سرکاری ہسپتال میں سسکتے بلکتے والدین

احمد اور ثنا کی شادی کو چار سال گزر چکے تھے۔ گو کہ کوئی اتنا کوئی لمبا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا لیکن جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں پر تو شادی کے دو، چار ماہ کے بعد ہی ہر دوسرا ملنے والا اور رشتے دار، ساس سسر سمیت اٹھتے بیٹھتے یہی پوچھتے ہیں کوئی ”خوشخبری“؟

احمد اپنے والد کی آبائی زمین پر کھیتی باڑی کرکے اپنا اور اپنے والدین کا خرچہ بخوبی پورا کر رہا تھا۔ اور بظاہر اب دیکھنے میں ہر طرح کی خوشحالی تھی جیسا کہ ایک درمیانے درجے کے کسان کے گھر میں ہوتی ہے۔ کمی تھی تو صرف اولاد کی۔ احمد کی والدہ ثنا کو ہر قسم کے تعویذ گنڈوں سے لے کر شہر کے مختلف ڈاکٹرز کے پاس بھی لے کر جا چکی تھی۔

Read more

صرف شادی کے لئے ورجن چاہیے

امبر کمرے میں داخل ہوئی اپنا شولڈر بیگ زور سے بستر پر پٹخا اور اوندھے منہ لیٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ میں یہ ساری صورتحال خاموشی سے دیکھتی رہی۔ کالج سے واپس آکر کھانا کھا کر ابھی میں لیٹی ہی تھی کہ امبر والا سارا سین شروع ہو گیا۔ اب کہاں کی نیند اور کہاں کا آرام، میں اسے دلاسہ دینے کے لئے اور اصل ماجرا سننے کے لئےاسکے پاس پہنچی، بہت اصرار کیا کہ کچھ تو بولو ہوا کیا ہے۔ اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر میں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جتنا رونا ہے رو لے اور دل کا بوجھ ہلکا کر لے۔ مجھے کچھ کچھ اندازہ تو تھا کہ کیا بات ہو سکتی ہے۔

Read more