جب میرے والد کی میت نذر آتش کی گئی

(بعد از مرگ نذر اتش کئے جانے کے بارے میں وصیت پر ن۔ م۔ راشد کی بیٹی، یاسمین حسن کے تاثرات) 9 اکتوبر 1975، مانٹریال (کینڈا) کی ایک خاموش صبح تھی۔ میں اور میرے شوہر فاروق باورچی خانے کی میز پہ بیٹھے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اور قریب ہی کھیلتے اپنے بچے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب میری انگریز سوتیلی ماں شیلا تھیں (جن سے میرے والد نے امی کی وفات کے

Read more