گوادر پورٹ فعال، دہشت گرد فعال

ملکوں کے تعلقات جذباتیت کے بجائے مفادات پر ہوتے ہیں۔ بلا کسی عنوان کے ہم سب جانتے ہیں کہ گوادر پورٹ کی تکلیف کون کون سے ملک کو کتنی ہے۔ اس گنجلک کھیل میں تو ان ملکوں کو بھی تکلیف ہے جن کے سروں پر روایتی قبائلی لباس کا نشان مذہبی استعارے میں بدل چکا ہے۔ چاہ بہار ایران کا بھارت کے ساتھ ایک بڑا ساحلی منصوبہ ہے۔ ظاہر ہے ایران کے اپنے مفادات ہیں اور وہ ضرور اپنے مفادات کو دیکھے گا۔ اسی طرح پاکستان کے اپنے مفادات ہے جن پر کسی صورت سمجھونتہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ دبئی کی فری پورٹ کو گوادر پورٹ سے کوئی معاشی و سیاحتی نقصان ہوگا؟ یا نہیں؟ ماہرین اس حوالے سے لب بستہ ہیں، لیکن حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے زیر لب یہ بھی کہتے ہیں کہ گوادر پورٹ منصوبہ عرب بھائیوں کو بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Read more

داتا دربار کے باہر خود کش دھماکہ اور فکری مغالطے

بات سادہ ہے اور عام فہم بھی، دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں یا کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں؟ اپنے فہمِ اسلام کوپورے عالم انسانیت پر نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ یا انھیں حوروں کی طلب بے قرار کیے ہوئے ہے؟ کیسے اور کس طرح خود کش حملہ آور کی ذہن سازی کی جاتی ہے؟ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں ان دہشت گردوں کو کیوں اور کیسے سپورٹ کرتی ہیں؟ جو اپنے تئیں غزوہ ہند کے مجاہد بنے ہوئے ہیں؟ سب سے اہم یہ کہ افغانستان، جس کی ہمیشہ پاکستان نے مدد کی، وہ کیوں پاکستان مخالف قوتوں کی کمین گاہ ہے؟ یہ سب سوالات بہت اہم ہیں اور ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

Read more

مدارس کو وزارتِ تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ: چند تجاویز

سماج میں بے پناہ خرابیاں ہیں، خوبیاں بھی بے شمار ہیں مگر خرابیوں نے خوبیوں کا چہرہ بھی داغدار کر دیا ہے۔ غالب تعداد ایک ہی بہاؤ میں بہی جا رہی ہے۔ فکری مغالطے ایسے کہ رہے نام اللہ کا۔ بے شک جدید ریاستی نظام میں اداروں کو فوقیت حاصل ہے، جو حکومتی نظم و…

Read more

چترال کے اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی پر مولویوں کی یلغار

سننے، لکھنے اور دیکھنے میں فرق ہے، ۔ ایک اخبار نویس اپنی معلومات، معتبر ذرائع یا پھر کسی خاص موضوع سے متعلق انٹر نیٹ پر کی گئی تحقیق کی بنا پر ہی کسی حلقہ انتخاب، یا کسی علاقے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکے گا۔ یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ اے کاش، کیلاش و کافرستان کہلائے جانے والی وادی میں جانے کا اتفاق ہو۔ قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھوں اور فطرت کی زبان سے ہی فطرت کے قصیدے سنوں۔ چترال کہاں ہے؟ پاکستان کے انتخابی منظر نامے کا حلقہ اول۔

اس حلقہ کی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ یہاں سے سابق آرمی چیف اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف بھی انتخاب میں حصہ لینے کے آرزو مند رہے۔ گوگل نے ہماری کئی مشکلات پلک جھپکتے ہی آسان کر دی ہیں۔ انٹرنیٹ کی آمد سے کئی سال پہلے ایک آدھ مرتبہ کیلاش قبیلے یا وادی کافرستان کے بارے میں مختلف اخباری میگزینمیں اساطیری کہانیاں اور قصے پڑھا کرتا تھا، شاید کالج کے زمانے میں، تو دل مچل جاتا اور قدم بے قرار ہو جاتے۔ لیکن جیب کہاں اجازت دیتی کہ ہم ایسے لوگ چترال میں کیلاش قبیلے کا ثقافتی میلہ دیکھنے جائیں۔

Read more

ٹرمپ کو پاکستانی وزیر اعظم کا جواب

ملکوں کے تعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ تھینک ٹینکس، سفارتی ذرائع، میڈیا وار، پروپیگنڈا کا موثر استعمال اور این جی اوز کا جال نئے عالمی بیانیے کوموثر تر بنانے کے لیے بنا جاتا ہے۔ این جی اوز کا جب ذکر کیا جاتا ہے تو اس پہ سر سری بات کر کے گزر جانا قرین انصاف نہیں۔ پورے سیمینار کا موضوع ہے۔ بعض غیر ملکی این جی اوز کے کریڈٹ پر قابل رشک کام ہیں۔ لیکن اکثریت کے کام کا مرکزی ڈرافٹ غیر ملکی ایجنڈے کو رفتہ رفتہ تیسری دنیا کے ممالک میں سرایت کرنا ہے۔ زمینی حقائق کو نظر انداز کرنی والی قومیں تباہی کی کھائی میں منہ کے بل گرتی ہیں۔ نعرے بازی اور غیر ملکی قرضے اتارنے کا ”نادر“ نسخہ اندھے عقیدت مندوں کے ہجوم میں بیان کر کے واہ واہ تو کرائی جا سکتی ہے مگر ایسے نسخہ ہائے کیمیا کا واقعات کی اصل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، البتہ جگ ہنسائی ضرور ہوتی ہے۔

Read more

شر پسندوں کے خلاف ریاست کارروائی کرے

دین ِ مبین کے تعلیمات بڑی واضح ہیں۔ اخوت، ہمدردی، بھائی چارہ، ایک دوسرے کا احترام، معاشرتی سطح پر عدل و انصاف۔ دنیا کے تمام مذاہب کی تعلیمات کا مرکزی نقطہ اخلاقیاتِ عالی کی تعلیمات ہیں۔ عبادات بندے اور خدا کا براہ ِ راست معاملہ ہے۔ یہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ہی بتایا کہ…

Read more

جمال خاشقجی کا وحشیانہ قتل

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ کئی مواقع پر میں نے محسن نقوی کا یہ شعر اپنے کالم کی ابتدا میں لکھا، یقیناً واقعات دہشت گردی اورقتل و غارت گری کے ہی تھے جن کی مذمت کے لیے محسن نقوی کے اس شعر…

Read more