کچھ ذکر ہمارے ہزارہ ہم وطنوں کا۔۔۔
جہاز روانگی کے لیے تیار ہے۔ اس اعلان کے بعدہم قطار میں لگ گئے۔ ساتھ والی قطار میں ایک لڑکی بیساکھی پر قدم اٹھا رہی تھی۔ اسے وہیل چئیر پہ بیٹھنے کو کہا جارہا تھا مگر وہ منع کر رہی تھی۔ منتظم نے کہا، آپ کو تکلیف ہو گی۔ لڑکی نے کہا، بالکل نہیں ہو گی۔ وہ ہمدردی میں ملنے والے رستے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے قطار میں لگنے کو ترجیح دے رہی تھی۔ یونہی بغیر کسی سہارے کے وہ ائیر بس میں چڑھ گئی۔ بس میں وہی ماں بالکل میرے پہلو میں کھڑی تھیں جو اپنے جواں سال بچے کی گردن پہ مستقل سہارا دیے ہوئے بیٹھی تھیں۔ لیکن اب جوان کی کم ازکم گردن میں کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے ماں سے پوچھا تو بہتے ہوئے لہجے میں بولیں، تب یہ سو رہا تھا اس لیے گردن پہ ہاتھ رکھا تھا۔
ماں سے گفتگو کرتا دیکھ کر جوان نے مسکراتے ہوئے مجھے سلام کیا۔ مجھے اچھا لگا کہ چلیے دو باتیں اس سے بھی ہوجائیں گے۔ تکلف ایک طرف رکھنے کے لیے میں نے فارسی میں حال پوچھا۔ دو ساعتوں کے اس سفر میں رسمی علیک سلیک پر وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دوچار باتوں سے ہوتے ہوئے فورا اپنے سوال پہ آگیا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔ وہ بھی مسکرانے لگا اور ساتھ میں بھی۔ مسکراہٹ میں اس کی آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔
بس کے دروازے کھل گئے۔جہاز کے سامنے مسافر قطار میں لگ گئے۔ نظر پھر سے آگے کھڑی اس ہزارہ لڑکی نے پکڑلی جو بیساکھی کے سہارے پر تھی۔ جہاز کی سیڑھیوں پہ اسی اعتمادسے چڑھی جارہی تھی جس اعتماد سے بس میں چڑھ رہی تھی۔ مگراس کا چہرہ لال سرخ ہوچکا تھا۔ آخری زینے پہ عین دروازے کے ساتھ اس سے حال احوال کا موقع مل گیا۔ پوچھ لیا ۔یہ سب کیسے ہوا؟ بم دھماکے میں ہوا۔
Read more

