بدھو میاں کا رشتہ ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بدھو میاں جس دن پیدا ہوئے اسی دن ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ مثل مشہور ہے کہ جس کا باپ نہ رہے وہ بادشاہ ہوتا ہے کیونکہ اس پر روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں رہتا۔ یہ مثل بدھو میاں پر دگنی صادق آتی تھی کیونکہ ان کے پاس تو اتنی عقل بھی نہ تھی جو ان کو کچھ غلط کرنے سے روک پاتی۔

بدھو میاں کچھ بڑے ہوئے تو ان کی اماں کو بدھو میاں کے رشتے کی فکر ہوئی۔ گاؤں میں کوئی ان کو اپنی لڑکی دینے کو تیار نہیں تھا۔ اماں نے اپنی بیوہ بہن سے بات کی کہ وہ ان کو اپنی اکلوتی لڑکی کا رشتہ دے دے۔ خالہ ناراض ہوئی، کہنے لگی کہ ”کیا مطلب؟ اپنی پھول جیسی بیٹی کا ہاتھ ایک بدھو کے ہاتھ میں دے دوں؟ یہ نہیں ہو سکتا“۔ لیکن پھر اس نے بہن کی محبت سے مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دیے۔ منگنی ہو گئی۔

بدھو میاں نے ہر روز اپنی خالہ کے گھر کے چکر لگانے شروع کر دیے۔ لوگوں نے باتیں بنانی شروع کر دیں کہ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ لیکن بدھو میاں کو جو ادھر سے اچھے اچھے کھانے ملے تو ان کو کچھ پروا نہ ہوئی کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔

ایک دن بدھو میاں اپنی منگیتر کے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو منگیتر کی سہیلی دکھائی دی جو کنویں سے پانی بھر رہی تھی۔ ”اوہ بدھو یہاں آؤ اور یہ پانی میرے گھر تک لے جاؤ“۔ اس نے کہا۔ بدھو میاں قریب گئے تو لڑکی نے ان کو منگیتر کے حوالے سے چھیڑنا شروع کر دیا۔ بدھو میاں کو تاؤ آیا اور انہوں نے لڑکی کو دھکا دے کر کنویں میں پھِینک دیا۔ وہ ڈوب کر مر گئی۔

بدھو میاں شام کو گھر واپس پہنچے تو اماں نے سمجھایا کہ انہیں منگیتر کے گھر اتنا زیادہ نہیں جانا چاہیے۔ سارے گاؤں کی لڑکیاں ان کا مذاق اڑانے لگیں گی۔
بدھو میاں نے سر ہلا کر کہا ”لڑکیاں ایسی جرات کریں گی تو میں ان سے نمٹ لوں گا۔ آج ایک لڑکی نے میرا مذاق اڑایا تھا تو میں نے اسے گردن سے پکڑ کر کنویں میں پھِینک دیا۔ اب وہ مری پڑی ہے“۔

بدھو میاں کی اماں کے ہوش اڑ گئے۔ وہ بھاگی بھاگی کنویں پر گئی تو اس میں لڑکی کی لاش تیر رہی تھی۔ اماں نے ہزار جتن کر کے لاش باہر نکالی اور اسے پتھر باندھ کر نزدیکی دریا میں پھینک دیا۔ واپسی میں اسے ایک مری ہوئی بکری دکھائی دیا تو اس نے بکری کو اٹھایا اور لے جا کر کنویں میں پھینک دیا اور گھر واپس آ گئی۔ دیکھا تو بدھو میاں سکون سے سو رہے تھے۔

اماں کو پتہ تھا کہ اس کا بدھو بیٹا گاؤں بھر کو اپنا کارنامہ بتا دے گا۔ اس نے بہت سے گلگلے بنائے اور صحن میں بکھِیر دیے اور بدھو میاں کو جگا کر کہنے لگی کہ ”بدھو میاں، جاگو، باہر گلگلوں کی بارش ہوئی ہے۔ جا کر خوب کھاؤ“۔
بدھو میاں کو میٹھے میٹھے گلگلے بہت پسند تھے۔ فوراً باہر نکلے تو دیکھا کہ واقعی صحن میں گلگلے پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جی بھر کر کھائے۔

رات بھر گاؤں والے گمشدہ لڑکی کو ڈھونڈتے رہے۔ صبح بدھو میاں گھر سے باہر نکلے تو جگہ جگہ گاؤں والوں کی ٹولیاں دیکھ کر حیران ہوئے۔ ”کیا ہو رہا ہے؟ “ انہوں نے پوچھا۔
”بدھو میاں کل شام جعفر کی لڑکی پانی بھرنے گئی اور اب وہ کہیں نہیں مل رہی ہے“۔
”تو اس میں شور مچانے کی کیا بات ہے۔ مجھ سے پوچھ لیتے۔ میں نے اس لڑکی کو گردن سے پکڑ کر کنویں میں پھِینک دیا تھا۔ تم نے اسے کنویں میں نہیں ڈھونڈا؟ “ بدھو میاں بولے۔

سب لوگوں نے بدھو میاں کو پکڑ لیا اور گمشدہ لڑکی کے باپ جعفر کے گھر لے گئے۔ ”ہمیں دکھاؤ تم نے اسے کہاں پھینکا ہے؟“
بدھو میاں ان کو لے کر کنویں کی طرف چل پڑے۔
راستے میں ایک شخص نے پوچھا ”تم نے اسے کب مارا تھا بدھو؟ “
”کیا احمق لوگ ہو تم؟ کل شام جب آسمان سے گلگلے برسے تھے اس سے کچھ دیر پہلے مارا تھا“۔
وہ شخص بے ساختہ چلایا ”ہم واقعی احمق ہیں جو بدھو میاں کی باتوں میں آ کر وقت ضائع کر رہے ہیں“۔ لیکن دوسرے لوگوں نے کہا کہ شاید بدھو میاں کی بات میں حقیقت ہو تو کنویں پر چل کر دیکھتے ہیں۔

کنویں پر پہنچ کر انہوں نے بدھو میاں کو کہا ”جاؤ بدھو لڑکی کو باہر نکالو“۔
بدھو میاں نے کمر سے رسی باندھی اور کنویں میں اتر گئے۔ بدھو میاں بہترین تیراک تھے۔ انہوں نے پانی میں ڈبکی لگائی تو انہیں پانی کی تہہ میں کچھ ملا۔ وہ پانی سے اوپر آئے اور چلائے ”جعفر چچا کیا تمہاری لڑکی کے سر پر دو سینگ ہیں؟ “

”اسے اوپر لاؤ، اسے اوپر لاؤ۔ ہمیں خود دیکھنے دو“۔ جعفر غصے سے چلایا۔
بدھو میاں نے دوبارہ غوطہ لگایا۔ کچھ دیر بعد ابھرے اور کہنے لگے ”کیا تمہاری لڑکی کی چار ٹانگیں ہیں؟ “
یہ سن کر ایک شخص نے کہا ”اس بدھو کے ساتھ وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟ “ مگر باقی لوگ چلائے ”لاش اوپر لاؤ بدھو، لاش اوپر لاؤ“۔

بدھو میاں نے تیسری مرتبہ غوطہ لگایا اور اس بار اتنی دیر نیچے رہے کہ لوگ پریشان ہو گئے۔ آخر کار وہ ابھرے اور چلا کر پوچھا ”چاچا کیا تمہاری بیٹی کی ایک لمبی سی دم ہے؟ “
اب لوگ بہت زیادہ ناراض ہوئے۔ ”تم اسے اوپر کیوں نہیں لاتے احمق؟ “ اور اسے پتھر مارنے لگے۔

بدھو میاں نے جلدی سے دوبارہ ڈبکی لگائی۔ اب وہ بہت ہی زیادہ دیر تک نیچے رہے۔ لوگوں کو لگا کہ کہیں بدھو میاں ڈوب ہی نہ گئے ہوں۔ آخر کار بدھو میاں پانی سے باہر نکلے۔ ان کے ہاتھ میں بکری کی لاش تھی۔ ”دیکھو کیا یہ وہی لڑکی نہیں ہے جسے تم تلاش کر رہے تھے؟ “ بدھو میاں نے پوچھا۔

اوپر کھڑے کچھ لوگ ہنسنے لگے کہ اتنے بدھو شخص کی بات پر اعتبار کرنا حماقت تھی اور کچھ لوگ نہایت غصے ہوئے کہ بدھو میاں نے سب کا وقت ضائع کیا ہے اور کہا کہ رسی کھینچ کر بدھو میاں کو ڈوبنے دیا جائے۔

جعفر نے کہا کہ ”نہیں، اس احمق کو باہر نکالو۔ بدھو تو ہم خود تھے جو اس کی بات پر یقین کر لیا“۔
بدھو میاں گھر واپس آئے تو ان کی اماں نے اپنے بچے کی جان بچنے پر خوشی منائی مگر گاؤں بھر میں بدھو میاں کا اتنا مذاق بن گیا کہ ان کی خالہ نے منگنی توڑ دی۔

بدھو میاں نے عقل لڑائی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1195 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar