اک کوڑیالے نے بچپن کو ڈس لیا
دن میں ہم تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اور رات کو جگنُو دیکھ کے گھر لوٹتے تھے۔ مینھ کے بعد نمُودار ہونے والے کیچوے پر لُون چھڑک کر اُسے مٹی ہوتا دیکھتے۔ کبھی کبھار خراتین جتنا سنپولیا نکل آتا، جسے پیروں تلے مسل دیتے۔ بچپن خواہ شاہ کا ہو یا مفلس کا، ہوتا عالی شان ہے۔ کامل یقین سے بولے گئے کچے کچے جھوٹ، معصومیت میں کہے گئے پکے وٹے سچ، سبھی بچپن کی سُندرتا کے چہرے ہیں۔
یاد پڑتا ہے، کالُونی میں انگریز دور کے پانچ کشادہ مکان تھے۔ یورپین انڈین طرزِ تعمیر کا امتزاج۔ ایک میں ہم رہتے تھے۔ گھر سے نکلتے ہی سامنے ہرا میدان، اور میدان کے دوسری طرف، ریل گاڑیوں کے اوقات کو کنٹرول کرتا وائرلیس آفس۔ اِس مناسبت سے اسے ریلوے وائرلیس کالونی کہا جاتا ہے۔ کیا ہی خوب منظر تھا۔ پوٹھوہار کا لینڈ اسکیپ مجھے پسند ہے۔ ولایتی کیلنڈروں میں کہیں سطح مرتفع کا لینڈ اسکیپ دیکھنے کو ملے تو گمان ہوتا ہے، یہ میرے بچپن کا راول پنڈی ہے۔
Read more
