تیسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیسرے جولاہے نے اپنا قصہ شروع کیا: بلاشبہ ان دونوں کی ذہانت بے مثال ہے مگر میری عقل نے بھی میرے سسرال میں میری خوب عزت بنائی ہے۔
میری بیوی پہلے ہی اپنے میکے جا چکی تھی۔ میں اپنے سسرال کی طرف چلا تو ساتھ دینے کو گاؤں کے نائی کو بھی ساتھ لے لیا۔ جب ہم سسرال پہنچے تو میری ساس نے نئی چادریں چارپائی پر بچھائیں اور ہمیں عزت سے بٹھایا۔ پھر پوچھا ”اتنے سفر کے بعد تمہیں بھوک تو بہت لگی ہو گی؟ “

نائی نے جواب دیا ”ہاں، بہت زیادہ“۔ وہ ابلے ہوئے چاول اور گھی شکر لے آئی اور ہمارے سامنے رکھ دیے۔ اس کے بعد وہ نزدیک ہی پیڑھی پر بیٹھ کر چرخا کاتنے لگی۔ نائی ایک لمحے کا توقف کیے بغیر کھانے پر پل پڑا لیکن مجھے کھانے کو چھوتے ہوئے بھی شرم آ رہی تھی کیونکہ میری ساس سامنے ہی بیٹھی تھی۔ میں نے ایک دانہ بھی نہ چکھا۔

نائی نے مجھے ٹہوکا دیا ”بہت لذیذ کھانا ہے۔ تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟ “
”میرا دل نہیں کر رہا ہے“ میں نے جواب دیا۔
یہ بات سن کر میری ساس قریب آئی اور پوچھنے لگی ”بیٹے تم کیوں کھانا نہیں کھا رہے ہو؟ “
”مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے“۔ میں نے جواب دیا۔
نائی نے مربھکوں کی طرح لذیذ چاول کھائے اور منہ ہاتھ دھونے کنویں کی طرف چلا گیا۔

میرا انکار سن کر میری ساس دلگرفتہ ہوئی اور کچھ دور بیٹھی دوسری عورتوں کے پاس جا کر کہنے لگی ”میں نے یہ سوچ کر اپنے داماد کو چاول پکا کر دیے کہ وہ دل کھول کر کھائے گا مگر وہ تو انہیں چھو بھی نہیں رہا ہے“۔

لیکن وہ جیسے ہی ہماری چارپائی سے دور ہوئی تو میں چاولوں پر ٹوٹ پڑا اور مٹھیاں بھر بھر کر انہیں اپنے منہ میں ڈالنے لگا۔ میں نے جلدی جلدی اپنے منہ میں جتنے ممکن تھے اتنے چاول بھر لئے۔ اگر وہ چند لمحے مزید اپنی جگہ پر رہتی تو میں چاولوں کو چبا کر نگل بھی جاتا، لیکن میری بدقسمتی کہ وہ میرے چاول نگلنے سے پہلے ہی پلٹ آئی اور سامنے اپنے چرخے کے پاس بیٹھ گئی۔

اب میرا منہ پورا بھرا ہوا تھا۔ میں منہ چلاتا یا چاول نگلتا تو اسے پتہ چل جاتا کہ میں چوری چوری چاول کھا رہا ہوں۔ میں ایک سہمے ہوئے خرگوش کی طرح چپ چاپ بیٹھ گیا جبکہ میرے گال گھی شکر ملے چاولوں کے دباؤ سے پھٹنے والے تھے۔

چند لمحے میری طرف دیکھ کر وہ کہنے لگی ”یہ لڑکا کچھ بیمار لگ رہا ہے۔ اسے بھوک بھی نہیں لگ رہی اور اب اس کا منہ ایک دم سوج گیا ہے۔ خدایا، اسے کیا ہو رہا ہے؟ “ وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور بولی ”میرے بچے تم تو بہت بیمار ہو گئے ہو۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ تمہارا منہ ایسے کیوں سوج رہا ہے؟ “

اب میری حالت ایسی تھی کہ میرے منہ سے آواز نکلنا محال تھا۔ میری ساس کا پریشانی سے برا حال ہو گیا۔ وہ چیخنے لگی ”کوئی میرے داماد کو بچائے، وہ اچانک شدید بیمار ہو گیا ہے، وہ مر رہا ہے، دیکھو اس کا چہرہ کتنا خوفناک ہوتا جا رہا ہے“۔

نائی گھبرا کر دوڑا دوڑا آیا اور میری ساس کو چیختے دیکھ کر کہنے لگا ”پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ پھوڑے ہیں۔ میں ایک منٹ میں پھوڑوں کا علاج کر سکتا ہوں۔ “

میری ساس کو کچھ اطمینان ہوا۔ ”اگر تم میرے داماد کا علاج کر دو تو میں تمہیں دو بھینسیں دوں گی۔ ایک وہ جو میں نے اپنے گھر کے لئے رکھی ہوئی ہے اور دوسری وہ جو میں اپنے داماد کو تحفے میں دینا چاہتی تھی۔ مگر وہ اس کی جان کے صدقے میں دے دوں گی۔ بس تم اس کی جان بچا لو“۔

یہ سن کر نائی نے اپنا استرا نکالا اور میرے دونوں گال چیر ڈالے اور ان میں سے چاول اور شکر نکل کر باہر گرنے لگے۔
نائی نے میری ساس کو کہا ”تم دیکھ رہی ہو کہ یہ خون کیسا ہے جو پھوڑے سے نکل رہا ہے؟ اس پھوڑے میں یہ سفید سفید کیڑے پڑے ہوئے تھے۔ اگر میں یہاں موجود نہ ہوتا تو تمہارے داماد کا کوئی علاج نہ کر سکتا اور یہ کیڑے اس کے سر میں گھس کر دماغ کھا جاتے اور یہ مر جاتا“۔

میری ساس نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں بھینسیں دے دیں۔ نہ صرف میرے حصے کی بھینس چلی گئی بلکہ میرے دونوں گالوں پر گہرے زخم بھی آ گئے۔ لیکن شکر ہے کہ میں نے سسرال میں اپنی عزت بنائے رکھی۔ کوئی دوسرا ہوتا تو سسرال میں کھانا کھا کر اپنی عزت خاک میں ملا لیتا یا استرا دیکھ کر وہیں چاول نگل لیتا۔ لیکن مجھے میں عقل بھی تھی اور بہادری بھی۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ کیا میں ان دونوں سے زیادہ عقلمند اور عزت دار نہیں ہوں؟ کیا میں نے ان سے زیادہ حوصلہ اور عقلمندی نہیں دکھائی ہے؟

مسافر یہ بات سن کر کہنے لگا ”واقعی تم بہت سیانے ہو۔ اتنا سیانا مجھے ساری زندگی کوئی دوسرا نہیں ملا“۔
یہ سن کر چوتھا جولاہا اچھل پڑا اور کہنے لگا، تم نے میرا قصہ تو سنا ہی نہیں ورنہ تم ایسا مت کہتے۔ (جاری ہے)

تو جناب، سیانے اپنی عزت بنانے کے لئے چھوٹی موٹی تکلیف کی پروا نہیں کیا کرتے بلکہ وہ اپنی عزت بنی رکھنے کی خاطر عقل کا ایسا استعمال کرتے ہیں کہ سب عش عش کرتے رہ جاتے ہیں۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔ Feb 15, 2018

اس سیریز کے دیگر حصےدوسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائیچوتھے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1209 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar