بدھو میاں نے عقل لڑائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دن بدھو میاں بلا مقصد سڑکیں ناپ رہے تھے کہ ایک سپاہی ادھر سے گزرا۔ اس نے کاندھے پر ایک مٹکا اٹھایا ہوا تھا اور خوب تھکا ماندا دکھائی دے رہا تھا۔

”اے لڑکے، یہ گھی سے بھرا ہوا مٹکا لے کر میرے ساتھ چلو تو میں تمہیں اجرت میں تین پیسے دوں گا“۔ سپاہی نے ہٹے کٹے بدھو میاں کو دیکھ کر کہا۔ بدھو میاں کو کبھی اتنے پیسے نہیں ملے تھے، انہوں نے خوشی خوشی مٹکا اٹھا کر سر پر رکھ لیا اور چل پڑے۔ ساتھ ساتھ ان کا دماغ بھی چلنے لگا۔

میں کتنا خوش قسمت ہوں۔ یہ سپاہی مجھے پورے تین پیسے دے گا۔ میں اتنی بڑی رقم کیسے استعمال کروں گا؟ میں ایسا کروں گا کہ بازار سے ایک مرغی خرید لوں گا۔ وہ بہت سے انڈے دے گی۔ ان میں سے چوزے نکلیں گے۔ میں یہ ساری مرغیاں بیچ کر ایک بھیڑ خرید لوں گا۔ کچھ دن بعد بھیڑ بچے دے دی تو میں ان سب کو فروخت کر کے گائے خرید لوں گا۔ جب گائے بچے دے گی تو میں ان سب کو بیچ کر بھینس خریدوں گا۔ بھینس اور اس کے بچے بیچ کر میں ایک گھوڑا خریدوں گا۔ جب میں گھوڑے پر بیٹھ کر شان سے سیر کروں گا تو پورے گاؤں کی لڑکیاں ایک دوسرے کو کہنیاں مار مار کر کہا کریں گی کہ وہ دیکھو، بدھو گھوڑے پر بیٹھا کتنا شاندار لگ رہا ہے۔

میں ان میں سب سے دولت مند لڑکی سے شادی کروں گا اور میرے چار پانچ بچے ہوں گے۔ جب وہ گول مٹول سے بچے میرے پاس آئیں گے تو میں سر تھوڑا سا نیچا کر کے ان کو چوم لوں گا۔
بدھو میاں نے بے خیالی میں سر نیچا کر کے بچے کو چومنے کا ایکشن بنایا اور دھڑام سے ان کے سر پر رکھا ہوا گھی کا مٹکا زمین پر گرا اور ٹوٹ گیا۔

سپاہی غصے سے دیوانہ ہو گیا۔ ”بدمعاش، یہ گھی میں راجہ کے لئے لے جا رہا تھا۔ اب میرے ساتھ چلو۔ راجہ تمہیں قرار واقعی سزا دے گا“۔ سپاہی بدھو میاں کو لے کر چل پڑا۔

وہ کچھ ہی آگے گئے تھے کہ دیکھا کہ سامنے سے ایک خچر دوڑا آ رہا ہے اور پیچھے پیچھے ایک بنیا چلاتا ہوا دوڑا آ رہا ہے ”میرا خچر بھاگ گیا ہے، کوئی اسے دو ڈنڈے مارے تاکہ یہ رک جائے“۔

یہ سنتے ہی بدھو نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور کھینچ کر ایک لاٹھی خچر کے سر پر ماری۔ خچر مر کر گر گیا۔ بنیا رونے لگا ”تم نے میرا خچر مار ڈالا ہے، میں تمہیں راجہ کے پاس لے کر جاؤں گا اور سزا دلواؤں گا“۔

تینوں راجہ کے دربار کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ایک جھونپڑا آیا جس کے باہر ایک بہت بوڑھا آدمی اور عورت بیٹھے تھے۔ یہ تینوں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر آرام کرنے لگے۔ سپاہی اور بنیے نے بوڑھے اور بڑھیا کو کہا ”تم جانتے ہو یہ کون ہے؟ یہ بدھو ہے“۔

بڑھیا کو بدھو میاں کا مذاق اڑانے کی سوجھی۔ کہنے لگی ”بدھو میاں، یہ بتاؤ کہ ہنومان نے راون کی لنکا کیسے ڈھائی تھی اور کیسے دس سروں والے راون کو مارا تھا؟ “
”دیکھو بڑھیا مجھے تنگ مت کرو۔ کیا تم دیکھ نہیں رہی ہو کہ میں کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں؟ “ بدھو میاں چڑ کر بولے۔ لیکن بڑھیا یہ چڑانے والے انداز میں یہ سوال پوچھتی رہی۔

تنگ آ کر بدھو میاں نے کہا ”دیکھو سپاہی، دیکھو بنیے۔ تم گواہ رہنا کہ یہ عورت یہ جاننا چاہتی ہے کہ لنکا کیسے ڈھائی گئی تھی اور راون کیسے مرا تھا۔ میں اسے بتانے کی بجائے دکھا دیتا ہوں ورنہ یہ میری بات کا یقین نہیں کرے گی اور مذاق اڑائے گی“۔ یہ کہہ کر بدھو میاں نے دیوار سے لگی کلہاڑی اٹھائی اور ایک وار میں بوڑھے کا سر تن سے جدا کر دیا۔ ”دس سروں والا راون ایسے مرا تھا“ اس کے بعد اس نے چولہے سے جلتی لکڑیاں اٹھا کر پھونس کی بنی جھونپڑی کو آگ لا دی۔ ”ہنومان نے لنکا ایسے آگ لگا کر ڈھائی تھی“۔

عورت کو بہت غصہ چڑھا۔ وہ کہنے لگی ”میں تمہیں راجہ کے پاس لے کر جاؤں گی اور تمہیں پھانسی دلواؤں گی“۔ تینوں بدھو میاں کو پکڑ کر راجہ کے دربار کی طرف چلے۔ راستے میں ایک تیل فروش کی دکان دکھائی دی۔

”دیکھو میرے بالوں کا کیا حال ہوا ہوا ہے۔ میں اس حلیے میں راجہ کے پاس نہیں جا سکتا۔ میں بالوں میں تیل لگاتا ہوں تاکہ کچھ بہتر لگوں“۔ بدھو میاں وہیں پسر گئے۔ سپاہی نے اجازت دے دی اور بدھو میاں دکان کے اندر چلے گئے۔ دیواروں پر ہر طرف تیل کے مٹکے اور مرتبان رکھے ہوئے تھے۔

بدھو میاں نے دکان پر بیٹھی تیلن سے کہا ”ماں جی مجھے تین کوڑیوں کا تیل دے دو“ اور ہاتھ آگے پھیلا دیے۔ تیلن نے ایک ڈوئی سے تیل نکالا اور بدھو میاں کے ہاتھ پر ڈالنے لگی۔ بدھو میاں نے پنجہ کھول دیا اور تیل انگلیوں کے بیچ سے نیچے فرش پر گر گیا۔

تیلن نے بدھو میاں کو اداس دیکھ کر اس کی دل دہی کی کوشش کی ”اوہ لڑکے، آج تو تمہارا خوش قسمت دن ہے۔ زمین پر تیل کا گرنا تو بہت خوش قسمتی کی بات ہے۔ تم کسی بڑی مصیبت سے بچنے والے ہو“۔

یہ سن کر بدھو میاں کا دماغ چلنے لگا ”میں نے تھوڑا سا تیل زمین پر گرایا ہے اور یہ مجھے کسی بڑی مصیبت سے بچا لے گا۔ تو میں ایسا کرتا ہوں کہ اس عورت کے احسان کا بدلہ چکاتا ہوں تاکہ یہ بھی مصیبت سے بچ جائے“۔ یہ سوچ کر بدھو میاں نے ڈنڈا اٹھایا اور دکان میں سارے مٹکے توڑ دیے تاکہ ان میں موجود تیل بہہ کر زمین پر گر جائے۔

تیلن غصے سے لال پیلی ہو گئی۔ کہنے لگی ”تم نے میرا اتنا زیادہ نقصان کیا ہے۔ میں تمہیں راجہ کے پاس لے کر جاؤں گی اور سزا دلواؤں گی“۔ چاروں بدھو میاں کو لے کر راجہ کے دربار کی طرف چل پڑے۔

مقدمہ راجہ کی عدالت میں لگا۔ سب سے پہلے سپاہی نے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ ”میں نے اس شخص کو شاہی مطبخ کے لئے پانچ روپے کا گھی اٹھا کر چلنے کی مزدوری دی تھی۔ لیکن اس نے گلی میں گھی گرا کر خاک میں ملا دیا“۔

راجہ نے بدھو میاں سے پوچھا ”تمہارا نام کیا ہے؟ “
”میرا نام بدھو میاں ہے۔ اگر راجہ مجھے اجازت دے تو میں اپنے مقدمے کی سچائی سامنے رکھ دوں“۔ راجہ نے بدھو میاں کو بولنے کی اجازت دے دی۔

”میں نے سپاہی کی مزدوری تین پیسے کی اجرت کے بدلے قبول کی۔ میں راستے میں یہ سوچنے لگا کہ اس بڑی رقم کو کیسے خرچ کروں گا۔ میں ایسا کروں گا کہ بازار سے ایک مرغی خرید لوں گا۔ وہ بہت سے انڈے دے گی۔ ان میں سے چوزے نکلیں گے۔ میں یہ ساری مرغیاں بیچ کر ایک بھیڑ خرید لوں گا۔ کچھ دن بعد بھیڑ بچے دے دی تو میں ان سب کو فروخت کر کے گائے خرید لوں گا۔ جب گائے بچے دے گی تو میں ان سب کو بیچ کر بھینس خریدوں گا۔ بھینس اور اس کے بچے بیچ کر میں ایک گھوڑا خریدوں گا۔ میں گاؤں کی سب سے دولت مند لڑکی سے شادی کروں گا اور میرے چار پانچ بچے ہوں گے۔ جب میں نے ان بچوں کو تھپکی دینے کے لئے اپنا سر نیچے کیا تو گھی کا مٹکا نیچے گھر گیا۔ لیکن میرا اتنا زیادہ مال و دولت کا نقصان ہونے کے باوجود کیا مجھے ہی مجرم قرار دیا جائے گا؟ “

راجہ یہ سن کر سمجھ گیا کہ بدھو میاں واقعی بدھو ہیں۔ وہ ہنسنے لگا۔ وہ سپاہی سے کہنے لگا کہ ”دیکھو، تین پیسوں کی خاطر اس غریب کی تمام مرغیاں، بھیڑ بکریاں، گائے بھینیسں اور بال بچے جاتے رہے ہیں۔ جبکہ تم نے کل پانچ روپے گنوائے ہیں۔ اس کو معاف کیا جاتا ہے“۔

راجہ نے اگلے مدعی کو بولنے کا کہا۔ بنیا آگے بڑھا اور کہنے لگا ”میں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر اس نے میرے خچر کو ڈنڈا مار کر مار ڈالا ہے“
”کیا تم نے اس کے خچر کو مارا ہے“ راجہ نے پوچھا۔
”ہاں میں نے ایسا کیا۔ اس نے مجھے سے بار بار چلا کر درخواست کی تھی کہ میں اس کے خچر کو ڈنڈا ماروں۔ بلکہ اس نے تو دو ڈنڈے مارنے کو کہا تھا، میں نے تو پھر بھی صرف ایک مارا تھا“۔
”سپاہی کیا بدھو درست کہہ رہا ہے؟ “ راجہ نے پوچھا۔
”ہاں یہ درست کہہ رہا ہے“۔
راجہ نے فیصلہ سنایا ”یہ بنیے کے اپنے کہنے پر ہوا ہے۔ اسے جھوٹا مقدمہ کرنے پر پانچ کوڑے مار کر باہر نکال دیا جائے“۔

اس کے بعد اس بڑھیا کی باری آئی جس کی جھونپڑی بدھو میاں نے جلا ڈالی تھی۔
”اے راجہ، اس شخص نے میرے شوہر کا سر کاٹ ڈالا اور میرا گھر جلا دیا۔ مجھے انصاف دو“۔
راجہ نے پوچھا ”کیا یہ بڑھیا ٹھیک کہہ رہی ہے بدھو میاں؟ “

بدھو میاں نے جواب دیا ”یہ درست ہے۔ لیکن اس نے مجھے بار بار کہا تھا کہ اسے بتاؤں کہ کیسے راون کا سر کاٹا گیا تھا اور لنکا کو فتح کیا گیا تھا۔ میں نے تو صرف اس کی بات مانی ہے۔ کیا اس نے ایسا نہیں کہا تھا؟ “
بڑھیا کو ماننا پڑا کہ ایسا ہی ہوا تھا۔
بدھو میاں بولے ”میں نے سوچا کہ اسے بتانے کی بجائے دکھا دیا جائے کیونکہ کانوں سنی گئی بات میں اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا آنکھوں دیکھی کا ہوتا ہے“۔
راجہ نے فیصلہ سنایا ”بدھو کا کوئی قصور نہیں۔ جو تم نے کہا تھا اس نے وہی کیا۔ آئندہ کسی سے کوئی فرمائش کرتے ہوئے محتاط رہنا۔ میرے نوکر تمہیں نیا گھر دے دیں گے۔ “

آخر میں تیلن نے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ بدھو میاں نے اس کے تیل کے سارے برتن توڑ کر تیل بہا دیا ہے۔ راجہ نے بدھو میاں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ایسا کیا ہے تو بدھو میاں نے اقرار کیا۔
راجہ نے پوچھا ”تم نے ایسا کام کیوں کیا؟ “
بدھو میاں بولے ”میں اس کی دکان میں تین کوڑیوں کا تیل خریدنے گیا تاکہ شاہی دربار میں آنے سے پہلے اپنا حلیہ درست کر لوں۔ لیکن تیل میری انگلیوں کے بیچ سے زمین پر گر گیا۔ اس عورت نے مجھے کہا کہ تیل زمین پر گرنا اچھی قسمت کا شگون ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر اتنا تھوڑا سا تیل گرنے سے میں خوش قسمت ہو جاؤں گا، تو کیوں نہ دکان کا سارا تیل گرا کر خود کو، اسے اور سب کو خوش قسمت بنا دیا جائے۔ اس لئے میں نے اس کی اور اپنی خاطر سارا تیل گرا دیا“۔

راجہ نے فیصلہ سنایا ”اے عورت، تمہیں پتہ چل گیا تھا کہ یہ واقعی عقل کا پورا ہے اور تمہیں اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے تھا۔ یہ واضح ہے کہ اس نے تمہاری باتوں سے یہ سمجھا کہ تم اس لئے اپنی قسمت بہتر نہیں کر پا رہی ہو کہ تم میں اتنی طاقت نہیں کہ تیل کے مٹکے توڑ سکو اس لئے اس نے تمہاری خاطر توڑ دیے۔ اصل قصوروار تم ہو“۔

راجہ نے بدھو میاں کو بری کر دیا۔ بدھو میاں گھر واپس گئے اور اپنی اماں کو سارا قصہ سنایا۔ اماں نے اپنا سر پکڑ لیا اور کہنے لگی ”بدھو میاں ہر کام الٹا کرتا ہے، یہ خدا کی مہربانی ہے کہ اسے سیدھا کر کے بچا لیتا ہے“۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔


بدھو میاں کا رشتہ ہوا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1202 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar