قائد اعظم نے کیا فرمایا جو کھٹکتا ہے؟

11اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس نوزائیدہ ریاست کی پہلی سرکاری تقریب تھی۔ محمد علی جناح اس موقع پر اپنے سامعین سے چار حیثیتوں سے مخاطب ہو رہے تھے۔ وہ پاکستان کے غیر متنازع بانی تھے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے منتخب صدر تھے۔ وہ پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے اور اس تقریر سے کچھ ہی دیر پہلے نئی دستور ساز اسمبلی نے انہیں اپنا سربراہ منتخب کیا تھا۔ ان نمائندہ ترین حیثیتوں

Read more

ترقی پسند طبقہ کیوں ناکام ہوا؟

عزیز بھائی تیمور رحمٰن نے گزشتہ دنوں ایک اچھا مضمون لکھا جس میں روشن خیال مکتب فکر کی پاکستان میں ناکامیوں کے چار اسباب بیان کیے۔ انہوں نے لبرل کا لفظ استعمال کا تھا۔ یہ لفظ پاکستان کے تناظر میں کچھ ایسا مفہوم اختیار کر گیا ہے جو سیاسیات کے معروف معانی سے الگ سمجھنا چاہیے۔ پاکستان میں لبرل کا مفہوم ہے انگریزی تعلیم یافتہ، مغربی طور طریقے پسند کرنے والا اور مذہب کی مروجہ تعبیر سے کھلا انحراف کرنے

Read more

ہم ہتھیار نہیں ڈالا کرتے

"رات ہے، جھاڑیوں میں مجھے اذیت دی جا رہی ہے، میں چیختا ہوں، قریب ہی سڑک پر لوگ چل پھر رہے ہیں اور کوئی میری چیخ پکار پر توجہ نہیں دیتا۔” آرتھر کوئسلر نے اپنا یہ خواب دوسری عالمی جنگ کے دوران لکھا تھا جب یورپ سے باہر بہت کم لوگ نازی عقوبت خانوں کی حقیقت سے آگاہ تھے۔ رائے عامہ کا بڑا حصہ ان اذیت گاہوں کے بارے میں بتائی جانے والی باتوں کو اتحادی قوتوں کا پراپیگنڈا سمجھتا

Read more

شاہ رانجھا البیلا ….

80ءکی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔ ہم سب ایک ابتلا میں تھے۔ ہماری ابتلا بنیادی طور ایک ہی ہے ، ہم منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اس کا نام کبھی ایوب خان رکھ دیتے ہیں اور کبھی اسے یحییٰ خان کہتے ہیں۔ کبھی اس کی مونچھوں کو بل دے کر پونے تین بجاتے ہیں اور مرد حق اور مرد مومن کے نعرے لگاتے ہیں ۔ کبھی اسے بغل میں کتے کے پلے دے کر کھڑا کر دیتے ہیں اور

Read more

ناانصافی طے شدہ معاملہ نہیں ہوتی

خدا بہتر جانتا ہے کہ کس ستم ظریف نے پچھلی صدی کے اردو نصاب میں ’مدیر کے نام نمونے کا مراسلہ‘ شامل کیا تھا۔ واللہ آج بھی عین مین اسی نمونے پر اردو اخبارات میں رائے اور تجزیے شائع کئے جاتے ہیں، مجال ہے جو سو برس کے عرصے میں ڈکشن اور استدلال میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ رائے عامہ کی بیداری اور سیاسی شعور کی حقیقت یہی ہے۔ ایک تشویش تو یہ ہے کہ حالات کب ’ٹھیک‘ ہوں گے۔

Read more

دائیں اور بائیں بازو کی تفریق کیوں ؟

’ہم سب‘ یوں تو ہم سب کا ہے۔ ارے بھائی، ہم سب نے تو یہ نام تجویز کرنے ہی میں یہ التزام کیا تھا کہ کوئی خود کو اجنبی نہ سمجھے۔ جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔ خانہ ما خانہ تست۔ یہ بھی برملا کہا کہ کوئی دائیں بازو سے تعلق کا دعویدار ہو تو ہم سب کو اپنا تکیہ بنا لے، کسی کو بائیں بازوسے رغبت ہو تو اسے اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ کوئی قدامت پسند

Read more

’ہم سب کے لیے لکھنے والوں سے چند گزارشات

’ہم سب‘ آزادی اظہار کے لیے ایک کھلا پلیٹ فارم ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ادارے کو مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لکھنے والوں کا اعتماد بھی حاصل ہوا ہے اور پڑھنے والوں سے بھی پذیرائی ملی ہے۔ یہاں کچھ لکھنے والے کہنہ مشق ہیں اور کچھ ابھی اپنے تجربے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ ’ہم سب‘ کا عملہ بھی محدود ہے اور وسائل بھی۔ ہم ہر طرح کے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

Read more

اقتصادی راہداری اور شکور بھائی چشمے والے

2012 ءکا موسم گرما اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میمو گیٹ سکینڈل کے شعلے قریب قریب بجھ چکے تھے۔ رینٹل پاور کے قصے عام ہو رہے تھے۔ قومی مفاد کی تجوریوں میں گزشتہ پانچ برس کے دوران جمع کیے گئے اثاثے چمک رہے تھے۔ کہیں این آر او رکھا تھا ، کہیں کیری لوگربل کا کھاتہ دھرا تھا۔ آزاد عدلیہ اپنی بہار دے رہی تھی۔ آزاد میڈیا کے اپنے جلوے تھے۔ کچھ یافت ڈرون حملوں سے ہوئی تھی۔

Read more

نیشنل کالج آف آرٹس…. آدمی ہنسے، دیکھو!

لاہور کی گلزار زمیں پر پھولوں کا ایک قطعہ نیشنل کالج آف آرٹس بھی ہے۔ کچھ تعلیمی ادارے شہر کی تصویر کا حصہ ہوتے ہیں۔ کچھ تعلیمی ادارے اپنے اردگرد آباد بستیوں کو کردار عطا کرتے ہیں۔ ذرا سوچئے۔ کیمبرج سے آپ کے ذہن میں کیمبرج کا قصبہ آتا ہے یا دریائے کیم کے کنارے علم کی کھیتی کو سینچتی کیمبرج یونیورسٹی۔ علی گڑھ کے قصبے کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے شناخت دی۔نیشنل کالج آف آرٹس کا شمار دوسری

Read more