بے نظیر اور تین دریا

افتخار عارف نے کہا ہے ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں آج اُس بدقسمت ستائیس دسمبر کو گزرے بارہ سال ہونے کو آئے لیکن وہ ساعتیں اب بھی نہیں بھولتی جب میں اور میرا کزن مانچسٹر کے سٹاک پورٹ ٹاؤن میں لگی کرسمس کی سیلوں سے خریداری کر رہے تھے تب یہ اندوہناک خبر سننے کو ملی تھی اور ہم سب کچھ چھوڑ کر گھر کی طرف بھاگے تھے کہ

Read more

جب بی بی شہید ہوئی تو میں۔۔۔ چھت پر جا کر رو دیا!

ہمارے جیسوں کی سیاسی وابستگیاں نہیں ہوتیں انسانی وابستگیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر اور رشتہ داروں میں پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمدردی کی گنجائش کم تھی۔ نوے کی دہائی میں جب بی بی کے خلاف کردار کشی مہم چلی تو پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ گنے چنے جاننے والے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ بی بی کے خلاف بازاری زبان میں شعر زباں زد عام تھے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی عورت جس سے ہم کسی بھی حوالے سے وابستہ ہوں اس پر کیچڑ اچھالا جائے جھوٹی کردار کشی کی مہم چلائی جائے اور سب جانتے بھی ہوں کہ یہ جھوٹ ہے تب بھی ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں جبکہ بی بی کے مقابلے میں نواز شریف تو بہر حال مرد تھے۔ مرد کی کردار کشی زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتی ہے کہ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا تو کیا ہوا مرد ہے شہزادہ ہے کچھ تو کرے گا۔ یہ میں آپ کو روایتی دیہی سوچ کے تناظر میں بتا رہاہوں۔ تو اس وقت ایک شہزادے اور ایک شہزادی۔۔ نہیں بلکہ ایک شہزادے اور ایک عورت کے درمیان سیاسی جنگ عروج پر تھی۔ اور ہمارا خاندان اور بیشتر گاؤں کی آبادی شہزادے کے ساتھ تھی۔ تو اس پس منظر کے حامل کو پیپلز پارٹی سے کیا ہمدردی ہو سکتی تھی؟

Read more