اک کوڑیالے نے بچپن کو ڈس لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دن میں ہم تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اور رات کو جگنُو دیکھ کے گھر لوٹتے تھے۔ مینھ کے بعد نمُودار ہونے والے کیچوے پر لُون چھڑک کر اُسے مٹی ہوتا دیکھتے۔ کبھی کبھار خراتین جتنا سنپولیا نکل آتا، جسے پیروں تلے مسل دیتے۔ بچپن خواہ شاہ کا ہو یا مفلس کا، ہوتا عالی شان ہے۔ کامل یقین سے بولے گئے کچے کچے جھوٹ، معصومیت میں کہے گئے پکے وٹے سچ، سبھی بچپن کی سُندرتا کے چہرے ہیں۔

یاد پڑتا ہے، کالُونی میں انگریز دور کے پانچ کشادہ مکان تھے۔ یورپین انڈین طرزِ تعمیر کا امتزاج۔ ایک میں ہم رہتے تھے۔ گھر سے نکلتے ہی سامنے ہرا میدان، اور میدان کے دوسری طرف، ریل گاڑیوں کے اوقات کو کنٹرول کرتا وائرلیس آفس۔ اِس مناسبت سے اسے ریلوے وائرلیس کالونی کہا جاتا ہے۔ کیا ہی خوب منظر تھا۔ پوٹھوہار کا لینڈ اسکیپ مجھے پسند ہے۔ ولایتی کیلنڈروں میں کہیں سطح مرتفع کا لینڈ اسکیپ دیکھنے کو ملے تو گمان ہوتا ہے، یہ میرے بچپن کا راول پنڈی ہے۔

سال میں دو بار چھوٹی بڑی عید پہ نیا لباس بنتا تھا۔ وہ خوشی کیا تھی، اب کیوں کر بیان ہو۔ بچپن میں ایک مرتبہ میں اس پہ پُھولا نہیں سما رہا تھا کِہ میرے پاس کپڑوں کے چار جوڑے ہیں۔ چار میں سے دو کیمل کلر کے اسکول یونیفارم تھے۔ ہم امیر خانوادے کے بچے نہیں تو غریب کُنبے سے بھی نہیں تھے۔ ویسے ہی متوسط طبقے کے گھرانے سے تھے جیسے آج ہیں۔ لیکن عصر حاضر میں درمیانے درجے کے کنبوں کی اولاد کے پاس کافی کچھ ہے۔

بچپن ان خُوش نُما دقیقوں کا نام ہے، جو لمحہء موجود میں گزارے جاتے ہیں۔ بچپن سُندر تھا، تو بس سُندر تھا۔ وہ شب و روز مستی کے تھے۔ بچوں کو کاہے کی چِنتا کِہ ٹوٹے سلیپر ہیں یا سلامت۔ ناک بَہ رہی ہے یا بٹن ٹوٹا ہوا ہے، کاج ڈھیلا پڑ گیا ہے، آستین پھٹی ہوئی ہے، یا دامن داغ دار ہے۔ ہاں! فکر ہوتی ہو گی تو ماوں کو ہو گی۔ گھر والوں کو ہوتی ہو گی کِہ اُدھڑا لباس ٹانکنا ہے یا نیا جوڑا بنانا ہے۔

رات کو بستر میں جاتے یہ گھبراہٹ ہوتی تھی کِہ کل صبح پھر جلدی اٹھایا جائے گا۔ اسکول کے لیے تیار کیا جائے گا۔ سبق تو یاد نہیں کیا، ماسٹر صاحب ناراض ہوں گے۔ مجھ بچے کے لیے اگلی سویر ایک ڈراونا خواب ہی تو تھی۔ پر یہ بھی کتنی دیر؟ بستر میں گھستے ہی تھوڑی دیر میں نیند آ جاتی تھی۔ اسکول سے چھٹی کے لیے دِل مچلتا تھا کِہ کاش کوئی ٹیچر مر جائے اور اسکول سے چھٹی ہو جائے۔ کبھی یہ بھی سوچتا تھا، اسکول میں اتنے ٹیچر نہیں ہیں جتنی چھٹیاں، میں ان کی موت کی بدلے میں چاہتا ہوں۔ اس کا حل یہ سمجھ آتا کِہ دُنیا کے سبھی ٹیچر ایک ساتھ مر جائیں، تا کہ اسکول سے پکی پکی چھٹی ہو جائے۔

وائرلیس کے دفتر سے زرا ہٹ کے، اُس کے عقب میں گورا قبرستان کی دیوار ہے۔ اس دیوار کے پیچھے شکستہ مرقدوں سے پھوٹتی سبز ڈنٹھلوں پر زرد و سفید نرگس کے پھول کھلا کرتے تھے۔ یہ عجیب بات ہے کِہ انھیں دیکھ کر جی اُداس ہو جاتا تھا۔ نصیحت کرنے والے تنبیہ کرتے کِہ نرگھس کی شاخیں مت توڑا کرو، ان کے نیچے سانپ ہوتے ہیں۔ وائرلیس کالونی میں نیولے بہ کثرت پائے جاتے تھے۔ یہ ہم بچپن سے جانتے تھے جہاں نیولے ہوں، وہ مار کا گھر نہیں ہوتا، سو اس افعی کا ڈر نہ تھا۔

پھر یوں ہوا کہ ریلویز نے وائرلیس سسٹم سے، چھٹکارا چاہا۔ نیا نظام، نئی بھرتیاں اور نئے مسافروں کے لیے مزید ٹھکانوں کی ضرورت پڑی۔ یوں کالونی کے دو اطراف میں بنیادوں کے لیے کُھدائی شروع ہوئی۔ بچوں کو چور سپاہی کھیلنے کے لیے مورچے مل گئے۔ مہینوں میں خندقوں کی جگہ بد وضع عمارتوں نے لے لی۔ اجنبی لوگوں کی آمد سے کالونی کا ماحول ہی بدل گیا۔ نئی قیام گاہوں میں ایک گھونسلا چھوڑ کر نرجس کی چشم والی رہتی تھی۔ ایک روز ہمارے خاندان میں کسی موقع پر ختم قران دلایا گیا۔ بیٹھک میں دوسری خواتین کے ساتھ بیٹھی، وہ بھی سی پارہ پڑھ رہی تھی۔ میں ‌صحن میں کھڑا کھلے کواڑوں کے پار اسے کلام اللہ پڑھتے دیکھا کیا۔ اس بے خبری میں شکندر کی جسامت کا کوئی سنپولیا تھا کِہ دِل کو ڈس گیا۔ اس وقت میری عمر یہی کوئی تیرہ چودہ برس رہی ہو گی۔

اسکول سے آتے جاتے، راہ میں، وائرلیس کالونی میں پھیلی گھاس کے سبز قالین پر، ایک دوسرے کے مسکن میں آتے جاتے، موقع بے موقع اُسے دُزدیدہ نگاہی سے دیکھنا معمول بن گیا۔ اگر چہ اس کی چھوٹی بہن سے بے تکلفی رہی، مگر مالکوس کی چوتھی دیوی سرستی سے نُطق نہ کر پایا۔ کیا معلوم یہ عرصہ چھہ ماہ کا تھا یا سال کا، اس کے ابو کی پوسٹنگ جہلم ہو گئی۔ پھر کیا ہوا؟ وہ کہاں گئی؟ اب کون یہ باتیں جانتا ہے! بچپن کو یونہی بچھڑنا تھا، سو کھو گیا۔
متنبہ کرنے والے پیلے، سبز، دودھیا سانپوں سے ڈراتے تھے۔ ہم اندر بیٹھے کالے کوڑیالے سے بے خبر رہے۔ بچپن کی بہت سی باتیں آج سمجھ آتی ہیں، لیکن یہ بھید نہیں کُھلتا، بوسیدہ تُربت پہ اپچنے والے ہری ریشمی گوٹوں پر کھلتے زرد و سپید، پیالہ نما چشم معشوق کو دیکھ کے جی اُداس کیوں ہو جاتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 317 posts and counting.See all posts by zeffer-imran