پروفیسر چوہدری لیاقت علی: دو سانسیں اور سات دہائیاں

اور اس رات کی شروعات میں جب انہیں روزمرہ کی ادویات دی جا رہی تھیں تو اچانک انہوں نے معمول سے ہٹ کے ایک لمبی سانس لی۔ کمرے میں موجود میڈیکل شعبے سے متعلقہ ایک اضافی فرد فوراً چونکا۔ اس نے ساتھ والوں کو مطلع کیا کہ وہ آخری سانسوں کی پہچان رکھتا ہے اس لیے یہ وقت وقت رخصت ہے۔ سب ان کی چارپائی کے گرد جمع ہو گئے تو نیم جانوں میں زیست کی سانسیں رواں کرنے والے

Read more

میرا گاؤں جانے کہاں کھو گیا ہے

اتوار تھا۔ یاد آیا بچپن کے مشفق چہروں میں ایک چہرہ ابھی موجود ہے۔ خالہ صغرا عمر کے پائیدان کی آخری سیڑھیوں پہ اب بھی ڈٹ کے کھڑی ہیں۔ ملتا ہوں تو نوے سال پرانی آنکھوں کے کٹوروں میں جیسے دریا امڈ آتے ہوں۔ سننے والے کا دل ایسے میں ساون کی جھڑی بن جاتا ہے۔ جو رشتے وقت کے طوفانوں کی نذر ہو جاتے ہیں پرانے لوگ اسے سونے میں لپٹا ہوا درد بنا کے محفوظ کر لیتے ہیں۔

Read more