پاکستان عالمی سیاحوں کے لئے جنت کیوں نہیں بن سکتا؟

لوگ دن رات محنت کر کے پیسے کماتے ہیں پھر سیاح بن کر وہ ہی دولت دوسرے ملک لٹانے کیوں چلے جاتے ہیں۔ آخر سالوں کی کمائی چند ہفتوں میں لٹانے میں کیا مزہ ہے۔ کہتے ہیں خواہشات اصل میں ضروریات پر حاوی ہوتی ہیں، اور لوگ اس دنیا میں جنت کی خواہش رکھتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں کسی حور و قصور والی جنت کی تلاش میں۔ کیا پاکستان سیاحوں کے لئے جنت ہے؟ اس سوال کا جواب خود پاکستانی کیا دیں گے؟

اگر ہم جذباتی نہ بنیں تو درحقیقت پاکستان خود اپنے لوگوں کے لئے بھی سیاحتی جنت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جس ٹرمنالاجی کو ”سیاحت“ کہتے ہیں وہ ضیاء دور کے بعد پاکستان میں ناپید ہو چکی ہے۔ اب ہم اور ہمارے بچے صرف سسرال، میکے، ننہال، ددہال اور دور کے رشتیداروں کے پاس گھومنے تو جاسکتے ہیں مگر کسی ایسے شہر میں جانے سے کتراتے ہیں جہاں ان کو جاننے والا کوئی نہ ہو۔ اس وقت اگر کوئی ملک کے فاٹا اور شمالی علاقاجات گھومنے جاتا ہے تو اس کو بھی پاکستان آرمی کی محنتوں کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

Read more

شنگریلا کی تلاش: پسو کونز

سورج کسی دیوانے کی طرح برف پوش پربتوں کے ویرانوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک کر کہیں سو گیا تھا۔ تاہم آسمانِ لازوال پر اُس کے ہونے کے نشان ابھی بھی باقی تھے۔

ٹھنڈ تھی کہ سانسوں کے دریچوں سے گزر کر رگ رگ میں سماتی تھی۔
کالی گھٹاؤں نے پہاڑوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا تھا اور اُن کے سروں پر بیٹھی راج کرتی تھیں۔
”وہ وہاں برف باری ہورہی ہے۔ “ ہم میں سے کسی نے کہا تھا۔

Read more