راجہ کا شیر جاہل نکلا

پیارے بچو، بہت ہی زیادہ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ اندھیر نگری میں چوپٹ مہاراج نامی ایک راجہ حکومت کرتا تھا۔ راجہ کو جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن معاملہ یہ تھا کہ اگر وہ بکری یا گائے بھینس پالتا تو پرجا بھد اڑاتی کہ یہ مہاراجہ ہے یا گڈریا؟ آج بکری بھینس پالی ہے تو کل دودھ دہی بیچنا شروع کر دے گا۔ آخر ایک دن چوپٹ مہاراج نے سوچا کہ کیوں نا شیر پالا جائے، راجہ مہاراجہ شیر کی کھال اوڑھتے ہیں تو ان کے رعب میں اضافہ ہوتا ہے، اور اگر ہم کتوں کی بجائے محل کی حفاظت کے لیے بھی شیر رکھیں گے تو سب ہم سے بہت ڈرا کریں گے۔

چوپٹ مہاراج نے ایک خوب پلا ہوا شیر محل میں رکھ لیا۔ اسے خوب کھلایا پلایا جاتا۔ مگر شیر کوئی کتا تو تھا نہیں کہ جو راتب ڈالا جاتا، چپ چاپ کھا جاتا۔ اسے شکار کرنا پسند تھا۔ سو ایک دن وہ محل سے باہر نکلا اور بازار میں بندھی ایک غریب کسان کی بکری مار کر کھا گیا۔ کسان اگلے دن دربار میں فریاد کرتا ہوا آیا کہ ”مہاراج آپ کے شیر نے میری بکری کھا لی ہے۔“

Read more