وینٹی لیٹر نے مجھے نئی زندگی دی

میرا نام تنویر جہاں ہے اور میں گذشتہ پنتیس برس سے سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ میں گذشتہ چوبیس برسوں سے دمے کے مرض میں مبتلا ہوں۔ اس دوران بارہا جان لیوا حملوں سے واسطہ پڑا لیکن سب سے تکلیف دہ واقعہ اپریل 2007 میں پیش آیا۔ پہلے اس کا کچھ پس منظر بیان کرتی ہوں پھر اصل واقعہ سناتی ہوں۔ آخر میں اس ساری داستان کا مقصد بیان کروں گی۔

پاکستان میں ایک عمومی رحجان یہ ہے کہ اگر کوئی بیماری میں آپ کی عیادت کے لئے آئے وہ آپ کی بیماری سے متعلق اپنے تجربات، ماہر معالج اور آزمودہ ٹوٹکے بتانا شروع کر دیتے ہیں ایسے ہی ایک موقع پر میری ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ کھیوڑہ میں نمک کی کان کے اندر دمے کے مریضوں کے لئے ہسپتال قائم کیا گیا ہے اور مجھے ایک مرتبہ وہاں جانا چاہیے۔ سٹیرائیڈذ اور ایلوپیتھی دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹ سے تنگ آ کر میں نے یہ تجربہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔

Read more

جلیانوالہ باغ پر کیا گزری؟

13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے شہر میں 10,000 سے زاید مرد، عورتیں اور بچے جلیانوالہ باغ کو جانے والی ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے۔ ان میں چند ایک سیاسی جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے مگر بہت سے سالانہ میلے کے لیے شہر آئے تھے یا محض تجسس میں ہجوم کے پیچھے…

Read more