بات آئی ایم ایف کے آگے قرضہ لینے کے لیے دُم ہلانے کے بعد اپنا قومی وقار گروی رکھواتے ہوئے معیشت کا پہیہ چلانے پر ختم نہیں ہوتی، بات تو یہاں سے شروع ہوتی ہے اور پہلے سے سسکتی بلکتی قوم کی بھوک، ننگ، افلاس، بیماری، بے چینی اور بیروزگاری میں مزید اضافے سے ہوتی ہوئی دم توڑتی سانسوں تک آ پہنچتی ہے۔ شروع دن سے سنجیدہ معیشت دان اور خودداری کے فلسفے سے متاثر بیشتر حقیقت پسند پاکستان کے انٹرنیشنل ڈونرز (World Bank and آئی ایم ایف ) سے قرضہ لینے کے خلاف رہے ہیں اور اس حوالے سے بہت سے قابل عمل حل، متبادل پلاننگ یا اقدامات کے طور پر دیتے رہے ہیں لیکن نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے؟
آپ کے ریکارڈ کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ دنیا نیوز کے مطابق قریبا 1087 ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں گائنی امراض سے متعلق ایک مخصوص انجیکشن OCEREVUS کی قیمت 7 لاکھ پچاس ہزار روپے ہو جائے گی جو بھارت میں صرف 4 ہزار روپے کا مل جاتاہے اور گھٹنوں میں دوائی کے طور پر استعمال ہونے والا ٹیفی نلر کیپسول 7266 روپے فی عدد کے حساب سے میسر ہوگا جو بھارت میں محض 28 روپے فی عدد دستیاب ہے۔ اشیائے خوردونوش میں اضافہ پہلے ہی عوام کے کس بل نکال چکا ہے، یقینا موجودہ حکومت لوگوں کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے ”صاف نیت“ سے کوشاں ہے، جبھی تو لوگوں کو دوائی کھا کر اس زندگی کے عذاب کو مزید جھیلتے رہنے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے.
Read more