ناران کی بری حالت

بیس پچیس سال پہلے تک وادی کاغان میں سیاحوں کا آخری پڑاؤ کاغان کا شہر ہوا کرتا تھا۔ تاہم سڑک کی ناگفتہ بہ حالت کی وجہ سے بہت ہی کم سیاح اس علاقے تک پہنچ پاتے تھے، ورنہ تو صرف مری تک آ کر مال روڈ کے چکر لگا کر واپس چلے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی صورتحال بھی بہتر ہوتی گئی، اور قدرے خوشحالی بھی آتی گئی، کاغان جیسی تنگ جگہہ سیاحوں کی روز افزوں بڑھتی

Read more

پاکستان کی تین لیلائیں اپنے مجنوں کی منتظر ہیں

عربی زبان میں لفظ لیلیٰ کے معنی ’رات‘ کے ہیں۔ تاہم مشہور عالم لیلیٰ مجنوں کی عشقیہ داستان کے سبب یہ لفظ محبوبہ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاہم یہاں رات یا عشق و محبت والی لیلیٰ کا ذکر کرنا مقصود نہیں بلکہ لیلیٰ کے نام سے دنیا میں موجود کم از کم ان چار پہاڑی چوٹیوں کا احوال بیان کرنا ہے جن میں سے تین پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ ان چار لیلاؤں میں سب

Read more

سری لنکا چائے کی سر زمین۔ قسط نمبر 5۔ کینڈی شہر اور بدھا کی یادگاریں

میں صبح جلدی اٹھ گیا اور تیار ہو کر ناشتہ کرنے ڈائننگ روم میں پہنچ گیا۔ فارمیسی والی رات کھائی ہوئی گولیوں نے تیر بہف کام کیا تھا جس سے میرا گاؤٹ کا درد بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ ہال میں ہمارے گروپ کے ابھی صرف چند لوگ ہی ناشتہ کرنے پہنچے تھے۔ ہال میں مغربی ٹورسٹ کی زیادہ تعداد تھی جن کا گروپ بھی شاید جلدی سیر کے لئے نکلنے والا تھا۔ میں جوس کا گلاس اور کچھ فروٹ

Read more

وادئ کُمراٹ میں سیاحت: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

لاہور کو پیرس یا ملک کو سوئٹزرلینڈ بنانے کے دعوے تو آپ نے سیاستدانوں کے منہ سے سنے ہوں گے لیکن جب سوئس سیاح خود پاکستان کے کسی مقام کا تقابل اپنے ملک کے حسین نظاروں سے کرتے دکھائی دیں تو وہاں کا دورہ تو بنتا ہی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 384 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کی وادی کُمراٹ کو یہاں کے مقامی افراد ’پاکستان کا سوئٹزرلینڈ‘ کہتے ہیں اور شاید سچ کہتے ہیں کیونکہ اس کی گواہی دیتے ہمیں کیستوف دھو بھی ملے جو اپنی ساتھی فرینی کوپلو کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔

Read more

سری لنکا قسط نمبر 3۔ جیفری باوا کی جاگیر اور مدھو گنگا کے قدیم دریائی جنگلات

چار اکتوبر کی 2105 ء کی صبح 8 بجے الارم کی آواز سے آنکھ کھلی تو فورا تیار ہو کر ناشتے کے لئے بریک فاسٹ ہال میں پہنچے۔ ہمارے سارے ہی ساتھی ناشتہ کے لئے ہال میں موجود تھے اور ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میں بھی عابد سلطان کے ساتھ میز پر بیٹھ گیا اور ناشتے کی چیزیں لا کر ناشتہ کرنے لگا۔ ہمارے سارے ہی ٹورز میں ہم سب کے لئے بینک کی

Read more

سری لنکا چائے کی سرزمین کی سیر قسط نمبر ۱

پچھلے تین سال سے بینک کے آزاد کشمیر ریجن کی نمائندگی ہر فارن ٹرپ میں ہو رہی تھی۔ میں اور میری ٹیم کے ممبران ہر فارن ٹرپ میں موجود ہوتے تھے۔ دوسرے ریجن کے بزنس ہیڈز مجھے پوچھتے تھے کہ آپ کیا کرتے ہو جس سے آپ کا نام ہر ٹرپ میں آجاتا ہے۔ میں انھیں ہمیشہ کہتا تھا کہ یار اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، بلکہ یہ میری ٹیم کا کمال ہے جو سارے ٹارگٹ پورے کرتی

Read more

پاکستان عالمی سیاحوں کے لئے جنت کیوں نہیں بن سکتا؟

لوگ دن رات محنت کر کے پیسے کماتے ہیں پھر سیاح بن کر وہ ہی دولت دوسرے ملک لٹانے کیوں چلے جاتے ہیں۔ آخر سالوں کی کمائی چند ہفتوں میں لٹانے میں کیا مزہ ہے۔ کہتے ہیں خواہشات اصل میں ضروریات پر حاوی ہوتی ہیں، اور لوگ اس دنیا میں جنت کی خواہش رکھتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں کسی حور و قصور والی جنت کی تلاش میں۔ کیا پاکستان سیاحوں کے لئے جنت ہے؟ اس سوال کا جواب خود پاکستانی کیا دیں گے؟

اگر ہم جذباتی نہ بنیں تو درحقیقت پاکستان خود اپنے لوگوں کے لئے بھی سیاحتی جنت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جس ٹرمنالاجی کو ”سیاحت“ کہتے ہیں وہ ضیاء دور کے بعد پاکستان میں ناپید ہو چکی ہے۔ اب ہم اور ہمارے بچے صرف سسرال، میکے، ننہال، ددہال اور دور کے رشتیداروں کے پاس گھومنے تو جاسکتے ہیں مگر کسی ایسے شہر میں جانے سے کتراتے ہیں جہاں ان کو جاننے والا کوئی نہ ہو۔ اس وقت اگر کوئی ملک کے فاٹا اور شمالی علاقاجات گھومنے جاتا ہے تو اس کو بھی پاکستان آرمی کی محنتوں کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

Read more

شنگریلا کی تلاش: پسو کونز

سورج کسی دیوانے کی طرح برف پوش پربتوں کے ویرانوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک کر کہیں سو گیا تھا۔ تاہم آسمانِ لازوال پر اُس کے ہونے کے نشان ابھی بھی باقی تھے۔

ٹھنڈ تھی کہ سانسوں کے دریچوں سے گزر کر رگ رگ میں سماتی تھی۔
کالی گھٹاؤں نے پہاڑوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا تھا اور اُن کے سروں پر بیٹھی راج کرتی تھیں۔
”وہ وہاں برف باری ہورہی ہے۔ “ ہم میں سے کسی نے کہا تھا۔

Read more