باسودے کی مریم اور مفتی منیب الرحمان

اردو ادب میں "باسودے کی مریم” جیسا ہیرے کی کاٹ افسانہ کم لکھا گیا ہو گا۔ اسد محمد خان اردو نثر کے جملہ قرینوں پر عبور رکھتے ہیں اور اردو فکشن کی بہت سی طرزیں تو اسد محمد خان ہی سے منسوب ہو گئیں۔ روز مرہ بول چال میں ایسا کسے ہوئے طبلے جیسا باج اردو افسانے میں بہت کم ملتا ہے۔ "باسودے کی مریم” میں ایک خوبی بے حد منفرد ہے۔ اردو افسانے میں مذہبی احساس کی پاکیزگی، نفاست،

Read more

سیاسی ثقافت اور روایت پر غور کی ضرورت

آزادی کے بعد ہماری تین نسلیں پیدا ہوکر جوانی اور بڑھاپے کی منزلوں کو پہنچ گئیں۔ سیاست کے موضوعات وہی رہے۔ معیشت کی تصویر وہی رہی اور معاشرے کا روگ وہی رہا۔ ناانصافی کی کہانیوں میں نام بدل جاتے ہیں۔ بھیتر کی الجھن دور نہیں ہوتی۔ دکھ کی چبھن کم نہیں ہوتی۔ واقعہ کی تفصیل بدل جاتی ہے، کہانی کا انجام نہیں بدلتا۔ ساٹھ برس پہلے گجرات کے بس اڈے پر ایک خاتون کے ساتھ چند اوباشوں کی درندگی کی

Read more

اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں

ایک ملزم کے دفاع کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری اٹھانے کی پاداش میں راشد رحمن کو قتل ہوئے پانچ برس مکمل ہو گئے ۔ وکیل کو زیرسماعت مقدمے کی پیروی سے روکنا اور اس کے انکار پر اسے موت کے گھاٹ اتارنے سے زیادہ قبیح اور بھیانک جرم کیا ہو گا ۔ پانچ برس گزر گئے، زمینی صورت حال یہ ہے کہ مقدمے کا اصل ملزم جس کا قانونی دفاع کرتے ہوئے راشد نے جان سے ہاتھ دھوئے تھے

Read more