی سب کہانیاں یاد تھیں۔ جب ہم بالکل چھوٹے چھوٹے تھے تو ایک دن روفی کو ان کی نانی جان تاریخ پڑھا رہی تھیں۔ جب پتھر اور دھات کے زمانے کا ذکر آیا تو روفی پوچھنے لگے، ”نانی جان آپ پتھر کے زمانے میں کتنی بڑی تھیں؟“ پھر کہیں سقراط اور بقراط کا ذکر ہوا۔ یہ بولے، ”نانی جان سقراط اور بقراط کیسے تھے؟“

”کیا مطلب؟“ انہوں نے پوچھا۔
”آپ نے تو دیکھے ہوں گے۔“ جواب ملا۔

ہر وقت روفی کو کچھ نہ کچھ سوجھتی رہتی تھی۔ ہمارے سکول کے سامنے جو سڑک تھی اس پر بے شمار گھوڑے گزرا کرتے تھے (مع سواروں کے۔ ) کوئی سوار مزے سے جا رہا ہے۔ یکایک روفی چلاتے، ”جناب! سنیے ذرا۔ گھوڑے کی دم گر گئی ہے۔ اٹھا لیجیے۔ ورنہ گھوڑا لنڈورا رہ جائے گا۔“ اور سوار فوراً چونک کر ٹھہر جاتا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھتا۔ خاص طور پر گھوڑے کی دم کو تو ضرور چیک کرتا۔ ایک دن روفی کلاس میں طوطا لے آئے۔ پوچھا، یہ کیا؟ بولے، ”ابھی پچھلے مہینے میں نے پڑھا ہے کہ طوطا سو سال تک زندہ رہتا ہے۔ میں نے سوچا، سنی سنائی کا کیا اعتبار؟ خود تجربہ کر کے دیکھ لیتے ہیں۔“

استاد صاحبان سے تو ہمیشہ نوک جھونک رہتی تھی۔ ایک رز ماسٹر صاحب نے چہل قدمی کے معنی پوچھے۔ کسی کو بھی نہ آئے۔ روفی اٹھ کر بولے، ”دو مرتبہ بیس قدمی۔“ انہوں نے وضاحت چاہی۔ روفی بولے، ”جناب! چہل کے معنی ہیں چالیس اور چالیس قدمی سے دو مرتبہ بیس قدمی کہیں تو بہتر معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ٹہلتے ہوئے انسان آگے جاتا ہے اور پھر واپس آتا ہے۔“

جغرافیے کے ماسٹر صاحب نے ایک دن روفی سے پوچھا، ”اگر تم مشرق کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھ پھیلا دو، تو تمہارے بائیں ہاتھ پر کیا ہوگا؟“ روفی نے بری مسمی شکل بنا کر کہا، ”انگلیاں۔“

حساب میں تو بالکل پھسڈی تھے۔ سوال پوچھا جا رہا ہے روپوں کے متعلق اور جواب نکلتا ہے مہینوں میں۔ اسی طرح مہینوں کا جواب سیروں چھٹانکوں میں نکل رہا ہے۔ حساب کے ماسٹر ڈانٹتے تو روفی کہتے، ”جناب میں کیا کروں؟ یہ کمبخت جواب اسی طرح آیا ہے۔“ اور جب مزدوری اور وقت کے سوال نکالتے تو جواب آتا 35 / 3 لڑکے یا 19 53 / 67 عورتیں۔ اس پر ماسٹر صاحب بہت خفا ہوتے۔ ایک روز روفی نے جواب نکالا، 2 / 3 عورت۔ ماسٹر صاحب چنگھاڑ کر بولے، ”نالائق! 2 / 3 عورت بھی کبھی دیکھی ہے آج تک؟“ یہ سر کھجا کر بولے، ”جناب کوئی لڑکی ہوگی۔“

لیکن جب ہماری جماعت میں انسپکٹر صاحب معائنہ کرنے آئے تو وہ روفی سے بہت خوش ہوئے اور انعام دے کر گئے۔ انہوں نے پوچھا، ”اگر پانی کو ٹھنڈا کیا جائے تو کیا بن جائے گا؟“ ہم نے سوچا کہ روفی کہہ دیں گے کہ برف بن جائے گا۔ روفی نے پوچھا، ”کتنا ٹھنڈا کیا جائے؟“ وہ بولے، ”بہت ٹھنڈا کیا جائے۔“ روفی سوچ کر بولے، ”تو وہ بہت ٹھنڈا ہو جائے گا۔“ (بہت پر زور دے کر)

”اگر اور بھی ٹھنڈا کیا جائے؟“
”تو پھر وہ اور بھی ٹھنڈا ہو جائے گا۔“ روفی بولے۔
”اور اگر اسے بے حد ٹھنڈا کیا جائے؟“
”تو وہ بے حد ٹھنڈا ہو جائے گا۔“
انسپکٹر صاحب مسکرانے لگے اور پوچھا، ”اچھا اگر پانی کو گرم کیا جائے تب؟“
”تب وہ گرم ہو جائے گا۔“
”نہیں، اگر ہم اسے بہت گرم کریں اور دیر تک گرم کرتے رہیں پھر؟“

روفی کچھ دیر سوچتے رہے، یکایک اچھل کر بولے، ”پھر۔ چاء بن جائے گی۔“ اور انسپکٹر صاحب نے ایک عظیم الشان قہقہہ لگایا۔ ماسٹر صاحبان نے کوشش کی کہ انہیں کہیں ادھر ادھر لے جائیں، لیکن وہ وہیں کھڑے رہے اور روفی سے بولے، ”بلی کی کتنی ٹانگیں ہوتیں ہیں؟“

”تقریباً چار!“
”اور آنکھیں؟“
”کم از کم دو!“
”اور دمیں؟“
”زیادہ سے زیادہ ایک!“
”اور کان؟“ انہوں نے پوچھا

”تو کیا سچ مچ آپ نے اب تک بلی نہیں دیکھی؟“ روفی منہ بنا کر بولے اور انسپکٹر صاحب ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے۔

ان دنوں سے میں اور روفی دوست تھے۔

میں جج صاحب کے ہاں رہتا تھا۔ پہلے ہمارا کنبہ بھی وہیں تھا پھر ابا کا تبادلہ ہو گیا اور وہ ایسی جگہ تبدیل ہو کر گئے جہاں کالج تو ایک طرف کوئی سکول تک نہ تھا۔ جج صاحب نے ہوسٹل نہ جانے دیا، چنانچہ میں ان کے ہاں رہنے لگا۔ روفی بھی وہیں رہتے تھے اور جج صاحب سے ان کا کوئی دور دراز کا رشتہ تھا۔ غالباً وہ جج صاحب کے بھتیجے تھے۔ جہاں کنبے کے تمام افراد مجھے اچھے لگتے تھے وہاں ایک ہستی تو بہت عزیز تھی۔ وہ تھی رضیہ۔ اور جن سے میں ڈرتا تھا وہ تھیں رضیہ کی بڑی بہن جن کا اصلی نام تو اچھا بھلا سا تھا، لیکن سب بچے انہیں حکومت آپا کہتے تھے۔ میری ہی عمر کی ہوں گی، یا شاید کچھ بڑی ہوں۔ اگر وہ وہاں نہ ہوتیں تو میں اور رضیہ کبھی کے بڑے گہرے دوست بن گئے ہوتے، لیکن ان کو میں ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔

سارا دن کالج میں گزرتا۔ شام کو کھیلنے چلا جاتا اور رات کو سینما۔ رضیہ سے باتیں کرنے کا وقت ہی نہ ملتا۔ ہفتے بھر میں ایک آدھ مرتبہ موقع ملتا اور وہی حکومت آپا کی نذر ہو جاتا۔ بنتی تو ان کی کسی سے بھی نہ تھی، البتہ مجھ سے اور روفی سے خاص لگاوٹ تھی۔ میں تو چپ ہو جاتا، لیکن روفی ایسا جواب دیتے کہ حکومت آپا کھسیانی ہو کر رہ جاتیں۔ سارا دن لڑتی جھگڑتیں اور دوسروں پر خواہ مخواہ تنقید کرتی رہتیں۔ کسی بات کا شہر میں ڈھنڈورا پٹوانا ہوتا تو جاکر حکومت آپا کو بتا دو، فوراً ہر ایک کو پتہ چل جائے گا۔ میں بالکل نہ سمجھ سکا کہ آخر ان کی پالیسی کیا ہے؟ ان کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ روفی کی رائے یہ تھی کہ یہ اپنا وقت بھی ضائع کر رہی ہیں اور دوسروں کا بھی۔ اور مجھے یہ رائے حرف بحرف صحیح معلوم ہوتی تھیں۔

ادھر میں اور روفی نہایت عزیز دوست تھے۔ میں ان سے کوئی بات نہیں چھپاتا تھا۔ یہاں تک کہ رضیہ کے متعلق بھی سب کچھ انہیں بتا رکھا تھا اور جو جو باتیں رضیہ اور میں آپس میں کرتے وہ میں روفی سے فوراً کہہ دیتا اور ہمیشہ ان کے مشوروں پر عمل کرتا۔ وہ بڑے خلوص سے مجھے بتاتے کہ آج رضیہ سے یہ کہنا، آج یہ پوچھ کر دیکھنا، آج یہ کرنا، آج وہ کرنا۔ اور میں اسی طرح کرتا۔ غرض کہ وہ میرے بے حد عزیز دوست تھے۔

ہمیں ایک صاحب نے سہ پہر کو پکچر پر مدعو کیا۔ چند ماہ پہلے ان سے واقفیت ہوئی تھی، وہ بھی کس طرح؟ وہ ایک دن اپنے ابا کے ساتھ جج صاحب سے ملنے آئے۔ وہاں میں اور روفی بیٹھے تھے۔ ان کے ابا روفی کی باتوں سے پھڑک اٹھے اور پوچھا، ”کیوں برخوردار! آج کل کیا کرتے ہو؟“ یہ بولے، ”جی آج کل بی اے کا امتحان دیا کرتا ہوں۔“ اور حقیقت یہی تھی۔ روفی نہ جانے کتنے سال سے بی، اے کا امتحان دے رہے تھے۔ پھر وہ بزرگ جج صاحب سے بولے، ”کیا بتاؤں کتنا جی چاہتا ہے کہ آپ کو فون کروں، لیکن ہمیشہ بھول جاتا ہوں۔ آج کل تو کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ پہلے پہل یادداشت کے طور پر ایک نوٹ بک میں ایسی باتیں لکھ لیا کرتا تھا، لیکن اب وہ نوٹ بک ہی کہیں بھول جاتا ہوں۔“

روفی نے کہا، ”جی فون کا نمبر یاد کرنے کے طریقے میں نے ایک کتاب میں پڑھے ہیں۔ اجازت ہو تو عرض کروں؟“ وہ بولے، ”ضرور!“ روفی نے بتایا، ”وہاں لکھا تھا کہ اول تو فقط ایسے حضرات سے راہ و رسم بڑھانی چاہیے جن کے فون نمبر بالکل آسان ہوں۔ مثلاً پانچ ہزار، دو ہزار یا چار سو بیس۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو نمبر کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ مثلاً 645 کو یاد کرنا نہایت آسان ہے۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس میں پچپن جمع کر دیے تو سات سو بن جائیں گے اور اگر سات سو میں تین اور جمع کر دیے جائیں تو ہزار بن جائیں گے، اسی طرح اگر 645 کو 645 سے ضرب دیا جائے تو فقط 416025 بن جائے گا۔ اور اگر ہم یاد رکھیں کہ 645 محض چھ روپے چار آنے اور پانچ پائی ہے تو اسے کبھی نہیں بھول سکتے۔“

وہ بزرگ بڑے غور سے سن رہے تھے۔ روفی بولے، ”اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر یہی بہتر ہوگا کہ تاریخ کی کتاب کھول لی جائے، اور اس نمبر کا سنہ تلاش کیا جائے۔ مثلاً 645 میں سے اگر چھ کا ہندسہ ہٹا دیں تو 45 رہ جاتا ہے اور 45 قبل از مسیح میں سیزر کو ہمیشہ کے لیے ڈکٹیٹر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ ادھر اگر اس میں ایک ہزار جمع کر دیں تو 1645 ء میں نیزبی کی لڑائی ہوئی تھی۔“ اس دن سے وہ بزرگ اور ان کے صاحب زادے ہمارے دوست بن گئے۔

پکچر میں دیر تھی۔ میں روفی کے کمرے میں گیا، دیکھا کہ بیٹھے حامد کو پڑھا رہے ہیں۔ بولے بیگم کہہ گئی ہیں کہ اسے پڑھانا۔ میں بھی پاس بیٹھ گیا۔ روفی نے سوال کیا، ”کیوں ننھے، دنیا میں کل کتنے اونٹ ہوں گے؟“ وہ چپ رہا۔

”اچھا! کیا رومن لوگ گاجریں کھاتے تھے؟“
”پتہ نہیں!“
”ایک سال میں کتنے انچ ہوتے ہیں؟“

ننھے نے حساب لگا کر کچھ عجب الٹا سیدھا سا جواب نکال دیا۔ اب روفی خفگی سے بولے، ”کیا تمہیں سچ مچ پتہ نہیں کہ رومن گاجریں کھاتے تھے یا نہیں؟“

”جی نہیں!“ ننھا ڈر کر بولا۔
”اور یہ بھی پتہ نہیں کہ دنیا میں اونٹ کتنے ہیں؟“
”جی نہیں!“
”جہالت کی انتہا ہے! کیا تمہیں سچ مچ علم نہیں؟“ روفی چنگھاڑے۔
”جی نہیں!“ ننھا سہم گیا۔
”مجھے خود پتہ نہیں۔“ روفی بولے اور ننھے کو چھٹی مل گئی۔

اتنے میں روفی کے نام ایک خط آیا، جسے پڑھ کر انہوں نے بہت برا منہ بنایا، ناک بھوں چڑھائی۔ کچھ دیر ٹہلتے رہے، پھر بولے، ”کچھ اور بھی سنا؟ چھوٹے بھائی صاحب نے مونچھیں رکھ لی ہیں۔ کس قدر منع کیا تھا اسے؟ یہی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی داڑھی بھی اگا لی ہے!“ فوراً نوکر کو بلایا اور ایک تار لکھ کر دیا کہ بھیج دے۔ میں نے تار کی عبارت پڑھی۔ لکھا تھا SHAVE ATONCE۔ وہ تار اسی وقت بھیج دیا گیا۔ ہم پکچر کے لیے تیار ہو گئے لیکن ہمارے نئے دوست نہیں پہنچے تھے۔ روفی نے فون کرنا چاہا، لیکن نمبر نہ ملا۔ آخر چڑ کر بولے، ”تو کسی اور کو فون کردیں؟“

”کسی اور کو؟“

”ہاں! کیا حرج ہے۔ ؟ کیے دیتے ہیں۔“ انہوں نے نہ جانے کون سے نمبر کو بلا لیا، میں سرک کر ریسیور کے نزدیک ہو گیا۔

”کون صاحب بول رہے ہیں؟“ روفی نے پوچھا۔
”خاکسار کو عبد المجید مجبور کہتے ہیں۔“
”اوہ! عبد المجید تربوز؟ تو گویا آپ شاعر بھی ہیں!“ حالانکہ انہوں نے صاف مجبور کہا تھا۔
”جی نہیں، مجبور!“ وہ بولے

”معاف کیجیے، میں تو ایسی بے ادبی نہیں کر سکتا۔ آپ کس قدر کسر نفسی کر رہے ہیں؟ یعنی عبد المجید لنگور!“

”افوہ! مجبور۔ مج۔ بور!“ وہ بولے۔
”اچھا! مجبور صاحب ہیں۔ آپ کل کتنے بھائی ہیں؟“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5

Leave a Reply