سننے، لکھنے اور دیکھنے میں فرق ہے، ۔ ایک اخبار نویس اپنی معلومات، معتبر ذرائع یا پھر کسی خاص موضوع سے متعلق انٹر نیٹ پر کی گئی تحقیق کی بنا پر ہی کسی حلقہ انتخاب، یا کسی علاقے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکے گا۔ یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ اے کاش، کیلاش و کافرستان کہلائے جانے والی وادی میں جانے کا اتفاق ہو۔ قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھوں اور فطرت کی زبان سے ہی فطرت کے قصیدے سنوں۔ چترال کہاں ہے؟ پاکستان کے انتخابی منظر نامے کا حلقہ اول۔
اس حلقہ کی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ یہاں سے سابق آرمی چیف اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف بھی انتخاب میں حصہ لینے کے آرزو مند رہے۔ گوگل نے ہماری کئی مشکلات پلک جھپکتے ہی آسان کر دی ہیں۔ انٹرنیٹ کی آمد سے کئی سال پہلے ایک آدھ مرتبہ کیلاش قبیلے یا وادی کافرستان کے بارے میں مختلف اخباری میگزینمیں اساطیری کہانیاں اور قصے پڑھا کرتا تھا، شاید کالج کے زمانے میں، تو دل مچل جاتا اور قدم بے قرار ہو جاتے۔ لیکن جیب کہاں اجازت دیتی کہ ہم ایسے لوگ چترال میں کیلاش قبیلے کا ثقافتی میلہ دیکھنے جائیں۔
Read more