کمرشل ازم بیچ چوراہے میں برہنہ ہونے کا نام نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”متوازی سینما“، عمومی طور پر ’آرٹ‘ فلم کے نام سے پکارا جاتا ہے، اور کمرشل سینما کو اس کا متضاد سمجھا جاتا ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ کمرشل فلم ’آرٹ‘ نہیں۔ کسی فلم کی ناکامی، کسی فلم کا بڑی حد تک بور کرنا، کیا یہی ’آرٹ‘ ہے؟ یہ آسانی بھی ہے، کہ ہر وہ فلم جو مبہم ہو، ناکام ٹھیرے، ہم یہ کہ کر آگے بڑھ جائیں، کہ یہ آرٹ فلم تھی، فن سے ناآشنا کیا جانیں آرٹ کیا ہوتا ہے؛ وغیرہ۔

مشکل پسندی فن کاری نہیں، سہل بیانی کا فن محنت طلب ہے۔ ہر پیش کش کے ساتھ ایک سوال جڑا ہوتا ہے، کہ یہ کس کے لیے ہے؟ یعنی کس کو مخاطب کیا جا رہا ہے؟ کمرشل سینما کے فلم میکر کو سب سے پہلے اپنی ’ٹارگٹ آڈینس‘ کی شناخت کرنا ہے، کہ آپ کس سے مخاطب ہیں۔ عوام کے ایک بڑے گروہ سے؟ مخصوص گروہ سے؟ اس کے بعد یہ سوالات کہ جس کو مخاطب کیا جا رہا ہے، اس کی ذہنی اپچ کیا ہے؟ اسے کے مسائل و وسائل، اس کے سوچنے کا انداز، شعوری سطح، اس کی ضروریات کیا ہیں۔ اسی طرح کی باتوں کو ذہن میں رکھتے، وہ کہنا، جو آپ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ایسے کہ سامع، ناظر کی دل چسپی کو، اس کی توجہ کو کیسے حاصل کیا جائے۔ توجہ اور دل چسپی حاصل کر کے آپ اپنی بات کہیں، وہ بات، وہ خیال، وہ فلسفہ، وہ فِکر آپ ہی کی ہے۔

کتاب ہو، کہ ٹیلے ویژن ڈراما، یا فلم؛ ایک طبقے کا خیال ہے، کہ آپ جو لکھیں مقصد کے تحت لکھیں۔ کہنے والے کا ’مقصد‘ سے کیا مقصد ہے۔ کیا سمجھا جائے کہ وہ تبلیغ کے پہلو پر زور دے رہا ہے؟ ڈرامے یا فلم کو وعظ کے باٹ سے تولتا ہے؟ گویا فلم ساز مبلغ ہے، اور اُس کا موازنہ استاد سے، یا خطیب سے ہے؟ تقریر ہو، پھر تقریر کا مقام، حاضرین کی تبدیلی سے مقرر کا انداز بدل جاتا ہے۔ مقرر کے پہناوے سے خوش الحانی تک فنِ تقریر کے اپنے لوازمات ہیں۔ خطابت کے جوہر دکھانے کی اپنی تکنیک ہیں۔ ایسے ہی اخبار، رسالہ، کتاب، ٹی وی، اور فلم کی تکنیک اپنی اپنی ہیں۔

کتاب لکھتے کالم لکھنے کے اصول اپنائیں جائیں، یہ نہیں ہوگا۔ فلم لکھتے نثر کی تکنیک کو بروئے کار لیا جائے، تو فاش غلطی ہوگی۔ خبر نامے میں ڈرامے کی تکنیک، خبر کا گلا گھونٹنے والی بات ہے۔ شاید یہاں مقصد کے بہ جائے موضوعات کہنا ٹھیک ہو۔ مقصد موضوع ہی میں ہو، یا موضوع میں ایک ’مقصد‘ ڈالا جائے؟ پھر ہر میڈیم کی کیفیات بھی الگ الگ ہیں۔ جہاں تک کتاب کی بات ہے، تو اس کے مطالبے دِگر ہیں، قاری وہی کتاب خرید کر لاتے ہیں، جو اُن کے ذوق کی تسکین کرتی ہے۔ اُن کا جیسا موڈ ہو، وہ اس وقت ویسی کتاب کھولتے ہیں؛ کتاب کا معاملہ زرا نجی نوعیت کا ہے۔ قاری ہوتا ہے، اور صفحے پر ناچتے حروف۔ کتاب پڑھتے پڑھتے تھک جائے، تو صفحہ موڑ کر سرھانے رکھ دیتا ہے، فرصت ملتے دوبارہ وہیں سے آغاز کر دیتا ہے۔ اگر جی نہ لگے، تو دو دو چار چارصفحات پلٹ کر آگے چلا جاتا ہے۔ کچھ دانستہ یا سہوا چھوٹ جائے، کوئی معنی رہ جائے، تو پچھلے صفحات پر جا کر ربط ڈھونڈ لیتا ہے۔

ایسے ہی ٹیلے وژن جو گھر گھر میں ہے، اس کی ضروریات اور ہیں۔ ٹیلے ویژن پروگرام ایک ایسے مہمان کی صورت ہے، جو اجازت لیے بنا گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ آپ کس حالت میں ہیں، کس موڈ میں بیٹھے ہیں، گھر کے دفتر کے کتنے کام باقی ہیں، یہ اس کا درد سر نہیں۔ آپ کے پہلو میں آپ کے والدین بیٹھے ہیں، یا بہن بھائی، اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ تو جب ٹیلے ویژن پروگرام بنائے جاتے ہیں، یہ دیکھا جاتا ہے، کہ ایسا پروگرام ہو، سماج کے مجموعی مزاج، اخلاقیات، عقائد، ضروریات کو مدِ نظر رکھ کر تیار کیا جائے۔

’ٹارگٹ آڈینس‘ عمومی ہوتی ہے، لیکن دن کے مختلف اوقات میں ’ٹارگٹ آڈینس‘ بھی بدلتی ہے۔ دفتری اوقات کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے، کہ ان اوقات میں ٹی وی دیکھا جاتا ہے، تو ناظر خواتین ہی ہوں گی، لہاذا ان کی دل چسپی کو مدنظر رکھتے پروگرام نشر کیے جائیں۔ ایسے ہی شام، رات، اور رات گئے کے پروگرام کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔ ٹیلے ویژن مفت کا مال سمجھا جاتا ہے۔ ناظر کو اس کی ماہانہ فیس کی صورت معمولی خرچ اٹھانا ہوتا ہے۔ کسی کو ایک پروگرام اچھا نہیں لگتا، تو وہ رِموٹ کا بٹن دبا کر دوسرا چینل لگا لیتا ہے، تیسرا یا چوتھا، یا ساٹھ ستر اسی چینلوں میں جو پسند آئے وہاں‌ ٹھیرتا ہے۔ کوئی پروگرام نہیں دیکھنا چاہتا تو سوئچ آف کر دیتا ہے۔

کمرشل سینما کا پہلا مقصد تفریح فراہم کرنا ہے۔ تفریح کیا ہے؟ اس کی کوئی ایک تعریف کی جاسکتی ہے؟ ہر کوئی الگ طرح سے حِظ اٹھاتا ہے، تو ہر فرد کے لیے تفریح کے معنی کچھ اور ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ہر گروہ اس کی تعریف کچھ کرے گا۔ آخر میں ہم ایک ایسی تعریف تک پہنچیں گے، جو کل سماج کی تفریح کی تعریف کے قریب تر ہو۔ یعنی معاشرہ فلاں فلاں لوازمات کی موجودی میں حِظ اٹھاتا ہے۔

جب ہم دوستوں کی محفل میں موجود ہوتے ہیں، تو ہماری گفت گو کا الگ ڈھنگ ہوتا ہے؛ گھر میں اور؛ دفتر کے ضابطے دوسرے ہیں۔ دفتر میں آپ کو رقص کی اجازت نہ ملے، لیکن دوستوں کی محفل میں آپ جھوم لیتے ہیں۔ دفتر میں جھومنا آداب کی خلاف ورزی، تو دوستوں کی محفل میں تکلف الزام بن جاتا ہے۔ دوستوں کا کیا مقصد ہے؟ کیا دفتر مقصد ہے؟ کیا گھر مقصد ہے؟ سبھی مقصد ہیں، یا کچھ بھی مقصد نہیں! کوئی اسپورٹس پروگرام کیوں دیکھتا ہے؟ کرکٹ میچ دیکھنے کا کیا مقصد ہے؟

فلم کی بات کی جائے تو یہ اول الذکر دونوں سے الگ مطالبہ کرتی ہے۔ ایک ہی معاشرے کے ٹیلے ویژن پروگرام، کتاب، اور فلم کی تیاری اور سینسر ایک دوسرے سے مختلف پیمانوں اور امور کو دیکھتے ہوتی ہے۔ فلم وہ میڈیم ہے، کہ فلم بین فلم کے بارے میں معلومات لے کر جاتے ہیں، ریویو پڑھ لیتے ہیں، اور پھر فیصلہ کرتے ہیں، کہ یہ فلم دیکھی جائے یا نہیں؛ بچوں کے ساتھ دیکھی جائے، یا دوستوں کے ساتھ۔ پھر یہ بھی ہے کہ تماشائی فلم دیکھنے جاتے ہیں، تو مقدور بھر تیاری کے ساتھ۔ زادِ راہ لے کر نکلتے ہیں۔ ان کی ملاقات ’فلم‘ کے ساتھ ہوتی ہے، ایسے میں وہ کسی اور سے ملنے سے معذرت کرلیتے ہیں۔ فرصت کے لمحات نکال کر آتے ہیں۔ سینما ہال کی تاریکی میں اُن کی نگاہیں روشن پردے پر ہوتی ہیں، وہ تفریح کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے ایکشن فلم کی منادی کی ہے، تو ایکشن کا دل دادہ آیا ہے؛ آپ نے رومان کی نوید دی ہے، تو کوئی پروانہ سینما ہال میں ہے؛ آپ نے ہر ناظر کے مزاج کا خیال رکھتے فلم بنائی ہے، تو کسی ایک کو بھی مایوس نہیں کرنا، ہر اچھا فلم ساز یہ جانتا ہے، کہ اسے ناظر کی دل چسپی کو کیسے حاصل کرنا ہے۔ جہاں وہ چوکتا ہے، نقصان اٹھاتا ہے۔

ذہن نشیں رہے، ناظر ٹکٹ خرید کر سینما ہال میں کالم پڑھنے نہیں آیا، کتاب پڑھنے نہیں آیا۔ تبلیغ سہنے نہیں آیا، آپ کی تقریر سننے نہیں آیا۔ ناظر (ٹارگٹ آڈینس) کے ذوق کی تسکین، فلم کا یہی مقصد ہے۔ فلم ساز کی یہی ذمہ داری ہے۔

کچھ کہتے ہیں، فلم، ٹیلے ویژن ڈرامے، کتاب میں ’پیغام‘ دیا جانا چاہیے۔ یہ کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھا جائے گا، کہ کتاب یا فلم کا کا موضوع کیا ہے۔ فلسفے کی کتاب ہے، تو تفریح سے مراد چلبلے جملے نہیں کہلائیں گے۔ فلسفے سے شغف رکھنے والے کے لیے فلسفہ پڑھنا ہی تفریح ہے۔ شگفتہ ادب ہے، تو خطیبانہ واعظ بے کار جائیں گے۔ مذہبی مسائل کی کتاب ہے، تو تقدیس کا مطالبہ کرتی ہے۔ داستان بیان کی جارہی ہے، تو منظر نگاری کی بڑی اہمیت ہوگی۔ پینٹنگ کی نمایش ہے، تو ’ٹارگٹڈ آڈینس‘ کچھ اور ہی ہوجاتی ہے۔

جب فن کار کچھ تخلیق کرتا ہے، تو وہ اظہار خود ایک پیغام ہی ہوتا ہے۔ فن کار معاشرے سے جڑا ہوا نہ ہو، یہ محسوس نہ کرے کہ رشتے ناتے، تعلق، خاندانی، سیاسی، معاشرتی حالات کس نہج پر ہیں، تو اس کا فن ہوا میں معلق ہوگا۔ معلق تخلیق میں بھی کوئی نہ کوئی پیغام ہوتا ہے، لیکن وہ پیغام معلق تخلیق کے ساتھ معلق رہتا ہے۔ فن کار اپنے سماج سے جڑا ہو، تو وہ اپنے ارد گرد کے کرداروں، کہانیوں کو سامنے لاتا ہے۔

پھر یہ اہم ہے کہ وہ اپنے ’ٹارگٹ آڈینس‘ کو سمجھے۔ وہ کس سے مخاطب ہے، اور جس سے مخاطب ہے، اس سے ابلاغ کے لیے کون سی زبان، کون سی لفظیات کا سہارا لیتا ہے۔ تشبہیات، استعارے، علامتیں ایسی منتخب کرے، جس سے اس کی بات کی تفہیم میں‌ آسانی ہو۔ ایسے مسائل جن سے کہانی کا واسطہ نہ ہو، ایسی علامتیں جو دھرتی سے لگا نہیں کھاتی ہوں، ایسے استعارے جو گنجلک ہوں، ایسی تشبہیات جو غیر ہوں۔ ابلاغ کی راہ میں حائل ہوں گی۔ سماج کے ایک بڑے گروہ کو مائل کرنے کے لیے آپ کو انھی کی زبان میں انھی کے دل کی بات بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ اس کے لیے برصغیر کے صوفیائے کرام کے انداز پیش نظر ہوں، کہ وہ فلسفیانہ بات کو بھی عام فہم انداز میں کہ جاتے تھے۔ کیوں کہ ان کا ’ٹارگٹ‘ عمومی گروہ تھا، جو ان پڑھ کسان بھی ہوسکتا ہے، اور مدرسے کا طالب علم بھی، تاجر بھی۔

کمرشل سینما تفریحی سینما ہے۔ تفریح فراہم کرنے والے کے فن کا تقاضا ہے، کہ وہ ناظر کی توجہ نہ بٹنے دے۔ کمرشل سینما سوقیانہ پن نہیں، کہ توجہ کے حصول کے لیے بیچ چوراہے میں کپڑے اتار دیے جائٰیں، اور اقدار کا جنازہ نکال دیا جائے۔ کوئی توجہ حاصل کرنے کے لیے لچر پن یا سستے طریقوں کا انتخاب کرے گا، تو تخلیق کا معیار گرا دے گا، اور فنی اصولوں کی پاس داری کرتے، حاصل کردہ علوم، مشاہدات، تجربات اور اپنی جمالیاتی حسیات کو بروئے کار لاتے، بنائے گئے پلاٹ کے اندر رہتے، اپنا نقطہ نظر بیان کرے گا، تو ایک طرف جہاں فن کی ترویج ہوگی، وہیں ناظر کے ذوق کی تسکین اور ارفع کرے گا، ایسے میں ’پیغام‘، ’مقصد‘ پورا ہوگا۔ پیغام تو ہر آتی جاتی سانس میں بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 310 posts and counting.See all posts by zeffer-imran