وجاہت مسعود سے ایک سوال
وجاہت مسعود جارج آرویل کی طرح نہ تو جانوروں کا باڑا (Animal Form) لکھ کر اشاروں میں بات کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی پیش گوئیاں کر کے 1984 لکھتے ہیں بلکہ منٹو کی طرح کھلا سچ لکھتے ہیں اور اشارہ بھی کریں تو ساری دنیا کو وہ اشارہ، اشارہ نہیں؛ ایک واضح اعلان لگتا ہے۔ ”معلق محل سے آتی صدائیں“ اس کی مثال ہے۔ منٹو کا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا استعارہ لے کر اپنے ”مجرم خیال“ ہونے کا اعتراف
Read more
