کرونا وائرس پھِیلاؤ میں اتنا کامیاب کیوں ہو رہا ہے؟
دی اٹلانٹک میں 20 مارچ کو چھپنے والی تحریر کا اردو ترجمہ.
کالم نگار۔ ای ڈی یونگ۔ مترجم۔ ڈاکٹر عبدالقدیر رانا۔
ہمیں CoV۔2 کے بارے میں پتا چلے تین مہینے ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک سائنسدان اس بارے چند اندازے ہی لگا پائے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے آیا تھا اور یہ اتنا مہلک کیوں ہے؟
آپ اسے بحرانی حالت میں اسے بھی قدرت کی مہربانی ہی تصور کریں کہ کرونا وائرس انفرادی حیثت میں آسانی سے مر جاتا ہے۔ ہر وائرس کا جنیاتی مادہ تھوڑے سے جینز پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ چربی کے مالیکیولز سے مل کے بنے ایک خول میں مقید ہوتا ہے چونکہ چربی سے بنے یہ خول بڑی آسانی سے صابن سے دھل جاتے ہیں اس لیے بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے سے کرونا وائرس بھی آسانی سے دھل جاتا ہے۔ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ کرونا وائرس گتے سے بنی اشیا پر ایک دن، اسٹیل اور پلاسٹک سے بنی اشیا پر دو سے تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس طرح کے وائرس زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے تاوقتیکہ وہ جاندار چیزوں پر نہ ہو۔
Read more
